سعودی عرب کا دفاع اور اس کے ساتھ تجارت جاری رکھیں گے، امریکا

اپ ڈیٹ 27 فروری 2021
—فائل فوٹو: رائٹرز
—فائل فوٹو: رائٹرز

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان پر امریکی شہری جمال خاشقجی کے قتل کے احکامات جاری کرنے کے الزامات عائد کرنے کے حوالے سے امریکی رپورٹ کے بعد واشنگٹن نے کہا ہے کہ ریاض کے ساتھ تعلقات اہم ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ واشنگٹن کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات اہم ہیں اور یہ تعلقات دونوں ممالک کے مابین مشترکہ مفادات اور اقدار کی عکاسی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق امریکی رپورٹ مسترد کردی

امریکی محکمہ خارجہ میں پریس کانفرنس کے دوران انتھونی بلنکن نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات اہم نوعیت پر مبنی ہیں اور ہمارے مختلف امور پر مفادات یکساں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم ریاست کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں‘۔

سیکریٹری خارجہ نے امریکا کے ساتھ تجارت جاری رکھنے کے لیے واشنگٹن کے مفادات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات 'کسی فرد واحد سے زیادہ قد آور ہیں‘۔

مزید پڑھیں: خاشقجی کے قتل کے آپریشن کی منظوری سعودی ولی عہد نے دی، امریکی رپورٹ

انہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور انہوں نے خود بھی اپنے سعودی ہم منصبوں سے بات کی ہے۔

دوسری جانب پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جان کربی نے کہا کہ سعودی عرب خطے میں ایک اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فوجی نقطہ نظر سے ہم سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے اپنے حفاظتی وعدوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جمال خاشقجی کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں، سعودی ولی عہد

جان کربی نے کہا کہ ریاض کو اپنے دفاع کی ضرورت ہے خاص طور پر جنوبی سرحد کی طرف سے۔

امریکا کی جانب سے مذکورہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان پر امریکی شہری جمال خاشقجی کے قتل کے احکامات جاری کرنے کے الزامات عائد کرنے کے حوالے سے امریکی رپورٹ کو ریاض نے سختی سے مسترد کردیا تھا۔

سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’سعودی حکومت جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق امریکی کانگریس کو پیش کی جانے والی رپورٹ کے مندرجات کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز جاری ہونے والی امریکی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے آپریشن کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے منظوری دی تھی۔

مزید پڑھیں: جمال خاشقجی قتل کیس: مجرموں کی سزائے موت قید میں تبدیل

59 سالہ جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر 2018 کو ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں لالچ میں لایا گیا تھا اور انہیں سعودی ولی عہد سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک ٹیم نے ہلاک کردیا تھا۔

اس کے بعد انہوں نے اس کے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا اور جمال خاشقجی کی باقیات کبھی نہیں ملیں۔

انتظامیہ کے عہدیدار نے بتایا کہ امریکی محکمہ خزانہ سابق نائب سعودی انٹیلی جنس چیف احمد العسیری اور سعودی رائل گارڈ کی ریپڈ انٹروینشن فورس پر پابندیوں کا اعلان کرے گا۔

امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں ریپڈ انٹروینشن فورس کا جمال خاشقجی کے قتل میں اہم کردار بتایا گیا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں