27 فروری: جب پاکستانی شاہینوں نے دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر طیارے گرائے اور پائلٹ گرفتار کیا

2 بھارتی طیارے گرانے اور ایک پائلٹ کو گرفتار کرنے پر آج کے دن کو آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے نام سے یاد رکھا جاتا ہے۔
اپ ڈیٹ 28 فروری 2021 10:20am

27 فروری 2019 تاریخ کا وہ دن ہے جب پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر دنیا کو یہ بتایا تھا کہ مملکت خداداد کے دفاع کے لیے ہم ہمہ وقت تیار ہیں۔

سال 2019 میں آج ہی کے دن یعنی 27 فروری کو پاک فضائیہ نے ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے بھارتی طیاروں کو مار گرایا تھا اور ان کا پائلٹ ابھی نندن بھی گرفتار کرلیا تھا۔

فضائی معرکے میں نئی تاریخ رقم کرنے سے متعلق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا تھا کہ پاک فضائیہ نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے بھارتی فورسز کے 2 لڑاکا طیاروں کو مار گرایا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ ایک بھارتی لڑاکا طیارہ مقبوضہ کشمیر میں گر کر تباہ ہوا جبکہ دوسرا طیارہ پاکستان کے علاقے آزاد کشمیر میں گرا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا تھا کہ پاک فوج نے ایک بھارتی پائلٹ کو گرفتار بھی کرلیا تھا۔

جسے بعد ازاں پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت بھارت کو واپس کردیا تھا۔

آج کے دن کو پاکستانی تاریخ میں ’آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ‘ کے نام سے یاد رکھا جاتا ہے اور اس معرکے میں تاریخ رقم کرنے پر ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان نے اسے ’آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ‘ کا نام دیا۔

فروری 2019 میں ہونے والی پاک-بھارت کشیدگی

برسوں سے روایتی حریف پاکستان اور بھارت کے درمیان فروری 2019 میں کشیدگی میں شدت اس وقت آئی جب 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر کے شہر پلوامہ میں بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بس پر حملے میں 44 بھارتی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے، جس کے بعد بھارت کی جانب سے اس حملے کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا گیا تھا جبکہ پاکستان نے انتہائی واضح الفاظ میں ان الزامات کی تردید کی۔

یہ بھی پڑھیں: پاک فضائیہ نے 2 بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے، پاک فوج

پلوامہ حملے کے بعد سے ہی بھارتی حکومت کی جانب سے مسلسل غیر ذمہ دارانہ بیانات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور انہی غیر ذمہ دارانہ رویوں کو بنیاد بناتے ہوئے بھارتی طیاروں نے پاکستانی حدود میں گھسنے کی ناکام کوشش کی تھی۔

بھارتی طیاروں نے 27 فروری 2019 کو پاکستانی فضائی حدود کی پہلی مرتبہ خلاف ورزی نہیں کی، اس سے ایک روز قبل بھی وہ ایسا کرچکے تھے تاہم پاک فضائیہ کی بروقت کارروائی کی وجہ سے وہ واپس لوٹ گئے تھے۔

بھارت نے الزام لگایا تھا کہ پلوامہ حملہ کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کی جانب سے کروایا گیا، ساتھ ہی انہوں نے اس حملے کے ماسٹر مائنڈ کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا تھا تاہم بغیر کسی ثبوت کے بھارت نے اس معاملے کو پاکستان سے جوڑتے ہوئے 1995 میں دیا گیا ’پسندیدہ تجارتی ملک‘ کا درجہ واپس لے لیا تھا۔

اس کے علاوہ 17 فروری 2019 کو بی جے پی حکومت نے بھارت میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 4 کی نشریات پر پابندی عائد کردی تھی اور یہی نہیں بلکہ بھارتی درآمدکنندگان نے پاکستانی سیمنٹ کی درآمد روک دی تھی جس کے نتیجے میں پاکستان کی سیمنٹ فیکٹریوں کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بھارتی حکام کی الزام تراشیوں کے جواب میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو ’قابلِ عمل معلومات‘ فراہم کرنے کی صورت میں تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی تھی اور ساتھ ہی خبردار کیا تھا کہ اگر بھارت نے کسی قسم کی جارحیت کی تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا۔

تاہم بھارت نے تحقیقات کی پیشکش کو نہ صرف مسترد کیا تھا بلکہ وزیراعظم عمران خان کے بیان کو حقیقت کے برعکس قرار دیا تھا۔

پلوامہ واقعے کے بعد جہاں دونوں ممالک میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا تو وہیں 26 فروری کو بھارت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے پاکستان کی حدود میں در اندازی کرتے ہوئے دہشت گردوں کا مبینہ کیمپ تباہ کردیا۔

بھارت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس کی فضائیہ نے دہشت گردوں کے مبینہ کیمپ پر حملے میں 350 افراد کو ہلاک کردیا، تاہم بعد ازاں بھارتی حکومت کی جانب سے اس دعوے کے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے تھے اور اسے اپنے ہی ملک میں ہزیمت اور شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بھارت کی جانب سے آزاد کشمیر کے علاقے میں دراندازی کی کوشش کو پاک فضائیہ نے ناکام بناتے ہوئے بروقت ردعمل دیا تھا اور دشمن کے طیاروں کو بھاگنے پر مجبور کردیا تھا۔

بعد ازاں پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا تھا کہ آزاد کشمیر کے علاقے مظفرآباد میں داخل ہونے کی کوشش کر کے بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی خلاف ورزی کی۔

انہوں نے بتایا تھا کہ اس خلاف ورزی پر پاک فضائیہ فوری طور پر حرکت میں آئی اور بھارتی طیارے واپس چلے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پاک فضائیہ کے بروقت ردعمل کے باعث بھارتی طیارے نے عجلت میں بالاکوٹ کے قریب پے لوڈ گراتے ہوئے فرار ہوگئے۔

بعد ازاں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا تھا، جس میں بھارتی دعوؤں کو مسترد کرتے پاکستان نے واضح کیا تھا کہ مناسب وقت اور جگہ پر بھارتی مہم جوئی کا جواب دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: مشتعل ہجوم سے بچانے پر پاک فوج کے جوانوں کا شکر گزار ہوں، بھارتی پائلٹ

اس اہم اجلاس کے فوری بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر خزانہ اسد عمر نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی تھی، جس میں بھی شاہ محمود قریشی نے بھارتی عمل کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اس کا جواب دے گا۔

اس کے بعد پاک فوج کے ترجمان نے بھی ایک پریس کانفرنس کے دوران بھارت کو خبردار کیا تھا کہ اب وہ پاکستان کے جواب کا انتظار کرے جو انہیں حیران کردے گا، ہمارا ردِعمل بہت مختلف ہوگا، اس کے لیے جگہ اور وقت کا تعین ہم خود کریں گے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا تھا کہ ایک محاورہ ہے کہ بے وقوف دوست سے عقل مند دشمن بہتر ہوتا ہے لیکن یہاں بھارت دشمنی میں بھی بے وقوفی کا ثبوت دیتا ہے۔

بھارتی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ تباہ، پائلٹ گرفتار

بعد ازاں اگلے ہی روز 27 فروری کو بھارتی فضائیہ نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی کوشش کی تھی، اس دوران پاک فضائیہ نے بھرپور ردعمل دیتے ہوئے 2 بھارتی طیاروں کو مار گرایا تھا اور ایک بھارتی پائلٹ کو گرفتار کرلیا تھا۔

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا تھا کہ پاک فضائیہ نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے بھارتی فورسز کے 2 لڑاکا طیاروں کو مار گرایا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ ایک بھارتی لڑاکا طیارہ مقبوضہ کشمیر میں گر کر تباہ ہوا جبکہ دوسرا طیارہ پاکستان کے علاقے آزاد کشمیر میں گرا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا تھا کہ پاک فوج نے ایک بھارتی پائلٹ کو گرفتار بھی کرلیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا نے پاک بھارت کشیدگی کی خصوصی طور پر کوریج کی تھی اور اس صورتحال کو خطے کے لیے انتہائی حساس قرار دیا تھا۔

دوسری جانب ایک بھارتی صحافی نے بھارتی فضائیہ کے افسر کی پاکستان میں گرفتار ہونے کی اطلاعات کی تصدیق کی تھی۔

اسی روز بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے مختصر پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے جنگی طیارے کی تباہی اور پائلٹ کے لاپتا ہونے کی تصدیق کی تھی اور ساتھ ہی دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے اس کی فضائی حدود کا استعمال کرتے ہوئے بھارت کے انسداد دہشت گردی آپریشن کا جواب دیا۔

بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے اپنی انتہائی مختصر پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ فضائی انگیجمنٹ کے بعد مگ 21 بیسن نے پاکستانی فضائیہ کے طیارے کو مارا گرایا جو پاکستانی حدود میں جا گرا، یہاں یہ بات واضح رہے کہ تاحال بھارت اس حوالے سے کسی قسم کے ثبوت پیش نہیں کرسکا۔

دراندازی کے بعد جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، ترجمان پاک فوج

پاک فضائیہ کی جانب سے بھارتی ایئرفورس کے 2 لڑاکا طیارے مار گرائے جانے کے بعد پاک فوج کے اس وقت کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے 26 فروری کو پاکستانی حدود میں دراندازی کی کوشش کے بعد پاکستان کے پاس جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ آج (27 فروری 2019 کو) صبح پاک فضائیہ نے اپنی حدود میں رہتے ہوئے لائن آف کنٹرول کے پار مقبوضہ کشمیر میں 6 اہداف کا انتخاب کیا کیونکہ بھارت نے ہم پر جارحیت کی اور ایل او سی کی خلاف ورزی کی اور دعویٰ کیا کہ مبینہ دہشت گردوں کا ٹھکانہ تباہ کیا اور 350 دہشت گردوں کو مارا۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ بھارتی دراندازی کی کوشش کے بعد جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا لیکن جواب کیسے دیا جاتا، کیا اسی طریقے سے جس طرح بھارت نے دیا یا پھر ایسے جیسے ایک ذمہ دار ملک دیتا ہے، جب رب ہمیں صلاحیت دیتا ہے تو اس میں شکر کا عنصر آتا ہے، وہ استعمال کرنے سے زیادہ اپنے خود کے دفاع کے لیے ہوتی ہے۔

ان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج کے پاس صلاحیت بھی ہے اور جذبہ بھی جبکہ عوام کا ساتھ اور ہر قسم کی چیز موجود ہے لیکن ہم ذمہ دار ریاست ہیں اور امن چاہتے ہیں۔

پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ پاک فضائیہ کے اہداف کے بعد بھارتی ایئرفورس کے 2 طیاروں نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، جس کے بعد دونوں بھارتی طیاروں کو گرادیا گیا، ایک کا ملبہ ہماری طرف گرا جبکہ دوسرا بھارت کی طرف گرا، اس کے علاوہ بھی ایک اور بھارتی طیارے کے گرنے کی اطلاع ہے لیکن وہ اندر ہے اور ہماری اس سے ’انگیجمنٹ‘ نہیں ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی فورسز نے بھارتی پائلٹ کو اپنی تحویل میں لیا اور جیسے ایک مہذب ملک سلوک کرتا ہے ویسے ہی پاکستان نے کیا۔

اس موقع پر پریس کانفرنس کے دوران میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی پائلٹ کے پاس سے ملنے والی دستاویزات بھی دکھائیں تھیں۔

گرفتار بھارتی پائلٹ کی ویڈیوز

بعد ازاں حکومتِ پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے گرائے گئے طیارے کے گرفتار پائلٹ کی ویڈیو جاری کی، جس میں بھارتی پائلٹ نے اپنے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ’میں ونگ کمانڈر ابھی نندن بھارتی فضائیہ کا افسر ہوں‘ اور ان کا سروس نمبر 27981 ہے تاہم ویڈیو میں انہوں نے مزید معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا تھا۔

اس کے بعد گرفتار بھارتی پائلٹ کی ایک اور ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں ابھی نندن نے مشتعل ہجوم سے بچانے پر پاک فوج کے کیپٹن اور جوانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے رویے کی تعریف کی تھی۔

گرفتار بھارتی پائلٹ کی میڈیا کو جاری کی جانے والی ویڈیو میں ابھی نندن کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا اور انہوں نے پاک فوج کے رویے کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاک فوج کے جوانوں اور افسران کا رویہ متاثر کن ہے جنہوں نے طیارے کے تباہ ہونے کے بعد مجھے مشتعل ہجوم کے تشدد سے بچایا اور میرا بہت خیال رکھا۔

مزید پڑھیں: ٹارگٹ کی تلاش میں تھا، پاک فضائیہ نے میراطیارہ مارگرایا، بھارتی پائلٹ کا دوسرا بیان

ان کا کہنا تھا کہ بھارت جا کر اپنا بیان نہیں بدلوں گا، چاہتا ہوں ہماری آرمی بھی ہم سے ایسا ہی برتاؤ کرے تاہم بھارتی پائلٹ نے مشن سے متعلق سوال کا جواب دینے سے معذرت کی تھی۔

بھارتی فضائیہ کی پاکستانی حدود کی خلاف ورزی اور ان کے پائلٹ کی گرفتاری کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ ہم امن کے لیے بھارت کے گرفتار پائلٹ ابھی نندن کو رہا کردیں گے۔

وزیراعظم نے کہا تھا کہ امن کے قیام کی کوشش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، یہ کمزوری نہیں ہے، پاکستان کی تاریخ میں جب ہم پیچھے دیکھتے ہیں تو بہادر شاہ ظفر تھا اور ٹیپو سلطان، بہادر شاہ ظفر نے موت کے بجائے غلامی کو چنا تھا جبکہ ٹیپو سلطان نے غلامی کو نہیں چنا تھا، اس قوم کا ہیرو ٹیپو سلطان ہے۔

