کیا پی ڈی ایم کے برقرار رہنے کا کوئی امکان موجود ہے؟

24 مارچ 2021
لکھاری مصنف اور صحافی ہیں۔
لکھاری مصنف اور صحافی ہیں۔

انتشار کی شکار حزب اختلاف میں بڑھتی ہوئی دُوریوں کی وجہ صرف 2 بڑے حلیفوں کے درمیان ہونے والی لفظوں کی جنگ نہیں ہے۔ ایسا نظر آرہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کسی ایک حکمتِ عملی پر رضامند نہیں ہوسکتیں۔

اس صورتحال کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا اختتام تو نہیں کہہ سکتے تاہم اس اتحاد میں آنے والا انتشار مستقبل کی خبر دے رہا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ اتحاد باقی رہے لیکن موجودہ نظام کو چیلنج کرنے کی اس کی قوت ختم ہوسکتی ہے۔

اپنے قیام کے بعد سے ہی پی ڈی ایم کسی ایک بیانیے پر متفق نظر نہیں آئی۔ یہاں شروع سے ہی مفادات کی سیاست نظر آرہی تھی۔ اگرچہ پی ڈی ایم نے کچھ بڑے عوامی اجتماعات کے ذریعے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کو پریشان ضرور کیا ہے لیکن حکمتِ عملی اور مقصد پر عدم اتفاق نے اس کے زور کو کم کردیا ہے۔

نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کے فوج پر تابڑ توڑ حملے اور موجودہ نظام کو گرانے کی باتیں پیپلز پارٹی کے ساتھ اختلاف کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ پیپلز پارٹی سیاسی نظام کو ڈی ریل نہیں کرنا چاہتی۔ اسی وجہ سے پیپلز پارٹی نے اتحادیوں کو اس بات پر قائل کرلیا کہ انتخابی سیاست میں رہتے ہوئے موجودہ حکومت کے خلاف جدوجہد کی جائے۔

اس اتحاد میں پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جس کی کسی صوبے میں حکومت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نظام سے باہر نکلنا کسی بھی صورت پیپلز پارٹی کے مفاد میں نہیں ہے۔ پی ڈی ایم اب تک عوامی دباؤ کی مدد سے حکومت کے اختیار کو بھی چیلنج نہیں کرسکی ہے۔ اس طرح کے کچھ دیگر اسباب نے بھی پی ڈی ایم کو اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔

اپنے تحفظات کے باوجود مسلم لیگ (ن) نے ضمنی انتخابات اور سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور جنوری میں طے شدہ لانگ مارچ کو ملتوی کیا۔ انتخابی عمل کا بائیکاٹ نہ کرنے کا فیصلہ درست ثابت ہوا کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے اپنی سیٹیں واپس حاصل کرلیں۔ اس سے ان کو حوصلہ ملا اور حکومت دفاعی پوزیشن پر چلے گئی۔

اسلام آباد سے سینیٹ کی نشست پر یوسف رضا گیلانی کی جیت نے جہاں حکومت کو شدید دھچکا پہنچایا وہیں پیپلز پارٹی کے اس بیانیے کو بھی درست ثابت کیا کہ حکومت کو اس نظام میں رہتے ہوئے شکست دی جاسکتی ہے۔

پیپلز پارٹی پنجاب میں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر زور دے رہی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ حکومتی بینچوں سے بھی کچھ اراکین عثمان بزدار کی غیر مؤثر حکومت کو گرانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

تاہم مسلم لیگ (ن) پنجاب اسمبلی میں سب سے زیادہ سیٹیں رکھنے والی جماعت ہونے کے باوجود تحریک عدم اعتماد کے حق میں نہیں ہے۔ وزیرِاعظم کا قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا اور چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں اپوزیشن کو لگنے والے جھٹکے کے بعد اب پی ڈی ایم کے اندر بھی سیاست میں فوجی اسٹیبلشمٹ کے کردار پر دوبارہ بحث شروع ہوچکی ہے۔

اگرچہ پیپلز پارٹی سینیٹ انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کے غیر جانبدار رہنے پر یقین رکھتی ہے تاہم مسلم لیگ (ن) کو اس خیال سے اتفاق نہیں ہے۔ نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے فوجی اسٹیبلشمنٹ پر حملے کرنا کوئی حیران کن بات نہیں۔ پارٹی رہنماؤں کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے فوج قیادت کی جانب سے مریم کو دھمکیاں دینے کا الزام لگایا اور انہیں ردِعمل سے خبردار بھی کیا۔

