انسانی بقا کے لیے زراعت بنیادی ضرورت ہے، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 17 فروری 2021
وزیراعظم عمران خان نے بین الاقوامی زرعی ترقیاتی فنڈ کی گورننگ کونسل کے اجلاس سے ورچوئل خطاب کیا — فوٹو: ڈان نیوز
وزیراعظم عمران خان نے بین الاقوامی زرعی ترقیاتی فنڈ کی گورننگ کونسل کے اجلاس سے ورچوئل خطاب کیا — فوٹو: ڈان نیوز

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ زراعت انسانی بقا کی بنیادی ضرورت ہے اور دنیا کے 20 سے زائد ممالک غذائی حوالے سے خطرے سے دو چار ہیں جس کے لیے عالمی ادارہ بھی خبردار کر چکا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے یہ بات بین الاقوامی زرعی ترقیاتی فنڈ کی گورننگ کونسل کے اجلاس سے ورچوئل خطاب میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ 20 سے زائد ممالک غذائی حوالے سے خطرے میں ہیں اور عالمی ادارہ خوراک نے کئی ممالک کے حوالے سے خبردار بھی کیا ہے۔

مزید پڑھیں: شجرکاری مہم: آنے والی نسلوں کیلئے ضروری ہے ہم اپنا طرز زندگی تبدیل کریں، وزیراعظم

ان کا کہنا تھا کہ زراعت انسانی بقا کی بنیادی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو وبا سے بحالی کے دوران کئی چینلجز کا سامنا ہے اور اولین پائیدار ترجیح غربت اور غذائی قلت کا خاتمہ ہے، اس حوالے سے فنڈز اور سرمایہ کاری کی کمی ہے اور تجارتی عدم مساوات، زراعت اور پانی سمیت کئی مسائل کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں انسانیت کی فلاح کے لیے مشترکہ منصوبہ بندی اور اہداف طے کرنے کی ضرورت ہے۔

عمران خان نے کہا کہ کووڈ-19 کے باعث پیدا ہونے والی مسائل سے نمٹنے کے لیے گزشتہ برس قرض ریلیف کی تجویز پیش کی تھی اور جی 20، عالمی بینک اور عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے قرضوں میں ریلیف سے کچھ مدد ملی۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ تخمینوں کے مطابق ترقی پذیر ممالک کو وبا سے بحالی کے لیے تقریباً 4.3 کھرب ڈالر کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے گزشتہ خصوصی اجلاس میں ترقی پذید ممالک کو بحران سے نکالنے کے لیے میں نے متعدد تجاویز پیش کی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر غربت اور غذائی قلت کو ختم کرنا ہے تو ہمیں مزید اقدامات کرنے ہوں گے اور میں 5 نکاتی ایجنڈا تجویز کررہا ہوں۔

اپنے 5 نکات پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں زراعت کے انفرا اسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ زرعی پیداوار اور غذائی اجناس کی فراہمی ہو اور اس کے لیے چین کی بنائی گئی گرین لینڈ بڑی مثال ہے۔

مزید پڑھیں: ملک کا مستقبل 5 سال کی منصوبہ بندی سے نہیں بنتا، وزیراعظم

وزیراعظم نے کہا کہ دوسری تجویز یہ ہے کہ حکومتوں کو زرعی اور غذائی اجناس کی مناسب قیمت کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں تاکہ نام نہاد مارکیٹ مواقع کا جادو متحرک حکومت کے ہاتھوں متوازن ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں مارکیٹ اجارہ داروں اور ذخیرہ اندوزوں سے متاثر ہو رہے ہیں، کسانوں کو کارپوریشن کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح عالمی زرعی تجارت کو تیز کرنا چاہیے، مخصوص ممالک کی زراعت کو دی جانے والی بڑی سبسڈیز عالمی مارکیٹ کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور ترقی پذیر ممالک کے کسانوں کو مسابقت کے میدان میں مشکلات سے دوچار کر دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تیسری تجویز یہ ہے کہ غذائی اجناس کی پیداوار کے لیے نئی زرعی ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا جائے، پانی اور زمین کے سود مند استعمال کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ چوتھے نمبر پر زراعت میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال دیگر معاشی شعبوں کی طرح نہایت اہم ہے، دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ اور براڈ بینڈ کی فراہمی کو یقینی بنانا عالمی سطح پر سپلائی چین کو مستحکم کرنے کے لیے اہم ہوگا۔

عمران خان نے کہا کہ سب سے اہم اور پانچویں تجویز یہ ہے کہ ہمیں غذائی اجناس کے استعمال اور پیداوار پر دوبارہ سوچنا چاہیے، ہم میں سے متعدد کم کھائیں گے تو بہتر کھا سکتے ہیں اور ہم فطرت کے مطابق غذائی اجناس تیار کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنی جھیلوں، دریاؤں اور سمندروں میں آلودگی کو ختم کر سکتے ہیں، ہم خطرناک کیمکلز کے بجائے کم پانی سے زیادہ پیداوار کرسکتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ کووڈ-19 بحران کے دوران معاشی مشکلات کے باوجود ہم نے 8 ارب ڈالر کا ریلیف پیکیج فراہم کیا اور غریب طبقے کو نقد امداد دی۔

ان کا کہنا تھا کہ کووڈ-19 اور ٹڈی دل کے حملوں کی وجہ سے ہماری زراعت کو بڑا نقصان پہنچا لیکن ہماری بھرپور توجہ رہی اور بجٹ میں 3 گنا اضافہ کیا گیا 3.5 فیصد ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شجرکاری مہم: آئندہ جون تک ایک ارب درخت لگا دیں گے، عمران خان

ان کا کہنا تھا کہ ہم دنیا بھر میں جنگلات میں اضافے کے بڑے پروگراموں میں سے ایک پروگرام میں مصروف ہیں اور اگلے 3 سال میں 10 ارب درخت لگانے کا منصوبہ ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نے 8 بڑے علاقوں کو نیشنل پارکس کے لیے مختص کیا ہے، پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت زرعی اصلاحات شامل کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو پائیدار ترقی کے فروغ اور غربت کے خاتمے کے لیے کامیابی صرف عالمی تعاون سے ممکن ہوسکتی ہے اور ہم تمام ممالک سے اس طرح کے تعاون کے خواہاں ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں