جوہری معائنہ کاروں کو روکنے سے ملک عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوسکتا ہے، ایرانی اخبار

اپ ڈیٹ 24 فروری 2021

ای میل

ایڈیشنل پروٹوکول کے تحت آئی اے ای اے ایران کے جوہری تنصیات کا جائزہ لے سکتا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی
ایڈیشنل پروٹوکول کے تحت آئی اے ای اے ایران کے جوہری تنصیات کا جائزہ لے سکتا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی

ایران کے سرکاری اخبار نے خبردار کیا ہے کہ مغرب کے ساتھ جوہری معاملات میں حد سے زیادہ انتہا پسندی پر مشتمل رویہ ملک کو عالمی سطح پر تنہائی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) میں ایران کے مندوب کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ملک نے پیر کی درمیانی رات نام نہاد ایڈیشنل پروٹوکول پر عملدرآمد ختم کردیا۔

مزید پڑھیں: 'ایران جوہری معاہدے کے تحت وعدوں کی مکمل پاسداری کرے'

ایڈیشنل پروٹوکول کے تحت آئی اے ای اے ایران کے جوہری تنصیات کا جائزہ لے سکتا تھا۔

ایران کے سرکاری روزنامہ نے بنیاد پرست قانون سازوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جنہوں نے پیر کو تہران کی جانب سے اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کو 3 ماہ تک 'ضروری' نگرانی کی اجازت دینے کا معاہدہ کیا تھا۔

قانون سازوں نے کہا تھا کہ ایڈیشنل پروٹوکول سے متعلق معاہدہ پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے جو امریکی پابندیاں ختم کرنے کے لیے منظور کیا گیا تھا۔

اخبار کے مطابق 'جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایران کو جوہری معاہدے پر فوری سخت اقدام اٹھانا چاہیے، اس کی کیا ضمانت ہے کہ ایران کو ماضی کی طرح عالمی سطح پر تنہا نہیں چھوڑا جائے گا'۔

یہ بھی پڑھیں: ویانا اجلاس جوہری معاہدہ بچانے کا آخری موقع ہے، ایران

اخبار میں کہا گیا کہ سفارت کاری کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے 'آئی اے ای اے' نے اتوار کے روز ایران کے ساتھ معاہدہ کیا تاکہ جوہری تنصیبات کا مختصر معائنے اور جوہری توانائی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ اگر ایران کو ضرورت پڑی تو وہ 60 فیصد تک یورینیم کی افزودگی کرسکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا تبصرہ 'خطرے کی علامت ہے' لیکن انہوں نے 2015 کے جوہری معاہدے میں واپسی کے بارے میں ایران کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہونے کے امریکی عزم کا اعادہ کیا۔

واشنگٹن نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منسوخ کردہ جوہری معاہدے 2015 میں واپس آنے کے لیے ایران سے بات کرنے کے لیے تیار ہے۔

مزید پڑھیں: آئی اے ای اے کا ایرانی جوہری تنصیبات کا جائزہ

تہران نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ اس معاہدے کے موجودہ رکن ممالک اور امریکا کے مابین غیر رسمی ملاقات کے لیے یورپی یونین کی تجویز کا مطالعہ کر رہا ہے، لیکن اس پر ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 8 مئی 2018 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خطرناک ملک قرار دیتے ہوئے چین، روس، برطانیہ، جرمنی سمیت عالمی طاقتوں کے ہمراہ سابق صدر براک اوباما کی جانب سے کیے گئے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔

5 مارچ 2019 کو اقوام متحدہ کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے ادارے نے کہا تھا کہ ایران 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ ہوئے جوہری معاہدے کی تعمیل کررہا ہے اور مزید ہتھیاروں کی تیاری سے گریز کرنے پر کاربند ہے۔

یاد رہے کہ 2015 میں اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما نے دیگر عالمی طاقتوں بشمول برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکا کے مابین ویانا میں ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق طے پانے والے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

ایران نے بھی اس معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران بلیسٹک میزائل بنانے کے تمام پروگرام بند کردے گا اور اس معاہدے کے متبادل کے طور پر ایران پر لگائی گئی پابندیاں اٹھا لی جائیں گی اور اسے امداد کے لیے اربوں روپے حاصل ہوسکیں گے۔