رقبے میں اسلام آباد سے بڑا برفانی تودہ انٹارکٹیکا سے الگ

02 مارچ 2021
— فوٹو بشکریہ برٹش انٹارٹک سروے ریسرچ گروپ یوٹیوب
— فوٹو بشکریہ برٹش انٹارٹک سروے ریسرچ گروپ یوٹیوب

اسلام آباد سے بھی بڑا برفانی تودہ انٹار کٹیکا سے الگ ہوکر سمندر میں بہنا شروع ہوگیا ہے۔

سائنسدان انٹارکٹیکا کی برنٹ آئس شیلف پر برسوں سے نظر رکھے ہوئے تھے تاکہ دیکھ سکیں کہ ایک بہت بڑا تودہ کب تک اس سے الگ ہوتا ہے۔

فروری کے آخر میں یہ تودہ اس برفانی براعظم کی سرزمین سے الگ ہوا۔

برٹش انٹارٹک سروے ریسرچ گروپ نے 26 فروری کو اعلان کیا تھا کہ یہ برفانی تودہ 490 اسکوائر میل (1270 اسکوائر کلومیٹر) رقبے پر مشتمل ہے جبکہ اسلام آباد کا رقبہ 350 اسکوائر میل ہے۔

یعنی یہ برفانی تودہ اسلام آباد سے لگ بھگ ڈیڑھ گنا بڑا ہے۔

اس برفانی تودے کے الگ ہونے سے پہلے ہی ایک بہت دراڑ نمودار ہوگئی تھی جو بہت تیی سے پھیلتی گئی اور 26 جنوری کو اتنی بڑی ہوگئی کہ تودے کے لیے الگ ہونا ممکن ہوگیا۔

برٹش انٹارٹک سروے نے فروری کے وسط میں نارتھ رفٹ میں اس دراڑ کی ویڈیو بنائی تھی، جس کا نظارہ دیکھنے میں غیرحقیقی لگتا ہے اور یہ بہت دور تک پھیلی ہوئی نظر آتی ہے۔

سروے میں شامل ماہر لورا گریش نے نئے برفانی تودے کا ایک انیمٹڈ سیٹلائیٹ ویو ٹوئٹ کیا۔

اس برفانی تودے کو اے 74 کا نام دیئے جانے کا امکان ہے اور ٹوئٹ میں موجود تصویر کے لیے یورپین اسپیس ایجنسی کے سیٹلائیٹ سے مدد لی گئی۔

سائنسدانوں کی جانب سے انٹارکٹیکا کے اس حصے کی مانیٹرنگ جی پی ایس آلات اور سیٹلائیٹ کی مدد سے جاری رکھی جائے گی۔

یہ نیا تودہ بہہ کر کچھ دور جاسکتا ہے مگر امکان یہی ہے کہ اس برفانی سطح کے ققریب ہی ٹکا رہے گا۔

اس سے قبل جولائی 2017 میں انٹارکٹیکا کے برفانی خطے لارسن سی سے 5800 اسکوائر کلومیٹر بڑا تودہ الگ ہوا تھا جس وزن ایک کھرب ٹن تھا۔

اس برفانی تودے کے الگ ہونے سے کئی سال پہلے ہی ایک بہت دراڑ نمودار ہونے لگی تھی مگر مئی 2017 کے آخر میں یہ دراڑ 17 کلو میٹر تک پھیل گئی تھی جبکہ جون کے آخر میں اس کی رفتار تیز ہوگئی اور روزانہ دس میٹر سے زائد تک پہنچ گئی تھی۔

سائنسدانوں کے پاس انٹارکٹیکا میں موسم کی صورتحال کے حوالے سے مستقبل کی معلومات موجود نہیں جس نے انہیں زیادہ فکر مند کیا ہوا ہے۔

کمپیوٹر کی پیشگوئی سے عندیہ ملتا ہے کہ اگر اسی شرح سے زہریلی گیسوں کا فضاءمیں اخراج جاری رہا تو دنیا بھر کا موسم زیادہ گرم ہوگا جس کے نتیجے میں برفانی براعظم کے مختلف حصے تیزی سے پگھل جائیں گے جس سے اس صدی کے آخر تک سمندری سطح میں چھ فٹ یا اس سے زائد کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق کسی تحقیق کے نتائج سامنے آنے میں کئی برس لگ جائیں گے مگر سمندری سطح کی رفتار بڑھنے کے حوالے سے فوری تفصیلات جاننا ضروری ہے۔

ابھی سائنسدانوں کو معلوم نہیں کہ انٹارکٹیکا کے مختلف حصے کب تک پگھل کر سمندر کا حصہ بن جائیں گے مگر کچھ بدترین پیشگوئیاں یہ ہیں کہ ایسا رواں صدی کے وسط میں ہوسکتا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں