ریاست مخالف تقریر کا معاملہ: لیگی رہنما جاوید لطیف کے خلاف مقدمہ درج

20 مارچ 2021
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے ملک کی حکومت اور سالمیت کے ساتھ ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کی، ایف آئی آر کا متن - فائل فوٹو:ڈان نیوز
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے ملک کی حکومت اور سالمیت کے ساتھ ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کی، ایف آئی آر کا متن - فائل فوٹو:ڈان نیوز

مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف کے خلاف ریاست کے خلاف بغاوت کے لیے اکسانے اور غداری سمیت سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔

میاں جاوید لطیف کے خلاف مقدمہ لاہور کے شہری جمیل سلیم کی درخواست پر ان ہی کی مدعیت میں تھانہ ٹاؤن شپ میں درج کیا گیا۔

ایف آئی آر کے متن میں شہری نے الزام عائد کیا کہ جاوید لطیف نے ملک کی حکومت اور سالمیت کے ساتھ ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔

مزید پڑھیں: نواز شریف، الطاف حسین بنے تو ان کا انجام بھی اپنے سامنے رکھیں، فواد چوہدری

ان کا کہنا تھا کہ میاں جاوید لطیف نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے درمیان نفرت کا بیج بویا اور دونوں جماعتوں کے کارکنان کو اشتعال دلایا تاکہ وہ آپس میں لڑیں اور فسادات کے ذریعے ملک کے حالات کی خرابی کا باعث بنیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے اپنے بیان سے عوام میں خوف و ہراس پھیلایا ہے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ 'رکن قومی اسمبلی نے ٹی وی پر ملکی سلامتی اور ریاستی اداروں کے خلاف بیان دے کر فوجداری، ملکی اور آئینی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ(ن) کے رہنما جاوید لطیف کے خلاف نیب تحقیقات کا آغاز

مزید کہا گیا کہ 'میاں جاوید لطیف نے حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف بیان دے کر مجرمانہ فعل کا ارتکاب کیا ہے'۔ مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 120، 120 بی، 153، 152 اے، 500، 505 (1) (بی)، 506 شامل کی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ رہنما مسلم لیگ (ن) جاوید لطیف نے ایک ٹی وی پروگرام میں مریم نواز کو مبینہ دھمکی کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا تھا کہ 'اگر خدانخواستہ مریم نواز شریف کو کچھ ہوا تو ہم پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگائیں گے'۔

تبصرے (0) بند ہیں