فیس ماسک پہن کر سخت جسمانی سرگرمیاں صحت مند افراد کیلئے محفوظ ہیں، تحقیق

09 مارچ 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

فیس ماسک پہن کر صحت مند افراد کی سخت جسمانی سرگرمیاں یا ورزش کرنے کی صلاحیت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا جبکہ کووڈ 19 سے تحفظ بھی ملتا ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

طبی جریدے یورپی ریسیپٹری جرنل میں شائع تحقیق میں 12 افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کو فیس ماسک پہنا کر یا اس کے بغیر ایکسرسائز سائیکل چلاتے ہوئے سانس، دل کی سرگرمی اور ورزش کی کارکردگی کا تجزیہ کیا گیا۔

اگرچہ تحقیق میں فیس ماسک پہنے ہوئے افراد اور بغیر ماسک والے لوگوں میں کچھ اعدادوشمار مختلف دریافت ہوئے، مگر نتائج سے کسی قسم کے خطرے کا عندیہ نہیں ملا۔

محققین کا کہنا تھا کہ فیس ماسک پہن کر سخت جسمانی سرگرمیوں یا ورزش کو حفاظت سے کیا جاسکتا ہے جبکہ ان ڈور جم میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

اٹلی کے سینٹرو کارڈیولوجیو مونزینو، آئی آر سی سی ایس اور میلان یونیورسٹی کی اس مشترکہ تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ کورونا کے پھیلاؤ کا بنیادی ذریعہ سانس سے خارج ہونے والے ذرات سے ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ورزش کے دوران گہری سانسیں لینے سے وائرس کا پھیلاؤ بالخصوص چاردیواری کے اندر زیادہ ہوسکتتا ہے، تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ فیس ماسک پہننا بیماری کے پھیلاؤ کی روک تھام کرسکتا ہے، مگر یہ واضح نہیں تھا کہ سخت ورزش کے دوران ماسک پہننا محفوظ ہے یا نہیں۔

اس سوال کا جواب جاننے کے لیے 6 مردوں اورر 6 خواتین پر مشتمل صحت مند افراد کے گروپ کی خدمات حاصل کی گئیں جن کی اوسط عمر 40 سال تھی۔

ہر فرد کو ورزش کے 3 ٹیسٹوں کا حصہ بنایا گیا، ایک مرحلے میں فیس ماسک نہیں پہنایا گیا، دوسرے میں سرجیکل ماسک اور تیسرے میں ایف ایف پی 2 ماسک پہنایا گیا۔

ایکسرسائز سائیکل چلاتے ہوئے ان افراد کے سانس، دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر اور خون میں آکسیجن کی مقدار کی جانچ پڑتال کی گئی۔

نتائج سے ثابت ہوا کہ فیس ماسک پہننے سے لوگوں پر بہت معمولی اثرات مرتب ہوئے، مثال کے طور پر ایروبک ورزش کرنے کی صلاحیت میں 10 فیصد تک کمی آئئی۔

نتائج سے یہ عندیہ بھی ملا کہ فیس ماسک پہننے سے لوگوں کو سانس لینے میں بہت معمولی مشکل کا سامنا ہوا۔

محققین نے بتایا کہ لوگوں کی صلاحیت میں کمی معمولی تھی اور اس سے صحت مند افراد کو ورزش کرتے ہوئے کسی قسم کے خطرے کا بھی ساممنا نہیں ہوا، چاہے وہ اپنی مکمل صلاحٰت سے ہی کیوں نہ کام کررہے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ان نتائج کا اطلاق دل یا پھیپھڑوں کے امراض کے شکار افراد پر نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

اب ان کی جانب سے یہ تحقیق کی جائے گی کہ روزمرہ کی سرگرمیوں جیسے سیڑھیاں چڑھنے یا گھریلو کام کرنے کے دوران فیس ماسک پہننے سے صحت مند یا امراض کے شکار افراد پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں