لاہور میں خاتون نے اپنے دو کمسن بچوں کو ’جلا‘ دیا

اپ ڈیٹ 23 فروری 2021

ای میل

والدہ نے پولیس کے سامنے اعتراف جرم کرلیا—فائل فوٹو: کریٹیو کامنز
والدہ نے پولیس کے سامنے اعتراف جرم کرلیا—فائل فوٹو: کریٹیو کامنز

لاہور: ایک سنگدل ماں نے غربت کی وجہ سے اپنے 2 کمسن بچوں کو مبینہ طور پر جلادیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مانگا منڈی میں کوٹ اسد اللہ گاؤں میں غربت کے باعث ایک خاتون نے اپنے دو کمسن بچوں کو جلا دیا۔

ریسکیو 1122 ایمرجنسی سروس کو آگ لگنے کی اطلاع ملنے کے بعد کوٹ اسد اللہ میں ایک تین مرلہ کے گھر کے کمرے سے 3 سالہ عبدالرحمٰن اور 4 سالہ فیضان کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد کی گئیں۔

مزید پڑھیں: لاہور: 'بیٹے کی پیدائش کا مطالبہ'، سسرالی رشتہ داروں نے خاتون کو جلا کر قتل کردیا

عمارت کے ایک حصے پر بنے ہوئے 2 کمروں اور ایک کچن پر مشتمل گھر کو آگ سے جزوی نقصان پہنچا۔

دوسری جانب ایک پولیس عہدیدار کا کہنا تھا کہ جب ریسکیو 1122 کی ٹیمیں کال موصول ہونے کے بعد جائے وقوع پر پہنچیں تو انہوں نے گھر میں پیٹرول کی بو محسوس ہوئی اور بچوں کی لاشیں ہسپتال منتقل کرنے سے پہلے پولیس کو مطلع کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ واقعے سے متعلق پراسرار حالات ہونے کے بارے میں ریسکیو 1122 کے آگاہ کرنے پر پولیس نے متوفی بچوں کے والدین کو تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر والدہ تنزیلہ نے متضاد بیانات دیے لیکن مزید کھوجنے پر انہوں نے جرم کا اعتراف کرلیا اور بتایا کہ ان کا شوہر ایک مزدور ہے جو گھر چلانے کے یومیہ اخراجات تک برداشت کرنے سے قاصر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مانسہرہ میں 3 بچوں کی ماں کو زندہ جلا دیا گیا

والدہ کا کہنا تھا کہ غربت سے تنگ آکر انہوں نے پہلے بچوں کا گلا دبایا اور پھر وہاں پیٹرول چھڑک کر کمرے کو آگ لگا دی۔

جیسے ہی آگ نے پورے کمرے کو اپنی لپیٹ میں لیا خاتون نے پڑوسیوں کو جمع کرکے گھر میں اچانک آگ لگنے کی جھوٹی کہانی سنانا شروع کردی۔

علاوہ ازیں پولیس نے والدہ کے اعتراف کے بعد دونوں بچوں کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کردیا۔