نیٹو سربراہ کا افغانستان سے فوج کے انخلا میں تاخیر کا اشارہ

اپ ڈیٹ 16 فروری 2021
ضرورت سے زیادہ طویل عرصے تک افغانستان میں نہیں رہنا چاہتے تاہم صحیح وقت آنے تک ہم انخلا نہیں کریں گے، سیکریٹری جنرل نیٹو
ضرورت سے زیادہ طویل عرصے تک افغانستان میں نہیں رہنا چاہتے تاہم صحیح وقت آنے تک ہم انخلا نہیں کریں گے، سیکریٹری جنرل نیٹو

برسلز: نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ نیٹو ممالک کے وزرائے دفاع کی تعیناتی کے حوالے سے بحث سے قبل اور 'صحیح وقت آنے تک' اتحاد فوج افغانستان سے انخلا نہیں کرے گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے زیر اقتدار چار سال کی کشیدگی کے بعد اتحادیوں کے ساتھ قریب سے کام کرنے کے عہد کے بعد نیٹو کے 30 ممبر ممالک کے وزرا بدھ اور جمعرات کو اعلیٰ سطح کی ملاقات کریں گے۔

ورچوئل کانفرنس کے ایجنڈے میں سرفہرست افغانستان میں اتحادیوں کے 9 ہزار 600 مضبوط سپورٹ مشن کی تقدیر ہوگی جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی دستبرداری کے حوالے سے طالبان کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ کو افغانستان میں صحافیوں کی ہلاکتوں پر تشویش

اس تعیناتی کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا جو بائیڈن غیر ملکی افواج کو نکالنے کے لیے مئی کی آخری تاریخ پر قائم رہنے پر راضی ہوجاتے ہیں یا مزاحمت کاروں کے خونریز ردعمل کا خطرہ لیں گے۔

اسٹولٹن برگ نے میڈیا کانفرنس میں کہا کہ 'اگرچہ کوئی اتحادی ضرورت سے زیادہ طویل عرصے تک افغانستان میں نہیں رہنا چاہتا ہے تاہم صحیح وقت آنے تک ہم انخلا نہیں کریں گے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وزرا زمینی صورتحال کا جائزہ لیتے رہیں گے اور پیشرفت پر بہت قریب سے نگرانی کریں گے'۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان کے پُرامن مستقبل کا انحصار کس پر ہے؟

جو بائیڈن کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ وہ اس معاہدے پر نظرثانی کررہے ہیں اور پینٹاگون نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان وعدوں کو پورا نہیں کررہے ہیں جن میں حملوں کو کم کرنا اور القاعدہ جیسے باغی گروپوں سے تعلقات کم کرنا شامل ہیں۔

اس حوالے سے یہ توقع کی جارہی ہے کہ وزرائے دفاع کے اجلاس میں تعیناتی کے مستقبل کے بارے میں کوئی ٹھوس اعلان ممکن نہیں۔

نیٹو کے اتحادی چاہتے ہیں کہ امریکا ان سے قریبی مشاورت کرے کیونکہ ٹرمپ کی جانب سے امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرکے 2 ہزار 500 کرنے کے بعد سے وہ خود کو سائیڈ لائن محسوس کر رہے ہیں، جو 2001 میں جنگ کے آغاز کے بعد سے سب کم تعداد ہے۔

حالیہ مہینوں میں کابل حکومت کے ساتھ ہنگامہ خیز امن مذاکرات کے دوران طالبان کے تشدد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان: کابل میں فائرنگ سے سپریم کورٹ کی 2 خواتین ججز ہلاک

طالبان نے نیٹو کے وزرا کو خبردار کیا ہے کہ وہ 'قبضہ اور جنگ جاری رکھنے کے بہانے تلاش نہ کریں'۔

اسٹولٹن برگ نے کہا کہ 'طالبان کو تشدد کو کم کرنا ہوگا، نیک نیتی سے مذاکرات کرنا ہوں گے اور دہشت گرد گروہوں کے ساتھ تعاون کو روکنے کے اپنے عزم پر قائم رہنا چاہیے'۔

خیال رہے کہ کانگریس کے ذریعے جاری کردہ ایک مطالعے میں کہا گیا ہے کہ انخلا میں تاخیر کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اس سے طالبان کو کامیابی حاصل ہوگی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں