کیا واقعی نہرِ سوئز میں خاتون کپتان نے بحری جہاز پھنسایا تھا؟

اپ ڈیٹ 05 اپريل 2021

ای میل

مروة السلحدار مصر کی پہلی اور واحد خاتون کپتان ہیں—فوٹو: انسٹاگرام
مروة السلحدار مصر کی پہلی اور واحد خاتون کپتان ہیں—فوٹو: انسٹاگرام

گزشتہ ماہ 23 مارچ کو مصر کی نہرِ سوئز میں جاپانی باشندے کا 400 میٹر لمبا بحری جہاز پھنس گیا تھا، جسے ایک ہفتے کی کوششوں کے بعد 3 اپریل کو نکال دیا گیا۔

400 میٹر لمبے بحری جہاز 'ایور گرین' کے نہرِ سوئز میں پھنس جانے سے تقریبا 400 بحری جہاز وہاں پھنس گئے تھے اور دنیا کے متعدد ممالک میں کروڈ آئل سمیت دیگر چیزوں کی ترسیل نہ ہوپانے پر بعض چیزیں مہنگی بھی ہوئیں۔

تاہم ایک ہفتے کی کوششوں کے بعد 3 اپریل کو پھنسے ہوئے طویل بحری جہاز کو نکال کر نہرِ سوئز پر ٹریفک کی روانی بحال کردی گئی تھی۔

لیکن اس دوران بحری جہاز کے پھنس جانے سے متعلق عرب میڈیا سمیت عالمی میڈیا اور خصوصی طور پر سوشل میڈیا پر خبریں گردش کرتی رہیں کہ دراصل پھنس جانے والے جہاز کو ایک خاتون کپتان چلا رہی تھیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق عرب سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ایک جھوٹی خبر کے اسکرین شاٹ کی وجہ سے یہ افواہیں پھیل گئیں تھی کہ 400 میٹر طویل جہاز 'ایور گرین' کو مصر کی پہلی خاتون کپتان مروة السلحدار چلا رہی تھیں۔

خود سے متعلق افواہیں پھیلنے پر مروة السلحدار پریشان ہوگئیں اور انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جس وقت 'ایور گرین' پھنسا، اس وقت وہ وہاں سے دور کسی اور علاقے میں ڈیوٹی پر تعینات تھیں۔

نہر سوئز میں تین اپریل کو ٹریفک کھول دی گئی—فوٹو: رائٹرز
نہر سوئز میں تین اپریل کو ٹریفک کھول دی گئی—فوٹو: رائٹرز

اسی حوالے سے عرب نیوز نے بتایا کہ دراصل مروة السلحدار سے متعلق جھوٹی خبریں عورت مخالف نظریات رکھنے والے افراد نے پھیلائیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مروة السلحدار کے نام سے سوشل میڈیا پر متعدد جعلی اکاؤنٹس بھی بنائے گئے ہیں۔

جھوٹی خبر کا عکس—اسکرین شاٹ
جھوٹی خبر کا عکس—اسکرین شاٹ

ان جعلی اکاؤنٹس پر مصر کی پہلی خاتون بحری کپتان کے حوالے سے بولڈ اور قابل اعتراض مواد یا غلط معلومات بھی پھیلائی جاتی رہی ہے۔

مروة السلحدار کے اصلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی موجود ہیں، جہاں سے ان کی اصلی تصاویر اٹھا کر ان کے نام سے جعلی اکاؤنٹ بنائے گئے۔

عرب نیوز کے مطابق مروة السلحدار سے متعلق بحری جہاز کو ڈبونے کی جھوٹی خبریں ان کی ہی ایک پرانی خبر کو توڑ مروڑ کر بنائی گئی۔

عرب نیوز نے بحری جہاز پھنسنے سے قبل ہی مروة السلحدار کی مصر کی پہلی خاتون بحری کپتان بننے کی خبر شائع کی تھی، جسے توڑ مروڑ کر یہ بتایا گیا کہ مذکورہ خاتون ہی نہر سوئز میں جہاز کے پھنسنے کی ذمہ دار ہیں، کیوں کہ اس جہاز کو وہی چلا رہی تھیں۔

مروة السلحدار سے متعلق جھوٹی خبریں سوشل میڈیا پر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئیں اور دنیا بھر میں مصر کی پہلی خاتون کپتان کی تصاویر وائرل ہوگئیں اور دنیا کے کئی ممالک میں لوگ ان کی خوبصورتی کے بھی چرچے کرتے دکھائی دیے۔

یہ بھی پڑھیں: نہرِ سوئز میں پھنسا جہاز جزوی طور پر نکال لیا گیا، آبی گزرگاہ کھلنے کی راہ ہموار

تاہم درحقیقت پھنس جانے والے بحری جہاز کو مروة السلحدار نہیں بلکہ بھارتی نژاد عملہ چلا رہا تھا جو نہر سوئز میں ایک ہفتے تک پھنسا رہا، جس کی وجہ سے دیگر 400 جہاز بھی پھنس کر رہ گئے تھے۔

تاہم مصری حکام نے دیگر ممالک کی ریسیکو ٹیموں کی مدد سے 3 اپریل کو تمام بحری جہاز کو نکال کر نہر سوئز پر ٹریفک کی روانی شروع کردی تھی۔