یو اے ای میں ہتھیاروں کی نمائش میں اسلحے کی خرید و فروخت کے بڑے سودے

اپ ڈیٹ 22 فروری 2021

ای میل

دفاعی تجزیہ کاروں نے فوجی اخراجات میں کمی کا اندازہ لگایا تھا — تصویر: بشکریہ دی نیشنل نیوز ٹوئٹر
دفاعی تجزیہ کاروں نے فوجی اخراجات میں کمی کا اندازہ لگایا تھا — تصویر: بشکریہ دی نیشنل نیوز ٹوئٹر

ابو ظبی: عالمی وبا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران بڑے اسلحہ ساز مشرق وسطیٰ کی فوجوں سے معاہدے کرنے کی اُمید میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے دارالحکومت ابو ظبی کے ایک کنوینشن سینٹر پہنچے ہیں۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والے امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای نے جنوبی افریقہ کے ڈرونز سے لے کر سائبیرین آرٹلری تک ہر چیز اپنی افواج کو فراہم کرنے کے لیے ایک ارب 36 کروڑ ڈالر کے مقامی اور غیر ملکی معاہدوں کا اعلان کیا۔

دفاعی تجزیہ کاروں نے عالمی وبا اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمت میں کمی کے باعث خلیج فارس کے ممالک کے سکڑتے بجٹ کے باعث فوجی اخراجات میں کمی کا اندازہ لگایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کے اسلحہ خریداری کیلئے جنوبی افریقی کمپنیوں سے مذاکرات

ابو ظبی کے انٹرنیشنل ڈیفنس ایگزیبیشن اینڈ کانفرنس کے عنوان سے ششماہی تجارتی میلہ وائرس کے پھیلاؤ سے اب تک کی پہلی بڑی تقریب تھی جس میں لوگوں نے شرکت کی اور یہ بات اس کی اہمیت بھی اجاگر کرتی ہے۔

نمائش میں شریک 70 ہزار افراد اور 900 ایگزیبیٹرز کے لیے زوم (آن لائن ویڈیو کانفرنس کیلئے استعمال ہونے والی ایپلیکیشن) کافی نہیں تھی جو ممکنہ خریداروں کی تلاش میں مشرق وسطیٰ میں ہونے والی اس نمائش پر انحصار کرتے ہیں۔

ابو ظبی کے طاقتور ولی عہد محمد بن زید النہیان سمیت اعلیٰ اماراتی حکام رائفلز، راکٹس اور بموں کے ڈسپلے کے درمیان گھومتے ہوئے نظر آئے۔

ہر جگہ موجود سینیٹائزرز اور ڈرون سے جراثیم کش ادویات کے چھڑکاؤ کے ساتھ عالمی وبا کے اثرات نمایاں طور پر دکھائی دے رہے تھے۔

مزید پڑھیں: امریکا نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کو اسلحے کی فروخت روک دی

تاہم نمائش سے اہم قومی پویلینز غیر حاضر تھے جس میں امریکا بھی شامل ہے جو دنیا میں اسلحے کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔

بڑی امریکی کمپنیوں نے اپنا سیٹ اپ لگایا لیکن اس کی زیادہ تشہیر نہیں کی، ایف-35 طیاروں کے پیچھے لاک ہیڈ مارٹن کے نمائندے بالکل خاموش کھڑے تھے کیوں کہ جو بائیڈن کی حکومت سابق امریکی صدر کی شروع کی گئی اسلحے کی بڑی فروخت پر نظر ثانی کررہی ہے جس میں یو اے ای کو 23 ارب ڈالر کے عوض ایف-35 ایس فراہم کرنا شامل ہے۔

دوسری جانب کووِڈ 19 کے باعث لگائی گئی پابندیوں نے بھی اسے نمائش میں حصہ لینے سے روکا جو متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے ساتھ گزشتہ برس تعلقات معمول پر آنے کے بعد پہلی مرتبہ منعقد کی گئی تھی۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ سینٹر کی حالیہ رپورٹ کے مطابق لیبیا، شام اور یمن میں جاری پروکسی جنگوں کے دوران مشرق وسطیٰ میں ہتھیاروں کا بہاؤ گزشتہ 5 برسوں کے دوران 61 فیصد بڑھا ہے۔

نمائش میں گزشتہ 5 برسوں کے دوران دنیا میں اسلحے کے سب سے بڑے درآمد کنندہ سعودی عرب کے پویلین میں حکام مملکت کو ویژن 2030 کے تحت ابھرتی ہوئی دفاعی طاقت کے طور پر پیش کرتے نظر آئے۔