بلاول نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کیلئے جماعت اسلامی کی حمایت حاصل کرلی

اپ ڈیٹ 23 مارچ 2021
امیر جماعت اسلامی نے چیئرمین پیپلز پارٹی سے ملاقات کے دوران اتفاق کیا کہ یہ حق اکثریتی پارٹی کا ہی ہے، رپورٹ - فائل فوٹو:وائٹ اسٹار
امیر جماعت اسلامی نے چیئرمین پیپلز پارٹی سے ملاقات کے دوران اتفاق کیا کہ یہ حق اکثریتی پارٹی کا ہی ہے، رپورٹ - فائل فوٹو:وائٹ اسٹار

لاہور: جماعت اسلامی نے سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کے لیے سید یوسف رضا گیلانی کی نامزدگی کی حمایت کرنے کا فیصلہ کرلیا، انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی اس رائے سے اتفاق کیا کہ یہ اکثریتی پارٹی کا حق ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق استعفوں اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے بارے میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں اختلافات پیدا ہونے کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے نہ صرف سینیٹ کے عہدے کے لیے جماعت اسلامی کی حمایت حاصل کی بلکہ پارٹی کے ساتھ کام کرنے کے لیے بہت ساری دیگر مشترکہ بنیادوں پر بھی بات کی جن میں انتخابی اصلاحات، احتساب، الیکشن کمیشن آف پاکستان کی خودمختاری اور امور کشمیر شامل ہیں۔

جماعت اسلامی کے ہیڈکوارٹر میں اپنے پہلے دورے کے بعد امیر سراج الحق کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے اُمید ظاہر کی کہ اگرچہ یہ ان کا پہلا دورہ تھا لیکن یہ یقینی طور پر آخری نہیں ہوگا۔

مزید پڑھیں: 'پی ڈی ایم کا لانگ مارچ ملتوی کرنے کا فیصلہ غلط ہے'

ان کا کہنا تھا کہ جماعتوں کے درمیان بات چیت ضروری ہے اور پیپلز پارٹی کو تاریخ کے کئی دہائیوں پر پھیلے جماعت اسلامی کے سیاسی تجربے سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔

'لاہور کا ایک خاندان سلیکٹڈ رہا ہے'

اس موقع پر انہوں نے مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیوں اور شخصیات کے درمیان فرق کا اشارہ دیا اور کہا کہ 'ہماری رگوں میں چلنے والا خون کبھی بھی سلیکٹڈ نہیں ہوسکتا ہے بلکہ یہ ایک لاہوری خاندان تھا جو سلیکٹڈ رہ چکا ہے'۔

بلاول بھٹو زرداری نے اصرار کیا کہ سینیٹ میں اکثریت سے لطف اندوز ہونے والی پارٹی کو 'اپوزیشن لیڈر' نامزد کرنے کا حق حاصل ہے، پارلیمانی روایت یہی ہے اور ان کا احترام کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ڈی ایم اجلاس میں پیپلز پارٹی کا رویہ غیر جمہوری تھا، مولانا فضل الرحمٰن

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارے نزدیک، یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ (چیئرمین) کا انتخاب جیت لیا ہے اور جلد ہی انہیں (عدالت کے ذریعے) باقاعدہ یہ عہدہ مل جائے گا'۔

انہوں نے یہ کہا کہ 'جرنیلوں کا احتساب نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے لیے ایک نیا نعرہ ہوگا مگر پیپلز پارٹی کی قیادت کا یہ تین نسلوں پرانا مطالبہ ہے'۔

بلاول بھٹو زرداری نے افسوس کا اظہار کیا کہ لانگ مارچ میں تاخیر ہوئی ہے اور کہا کہ آخر لانگ مارچ کو استعفوں سے جوڑنے کا خیال کس کا تھا؟

مزید پڑھیں: اپوزیشن کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آگئے، پی ڈی ایم تباہ ہوگئی، اسد عمر

ان کا کہنا تھا کہ 'اگر ایسا ہی ہے تو جب مارچ کا منصوبہ بنایا گیا تھا تو یہ بات کیوں نہیں اٹھائی گئی؟ پیپلز پارٹی نے لانگ مارچ کے لیے تمام تیاریاں کرلی تھیں اور اس کے لیے تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اپوزیشن کی تقسیم سے (وزیر اعظم) عمران خان کو فائدہ ہوگا، اگر کسی کو اپنی رائے اور فیصلے پر غور کرنا ہے تو وہ غلط فیصلے کرنے والا ہی ہونا چاہیے'۔

قبل ازیں سینیٹر سراج الحق نے کہا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے سے بات چیت جاری رکھنی چاہیے کیونکہ تب ہی 'عام آدمی کے مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے جسے تحریک انصاف نے اپنے ایک ہزار 100 دن کے دور حکومت میں کئی گنا بڑھادیے ہیں'۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں