جنوبی کوریا کا ایران کے منجمد مالی اثاثے جاری کرنے پر آمادگی کا اظہار

اپ ڈیٹ 24 فروری 2021

ای میل

ایران نے جنوری کے اوائل میں جنوبی کوریا  ایک تیل بردار بحری جہاز اپنے قبضے میں لے لیا  تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی
ایران نے جنوری کے اوائل میں جنوبی کوریا ایک تیل بردار بحری جہاز اپنے قبضے میں لے لیا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی

جنوبی کوریا نے اپنے بینکوں میں منجمد کیے گئے ایران کے اربوں ڈالر میں سے 'ایک حصہ' جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کردی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق جنوبی کوریا نے تہران پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے کئی عرصے سے اپنے بینکوں میں ایران کے اربوں ڈالر منجمد کر رکھے ہیں۔

مزید پڑھیں: جوہری معائنہ کاروں کو روکنے سے ملک عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوسکتا ہے، ایرانی اخبار

اپنے ایک بیان میں ایران کے سینٹرل بینک (سی بی آئی) نے کہا کہ تہران میں جنوبی کوریا کے سفیر ریو جیانگ ہیون نے سفارتخانے میں ایک اجلاس میں نئی پیش رفت کا اعلان کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ اجلاس میں وسائل کو مطلوبہ مقامات پر کس طرح منتقل کیا جائے اور مرکزی بینک کے وسائل کے حجم کے بارے میں ضروری معاہدے بھی کیے گئے۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اتوار کے روز ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ جنوبی کوریا میں ایران کے فنڈز '10 ارب ڈالر' کے قریب تھے۔

یہ بھی پڑھیں: 'ایران جوہری معاہدے کے تحت وعدوں کی مکمل پاسداری کرے'

مرکزی بینک کے مطابق جنوبی کوریا کے سفیر نے کہا کہ ان کا ملک ایران کو اپنے تمام مسدود وسائل تک رسائی کی اجازت دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کو تیار ہے۔

سی بی آئی کے سربراہ عبدولنسر ہیممتی نے جیانگ ہن کو بتایا کہ ایران نے نئی پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیکن ایران حالیہ برسوں میں 'کورین بینکوں کے عدم تعاون' کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے حصول کے لیے اپنی قانونی کوششیں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکا کی جنوبی کوریا کو انسانی بنیادوں پر ایران سے 'تجارت' کی اجازت

ایران نے 'ماحولیاتی آلودگی' کی وجہ سے جنوری کے اوائل میں جنوبی کوریا کے ایک تیل بردار بحری جہاز کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

تہران کا مؤقف تھا کہ اس مسئلے کو سیاست کے پس منظر میں نہ دیکھا جائے اور اس کا تعلق مسدود شدہ فنڈز سے نہیں ہے۔

بحری جہاز اور منجمد رقم کے بارے میں تبادلہ خیال کرنے کے لیے جنوبی کوریا کا ایک وفد کچھ دن بعد تہران پہنچا لیکن وہ کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔

بعد ازاں ایران تیل بردار جہاز کے عملے کی رہائی پر راضی ہوگیا تھا۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو منسوخ کرتے ہوئے اس پر دوبارہ پابندیاں عائد کی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کے سبب ایران پر امریکی پابندیاں ختم کی جائیں، اقوام متحدہ سے مطالبہ

اس ضمن میں امریکی صدر جو بائیڈن نے امید ظاہر کی تھی کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔

رواں ہفتے کے آغاز میں جو بائیڈن انتظامیہ نے نیویارک میں ایرانی سفارتکاروں پر پابندیاں ختم کردی تھیں۔