ابھی نندن کی بھارتی حکام کو حوالگی

یکم مارچ کو پاکستان کی جانب سے بھارتی طیاروں کو گرانے کے بعد گرفتار کیے گئے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو تمام کاغذی کارروائی کے بعد واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کردیا گیا اور وہ واپس اپنے ملک پہنچ گئے تھے۔

ابھی نندن کی حوالگی کے موقع پر بھارت کی جانب سے اپنی سرحد پر پرچم اتارنے کی تقریب کو منسوخ کردیا گیا تھا جبکہ پاکستان کی جانب سے واہگہ بارڈر پر حسب معمول پرچم اتارنے کی تقریب منعقد ہوئی تھی۔

بعد ازاں اسی روز ابھی نندن کی رہائی کے بعد ان کا ایک اور ویڈیو بیان سامنے آیا تھا، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ ٹارگٹ تلاش کررہے تھے کہ پاک فضائیہ نے ان کا طیارہ مار گرایا جبکہ بھارتی میڈیا چھوٹی سی چیز کو آگ لگا کر بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔

انہیں ویڈیو میں کہتے ہوئے سنا جاسکتا تھا کہ طیارہ تباہ ہونے کے بعد انہیں اسے چھوڑنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جیسے ہی میں نے پیرا شوٹ کھولا اور جب میں نیچے گرا تو میرے پاس پستول تھی اور لوگ بہت زیادہ تھے، مجھے بچاؤ کے لیے پستول چلانا پڑی اور میں نے بھاگنے کی کوشش کی'۔

مزید پڑھیں: بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں تھا، پاکستان

ابھی نندن کو بھارتی حکام کے حوالے کیے جانے کے حوالے سے مقامی سطح پر اور بیرون ملک ایسی خبریں گردش کررہی تھیں کہ بھارتی پائلٹ کو ان کے وطن واپس کیے جانے کے حوالے سے پاکستان پر بہت دباؤ تھا جس کی وجہ سے انہیں واپس بھارت بھیجا گیا تھا۔

بین الاقوامی صحافیوں، مختلف ممالک کے سفرا کا دورہ بالاکوٹ

علاوہ ازیں بھارت کے بالاکوٹ میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کے دعوؤں پر پاکستان مؤقف کی تصدیق کے لیے 11 اپریل 2019 کو بھارت سمیت بین الاقوامی صحافیوں اور مختلف ممالک کے سفیروں نے بالاکوٹ کا دورہ کرکے زمینی حقائق کا معائنہ کیا تھا۔

گروپ کو اس جگہ کا معائنہ کرایا گیا تھا جہاں بھارت نے جھوٹے فضائی حملے کا دعویٰ کیا تھا اور جہاں جانی یا انفرا اسٹرکچر کے نقصان کے کوئی آثار نہیں تھے۔

اس حوالے سے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ بھارتی سمیت بین الاقوامی صحافیوں کے گروپ، مختلف ممالک کے سفرا اور دفاعی اتاشیوں نے بالاکوٹ میں جبہ کے مقام کے قریب 26 فروری کو بھارت کی فضائی خلاف ورزی سے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا۔

اس موقع پر ترجمان نے انہیں بریفنگ دی تھی اور بین الاقوامی صحافیوں اور سفرا نے اپنی آنکھوں سے بھارتی دعوؤں کے برعکس زمینی حقائق کا معائنہ کیا تھا۔

وفد نے قریب میں واقع اس مدرسے کا بھی دورہ کیا جہاں بھارت نے متعدد دہشت گردوں کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

بین الاقوامی صحافیوں اور سفرا نے آزادانہ طور پر طلبہ اور اساتذہ سے بات کی اور اپنی آنکھوں سے اس مدرسے کو دیکھا جسے کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا اور وہاں صرف مقامی بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

علاوہ ازیں امریکا کے سب سے معتبر دفاعی میڈیا ادارے جینز انفارمیشن گروپ نے بھی بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے قریب دہشت گرد گروپ کے مبینہ کیمپ پر حملے اور 350 سے زائد افراد کو مارنے کے دعوے پر سوالات اٹھادیے تھے۔

لندن کے ادارے کے تجزیہ کار راہُل بیدی نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ مارنے کے حوالے سے جو کچھ بھی دعویٰ کیا گیا وہ صرف افواہ ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ کسی بھی چیز سے زیادہ ایک سیاسی حربہ لگتا ہے، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو انتخابات سے قبل بھارت کی جانب سے کچھ قابل ذکر کارروائیوں کا نمونہ دکھانا تھا۔