وزارت خزانہ آئی پی پیز کو 2 اقساط میں واجبات ادا کرنے پر رضامند

اپ ڈیٹ 03 فروری 2021

ای میل

معاہدوں کو ہر صورت آئندہ کابینہ اجلاس سے قبل ای سی سی سے منظوری ملنی ہوگی—فائل فوٹو: اے ایف پی
معاہدوں کو ہر صورت آئندہ کابینہ اجلاس سے قبل ای سی سی سے منظوری ملنی ہوگی—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: وزارت خزانہ کی جانب سے 4 کھرب روپے کے واجبات 6 ماہ کے عرصے میں 40 اور 60 فیصد کی دو اقساط میں ادا کرنے پر رضامند ہونے کے بعد حکومت اور انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے درمیان ہونے والا معاہدہ عملدرآمد کے مرحلے میں داخل ہوگیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا تھا کہ وزارت توانائی کا پاور ڈویژن ایک سمری تیار کررہا ہے جسے بدھ کے روز کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیا جاسکے بصورت دیگر ای سی سی کو آئندہ ایک سے دو روز میں خصوصی اجلاس بلانا پڑے گا۔

عہدیدار کے مطابق معاہدوں کو ہر صورت آئندہ کابینہ اجلاس سے قبل ای سی سی سے منظوری لینی ہوگی تا کہ 12 فروری کو آئی پی پیز اور حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کی مدت ختم ہونے سے پہلے تمام قانونی کارروائیاں مکمل کرلی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: واجبات کی ادائیگی، آئی پی پیز نے حکومت کا پیش کردہ منصوبہ مسترد کردیا

حکومت کا دعویٰ ہے کہ آئی پی پیز کی بقیہ 20 سال کی مدت کے لیے 8 کھرب 36 ارب روپے کی بچت کررہی ہے۔

معاہدے کے تحت حکومت توانائی کی خریداری کے اصل معاہدے میں ترمیم کے باضابطہ معاہدے پر دستخط ہونے کے فوری بعد 40 فیصد واجبات ادا کردے گی جس میں سے ایک تہائی رقم نقد، ایک تہائی پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) اور ایک تہائی 5 سالہ اسلامی سکوک کی صورت میں ادا کی جائے گی۔

اسی طرح کا طریقہ کار بقیہ 60 فیصد ادائیگی کے لیے بھی اپنایا جائے گا یعنی ایک تہائی نقد جبکہ بقیہ 2 تہائی نصف کے تناسب سے پی آئی بیز اور سکوک کے ذریعے ادا کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: آئی پی پی کے ساتھ معاہدوں کی نگرانی کیلئے کمیٹی دوبارہ تشکیل

یہ تمام ادائیگیاں 6 ماہ کے عرصے میں کی جائیں گی لیکن پی آئی بیز اور سکوک کی صورت میں یہ 10 سالہ ادائیگی ہوگی۔

عہدیدار نے بتایا کہ حب پاور کمپنی (حبکو) اور کوٹ ادو پاور کمپنی (کیپکو) سمیت 'تقریبا تمام' آئی پی پیز حتمی سیٹلمنٹ کے لیے آن بورڈ ہیں تاہم اس میں 8 پن چکیوں کے پاور پلانٹس اور منشا گروپ کے نام سے 4 آئی پی پیز شامل نہیں ہیں جن پر ماضی میں 'اضافی ادائیگیاں' حاصل کرنے کا الزام ہے۔

عہدیدار نے مزید بتایا کہ ان 4 آئی پی پیز کا گروپ 3 رکنی مقامی ثالثی پر رضامند ہوا ہے جس میں دونوں جانب سے ایک، ایک سپریم کورٹ کے جج شامل ہوں گے جو متفقہ طور پر تیسرے رکن کو منتخب کریں گے جو کوئی ماہر قانون یا آزاد ماہر ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’حکومت نے آئی پی پیز کو 9 کھرب 56 ارب روپے اضافی ادا کیے‘

یہ ثالثی کمیشن ان چاروں آئی پی پیز کو 55 ارب روپے کی مبینہ 'اضافی ادائیگی' کے تنازع کا 5 ماہ کی مدت میں تصفیہ کرے گا۔

اس کمیشن کا فیصلہ دونوں فریقین پر مقامی قانونی چارہ جوئی یا بین الاقوامی ثالثی کی کسی سہولت کے بغیر لاگو ہوگا۔

تاہم پن چکیوں کے 8 بجلی گھروں کا مسئلہ نیشنل گرڈ اور تقسیم کار کمپنیوں کے ساتھ تخفیف کے معاملات اور آپریشن اور مرمتی لاگت برداشت کرنے کے تنازع کی وجہ سے حل نہ ہوسکا۔