فی الحال اس بات کا کوئی اشارہ موجود نہیں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کی حکومت کی حمایت ترک کردے گی۔ تاہم انتخابی عمل میں اس کی مداخلت اختلافات کا سبب بنی ہوئی ہے۔ سینیٹ انتخابات کے نتیجے کو دیکھا جائے تو یوسف رضا گیلانی کی جیت کے علاوہ کوئی بھی نتیجہ غیر معمولی نہیں تھا۔

چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں بھی 7 ووٹ مسترد ہونے سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار فتح یاب ہوئے۔ پیپلز پارٹی نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔ تاہم ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب نے اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ کچھ اپوزیشن اراکین نے اپوزیشن کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیے۔ لیکن ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ایسا اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے باعث ہوا ہے۔

ایوان میں اکثریت ہونے کے باوجود بھی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں شکست پی ڈی ایم کے لیے ایک دھچکا ثابت ہوا ہے اور اس سے پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کی پوزیشن کچھ بہتر ہوگئی ہے۔ اسی وجہ سے پی ڈی ایم کے اندر حکومت کا مقابلے کرنے کی حکمتِ عملی پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اختلاف پیدا ہوا ہے۔

یہ اختلاف گزشتہ ہفتے پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں سامنے آیا۔ مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) اسمبلیوں سے استعفے دے کر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنا چاہتی تھیں۔ یہ دونوں ہی جماعتیں پارلیمانی سیاست کو نہ چھوڑنے کے پیپلز پارٹی کے بیانیے کو ماننے کے لیے راضی نہیں تھیں۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کا خیال تھا کہ اسمبلیوں سے استعفے دینے کے بعد سیاسی غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوجائے گی جو کسی غیر آئینی مداخلت کا سبب بن سکتی ہے۔

سندھ کی حکومت چھوڑنا بھی پیپلز پارٹی کے لیے نقصان کا سودا ہے۔ اس کے علاوہ ایک ایسی جماعت جس کا سیاسی اثر و رسوخ سمٹ کر اب صرف سندھ تک محدود رہ گیا ہے، وہ اسٹیبلشمنٹ کے سامنے کھڑی نہیں ہونا چاہتی۔ آصف زرداری نے پی ڈی ایم کے اجلاس میں واضح الفاظ میں یہ بات کہی تھی کہ ان کی جماعت طاقتور اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر نہیں لے سکتی۔

انہوں نے اپنی جماعت کے استعفوں کو نواز شریف کے پاکستان واپس آنے اور اپوزیشن کی تحریک کی قیادت کرنے سے مشروط کیا۔ اس وجہ سے ان دونوں جماعتوں کے درمیان معاملات بحث و تکرار کی جانب چلے گئے اور پرانی رقابتیں دوبارہ ظاہر ہوگئیں۔ اب الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جس میں دونوں جماعتوں کی نئی قیادت شامل ہے۔

یہ بہت ہی عجیب سی بات تھی کہ مریم نواز کی جانب سے پیپلز پارٹی کے رہنما پر اسٹیبلشمنٹ کی مدد حاصل ہونے کی بات کی گئی۔ بلاول بھٹو زرداری نے جواب میں مریم نواز کو نواز شریف کو لانے میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار یاد دلایا۔ یہاں یہ بات واضح نظر آرہی ہے کہ ان دونوں رہنماؤں میں ہی سیاسی بلوغت کی کمی پائی جاتی ہے۔

بہرحال ان سب باتوں کے بعد بھی ابھی راستے جُدا نہیں ہوئے ہیں۔ اب بھی اس بات کا امکان موجود ہے کہ یہ دونوں جماعتیں اس اتحاد میں ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے فیصلے پر عمل کرے گی پھر چاہے پیپلز پارٹی اس فیصلے میں شامل ہو یا نہ ہو۔ ہوسکتا ہے کہ یہ فیصلہ پی ڈی ایم کے اتحاد کو برقرار نہ رکھ سکے۔ یہ حکومت کے لیے تو اچھی خبر ہوسکتی ہے لیکن کیا اپوزیشن کی یہ ناکامی حکومت کی نااہلی اور ناکامیوں کو چھپانے کے لیے کافی ہوگی؟


یہ مضمون 24 مارچ 2021ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

تبصرے (0) بند ہیں