جو لوگ واٹس ایپ کی نئی پالیسی کو قبول نہیں کریں گے ان کے ساتھ کیا ہوگا؟

20 فروری 2021
— فوٹو بشکریہ دی نیکسٹ ویب
— فوٹو بشکریہ دی نیکسٹ ویب

واٹس ایپ نے حال ہی میں ایک بلاگ میں بتایا تھا کہ وہ نئی مجوزہ پرائیویسی پالیسی کے لیے صارفین کو نظرثانی کی سہولت 'ان کی اپنی رفتار' کے تحت فراہم کرے گی، جبکہ شرائط کی وضاحت کے لیے ایک بینر ڈسپلے کیا جائے گا۔

تاہم اس نئے بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ جو صارفین 15 مئی کی ڈیڈلائن تک نئی پالیسی کو تسلیم نہیں کریں گے، ان کے ساتھ کیا ہوگا؟

اب ٹیک کرنچ نے اپنی ایک رپورٹ میں اس بارے میں بتایا ہے۔

رپورٹ میں کمپنی کے ایک مرچنٹ پارٹنر کو بھیجی گئی ای میل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ وٹس ایپ کا کہنا تھا کہ وہ پالیسی تسلیم نہ کرنے والے صارفین سے 'بتدریج' نئی شراط کو ماننے کا مطالبہ کرے گی۔

اس نئی پالیسی کا اطلاق 15 مئی سے ہوگا۔

اگر کمپنی کے مطالبے پر بھی صارفین کی جانب سے نئی پالیسی کو تسلیم نہیں کیا گیا تو مختصر مدت کے لیے وہ افراد کالز اور نوٹیفکیشن تو موصول کرسکیں گے مگر ایپ میں میسجز بھیج یا پڑھ نہیں سکیں گے۔

کمپنی نے ٹیک کرنچ سے بات کرتے ہوئے ای میل کے مواد کی تصدیق بھی کی۔

ای میل کے مطابق یہ 'مختصر وقت' کئی ہفتوں کا ہوگا جبکہ ایف اے کیو کا نیا پیج کا لنک بھی دیا گیا جس میں ایسے صارفین کے حوالے سے اقدامات کی تفصیلات دی گئی ہے۔

کمپنی نے واضح کیا کہ غیرمتحرک کیے جانے والے صارفین 15 مئی کے بعد بھی نئی پالیسی یا اپ ڈیٹس کو قبول کرسکیں گے۔

ایسے غیرمتحرک صارفین کے حوالے سے واٹس ایپ کی پالیسی میں واضح کیا گیا کہ اکاؤنٹس عام طور پر غیرمتحرک ہونے کے ٍ120 دن بعد ڈیلیٹ کیے جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ واٹس ایپ نے 4 جنوری سے صارفین کو نئی پرائیویسی پالیسی قبول کرنے کے لیے نوٹی فکیشنز بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

اس پالیسی کو 8 فروری 2021 سے نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اور صارفین کو خبردار کیا گیا تھا کہ انہیں اسے لازمی قبول کرنا ہوگا، بصورت دیگر ان کے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیے جائیں گے۔

نئی پرائیویسی پالیسی کے مطابق صارفین کے ڈیٹا کے حوالے سے کمپنی کا اختیار بڑھ جائے گا اور کاروباری ادارے فیس بک کی سروسز کو استعمال کرکے واٹس ایپ چیٹس کو اسٹور اور مینیج کرسکیں گے جبکہ فیس بک کی جانب سے واٹس ایپ کو اپنی دیگر سروسز سے منسلک کیا جاسکے گا۔

بعدازاں واٹس ایپ انتظامیہ نے وضاحت بھی کی تھی کہ وہ صارفین کے میسجز اور کالز ڈیٹا کو نہ تو فروخت کریں گے اور نہ ہی اس تک ان کی رسائی ہے۔

تاہم واٹس ایپ کی پالیسی پر دنیا بھر میں صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی اور اس کی حریف ایپس ٹیلیگرام اور سگنل کے صارفین کی تعداد میں بھی بہت بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

جس کے بعد کمپنی نے 16 جنوری کو اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنے کے فیصلے کو مؤخر کرتے ہوئے عوام کو پالیسی پر آرام سے نظرثانی کرنے کی درخواست کی تھی۔

بعدازاں میسیجنگ ایپ کی انتظامیہ نے مذکورہ تنقید کو کم کرنے کے لیے اپنے اسٹیٹس کا سلسلہ بھی شروع کیا تھا اور 28 جنوری کی صبح دنیا بھر میں لوگوں کو واٹس ایپ کے آفیشل اسٹیٹس اپنے اکاؤنٹ پر نظر آئے تھے۔

اپنے حالیہ بلاگ میں واٹس ایپ نے بتایا تھا کہ وہ صارفین کو میسجنگ پلیٹ فارم کا استعمال جاری رکھنے کے لیے اپ ڈیٹس جائزہ لینے اور اسے قبول کرنے کی یاد دہانی کروانا شروع کریں گے۔

واٹس ایپ نے مزید کہا ہے کہ 'ہم نے اس حوالے سے خدشات کو دور کرنے کی کوشش اور ان کے حل کے لیے مزید معلومات بھی شامل کی ہیں'۔

مسیجنگ ایپ نے کہا کہ آئندہ ہفتوں میں واٹس ایپ میں ایک بینر کا اضافہ کیا جائے گا جس کے ذریعے صارفین کو پرائیویسی پالیسی سے متعلق مزید معلومات فراہم کی جائیں گی جسے وہ اپنے طور پر پڑھ سکیں گے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں