اسلام آباد ہائیکورٹ: یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے خلاف دائر درخواست مسترد

اپ ڈیٹ 10 مارچ 2021
جسٹس اطہر من اللہ  نے پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی علی نواز اعوان کی دائر درخواست پر سماعت کی —فائل فوٹو: اسلام آباد ہائیکورٹ ویب سائٹ
جسٹس اطہر من اللہ نے پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی علی نواز اعوان کی دائر درخواست پر سماعت کی —فائل فوٹو: اسلام آباد ہائیکورٹ ویب سائٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ میں کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے اور علی حیدر گیلانی کو بطور رکنِ صوبائی اسمبلی نااہل کرنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی دائر کردہ درخواست خارج کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی علی نواز اعوان کی دائر درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے سلسلے میں پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی علی نواز اعوان اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے انہوں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ہم الیکشن کے نظام میں شفافیت لانا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ویڈیو کا معاملہ: الیکشن کمیشن میں علی حیدر گیلانی کےخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی اپنی سیاسی جماعت نے اس معاملے پر الیکشن کمیشن سے رجوع کر رکھا ہے، ابھی آپ کے پاس شکایت کے ازالے کے لیے متبادل فورمز موجود ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ابھی الیکشن کے مراحل چل رہے ہیں اور الیکشن ایکٹ کے تحت آپ کے پاس متبادل فورمز موجود ہیں، بتائیں کہ عدالت ان تمام فورمز کو نظرانداز کر کے کیسے اس رٹ پٹیشن پر سماعت کرے؟

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ ووٹ فروخت کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، ان میں تو وہ بھی شامل ہیں جو آپ میں سے ہی ہیں، کووارنٹو کی رٹ میں وڈیو کو ثابت کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالت کو پارلیمنٹ پر اعتماد ہے، ہم نے ہمیشہ پارلیمینٹیرینز کا احترام کیا ہے، قانون کی پاسداری کرنا ہم سب پر فرض ہے۔

مزید پڑھیں: الیکشن کمیشن میں یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کیلئے درخواست دائر

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ آپ کا کیس الیکشن کمیشن میں چل رہا ہے پہلے اسی فورم کو استعمال کریں۔

انہوں نے استفسار کیا کہ کہ علی نواز اعوان صاحب آپ بڑے اچھے اور باصلاحیت عوامی نمائندے ہیں، آپ ایسی درخواستیں یہاں کیوں لے کر آتے ہیں، اس موقع پر یہ رٹ قابل سماعت نہیں ہے، غیر ضروری طور پر عدالتوں میں سیاسی معاملات لانا ٹھیک نہیں ہے۔

بعدازاں وکیل کے دلائل سننے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ انتخابات میں کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے اور ان کے بیٹے علی حیدر گیلانی کو بطور ایم پی اے نااہل کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

3 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے پہلے ہی متعلقہ فورم الیکشن کمیشن سے رجوع کر رکھا ہے، متعلقہ فورم موجود ہونے پر درخواست عوامی دلچسپی کی نہیں ہے، لہٰذا درخواست کو خارج کیا جاتا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

خیال رہے کہ پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی علی نواز اعوان نے وکیل عامر عزیز انصاری کے توسط سے گزشتہ روز یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ میں کامیابی غیر آئینی قرار دینے اور علی حیدر گیلانی کو نااہل قرار دینے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سینیٹ انتخابات سے دو روز قبل علی حیدر گیلانی کی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں علی حیدر گیلانی غیر قانونی طور پر ہارس ٹریڈنگ کرتے ہوئے پائے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے کی استدعا مسترد کردی

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ علی حیدر گیلانی نے 2 مارچ کو پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی ایم این اے سے ملاقات کا اعتراف کیا تھا ان کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے بھی پارٹی ٹکٹ کی آفر پر اثر انداز ہونے کا اعتراف کیا تھا۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے شفاف الیکشن کرانا اسی کی آئینی ذمہ داری ہے، الیکشن کمیشن سے پوچھا جائے یوسف رضا گیلانی کے کاغذات نامزدگی کس قانون کے تحت منظور کئے۔

درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ یوسف رضا گیلانی کا سینیٹ الیکشن لڑنا غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا جائے اور ان کی کامیابی کے نوٹیفکیشن کو معطل یا جاری ہونے سے روکا جائے۔

علاوہ ازیں درخواست گزار نے یوسف رضا گیلانی اور علی حیدر گیلانی کے خلاف الیکشن قوانین کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کرنے کی بھی استدعا کی تھی۔

پس منظر

خیال رہے کہ 3 مارچ کو اپوزیشن کے متفقہ امیدوار یوسف رضا گیلانی نے حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ کو سینیٹ انتخابات میں اسلام آباد کی نشست پر شکست دے دی تھی۔

اس سے قبل 2 مارچ کو رہنما پیپلز پارٹی کے بیٹے علی گیلانی کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں وہ پی ٹی آئی کے چند اراکین اسمبلی کو ووٹ ضائع کرنے کا طریقہ بتارہے تھے جس کے بعد میڈیا اور سوشل میڈیا پر بحث چھِڑ گئی تھی۔

مزید پڑھیں: 'کسی کے کہنے پر ویڈیو نہیں بنائی'، علی گیلانی کے ساتھ ویڈیو میں موجود ایم این ایز سامنے آگئے

جس پر علی گیلانی نے پاکستان پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات شازیہ مری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ویڈیو کے اصل ہونے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا اور ان کا ضمیر صاف ہے۔

مذکورہ ویڈیو پر یوسف رضا گیلانی نے اپنے بیٹے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر رکن سے ووٹ مانگنا ان کا جمہوری حق ہے اور حکمراں جماعت کو اپنے اراکین کا خود خیال رکھنا چاہیے۔

اس معاملے پر پی ٹی آئی اراکین اسمبلی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں یوسف رضاگیلانی اور ان کے بیٹے کی نااہلی کے لیے درخواست دائر کر رکھی ہے۔

ضرور پڑھیں

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی میں اگر امن وامان، دیانت داری، فرض شناسی اور ذمہ داری کا احساس کرنے والی قیادت منتخب ہو جائے تو عوام کو اچھی سڑکیں، اسپتال، اسکول اور پانی تو نصیب ہوگا۔

تبصرے (0) بند ہیں