مریخ پر اترنے والے ناسا کے خلائی مشن کی اولین کلر تصاویر جاری

20 فروری 2021

ای میل

— رائٹرز فوٹو
— رائٹرز فوٹو

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے مریخ پر اترنے والے مشن پرسیورینس نے سرخ سیارے کی سطح کی اولین کلر تصاویر بھیجی ہیں۔

ناسا کی جانب سے پرسیورینس روور کی مریخ کی سطح کی لینڈنگ کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔

19 فروری کو جاری کی جانے والی تصاویر کے حوالے سے مارس 2020 کے چیف انجنیئر ایڈم اسٹالینزر نے بتایا کہ انہیں توقع ہے کہ لینڈنگ کی تصاویر 1969 کی چاند کی تصویر کی طرح آئیکونک بن جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم بس توقع ہی کرسکتے ہیں کہ خلائی مشن کی انجنیئرنگ اور ہمارے نظام شمسی کی کھوج کے لیے ہماری کوششیں کسی دن آئیکونک تصاویر کے مجموعے کا حصہ بن جائیں گی۔

ٹیم کی جانب سے اس مشن کی جانب سے کھینچی گئی 2 کلر تصاویر کو بھی جاری کیا گیا جو اس روور نے مریخ پر اترنے کے بعد کھینچی تھیں۔

پہلی ہائی ریزولوشن تصویر روور کے فرنٹ ہزارڈ کیرا نے کھینچی تھی اور اس یں مریخ کی بنجر اور گرد آلود مقام کو دکھایا گیا ہے۔

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

ناسا کی ملٹی مشن امیج پراسیسنگ لیبارٹری سے تعلق رکھنے والی ہیلی جینجی نے بتایا کہ یہ اس کیمرے کی پہلی کلر تصویر ہے بلکہ یہ ہماری مریخ کی سطح کی پہلی کلر تصویر ہے۔

خیال رہے کہ ناسا کا یہ پرسیورینس روور روبوٹ سرخ سیارے (مریخ) پر مائیکربیل (microbial) زندگی کے آثار کی تلاش میں محفوظ طریقے سے ایک وسیع گڑھے میں پہنچا ہے۔

ناسا کا یہ روبوٹ جیزیرو نامی ایک گہرے گڑھے میں اترا، 6 پہیوں والا یہ روور اس مقام پر پہنچنے کے بعد مزید 2 کلومیٹر کی مسافت کے بعد رکا، جس کے متعلق خیال ہے کہ وہاں اربوں سال پہلے بہنے والے دریا، جھیل کہ باقیات موجود ہیں اور اسے مریخ پر جیو-حیاتیاتی تحقیق کے لیے بہترین مقام سمجھا جارہا ہے۔

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

ناسا کی اس روبوٹک گاڑی نے خلا میں تقریباً 7 ماہ تک سفر کرتے ہوئے 472 ملین کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا، جس کے بعد اس نے 19 ہزار کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے مریخ کی فضا میں داخل ہوتے ہی سیارے کی سطح پر لینڈ کرنا شروع کیا۔

چونکہ مریخ سے زمین پر ریڈیو کی لہروں کو پہنچنے میں 11 منٹ کا وقت لگتا ہے تو جب اس مریخ کے گرد گھومتی سیٹیلائٹس میں سے ایک سے موصول ہونے والی سگنلز نے اس کے پہنچنے کی تصدیق کی تب تک یہ روبوٹ سرخ سیارے پر پہنچ چکا تھا۔

ناسا کے قائم مقام سربراہ اسٹیو جورزک نے اسے ایک حیران کن کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں بتا نہیں سکتا کہ میں نے اپنے جذبات پر کیسے قابو پایا۔