احتساب کا عمل دوست، دشمن کی تفریق سے آزاد ہے، شہزاد اکبر

اپ ڈیٹ 07 اپريل 2021

ای میل

ان کا کہنا تھا کہ اس میں ان کا 15 فیصد سے زائد منافع کی شرح بھی رکھی گئی ہے — فائل فوٹو: پی آئی ڈی
ان کا کہنا تھا کہ اس میں ان کا 15 فیصد سے زائد منافع کی شرح بھی رکھی گئی ہے — فائل فوٹو: پی آئی ڈی

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ ملزم اور مجرم میں فرق ہوتا ہے جبکہ پہلے مرحلے میں ہی واضح کردیا تھا کہ احتساب کا عمل سب کے ساتھ ہوگا جس میں دوست بھی شامل ہیں اور دیگر لوگ بھی۔

لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین ہم میں سے ہیں اگر ان کے تحفظات ہیں تو وہ دور ہونے چاہیے لیکن یہ کہنا کہ فرد واحد کو نشانہ بنایا جارہا ہے ایسا نہیں ہے۔

علاوہ ازیں شہزاد اکبر نے کہا کہ ایوب خان کے دور سے چینی کا مسئلہ چل رہا ہے، قیمتوں میں اضافہ کوئی نہیں بات نہیں لیکن گزشتہ 5-4 دہائیوں میں جو ایک کام نہیں ہوا وہ یہ ہے کہ چینی کی پیداواری لاگت اور منافع کتنا ہونا چاہیے اور صارف کو کتنے روپے فی کلو چینی دستیاب ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ چینی سے متعلق ایک قانون 1998 اور 1977 کا ہے جبکہ پچھلی ایک دہائی میں عدالتوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ اشیا ضروریات کی قیمت اور اس کی ترسیل کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔

مزید پڑھیں: شوگر ملز نے حکومت کی مقرر کردہ چینی کی قیمتوں کو مسترد کردیا

انہوں نے کہا کہ چینی کا مصنوعی بحران ختم کرنے کے لیے چینی کی قیمت مقرر کرنا ضروری ہے۔

اس ضمن میں انہوں نے مزید وضاحت دی کہ چینی چار مہینوں میں تیار ہوجاتی ہے اور اس میں دو فیکٹر شامل ہیں کہ گنا کس قیمت پر خریدا گیا اور ریکوری کی شرح کتنی ہے، جو بہت اہم ہوتے ہیں۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ جب ہم نے ایکس مل قیمت 80 روپے مقرر کی اس میں دو ڈیٹا سیٹ تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ڈیٹا شوگر ملز ایسوسی ایشن اور کین کمشنر یا انڈسٹری فراہم کرتی ہیں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو دیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے سرکاری ڈیٹا کے بجائے شوگر ملز ایسوسی ایشن کے فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق ایکس مل قیمت مقرر کی۔

شہزاد اکبر نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ ایکس مل قیمت مقرر کرتے ہوئے شوگر ملز کے تحفظات کو دور نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: چینی کی ذخیرہ اندوزی کے الزام میں 3 بروکر گرفتار

ان کا کہنا تھا کہ اس میں ان کے 15 فیصد سے زائد منافع کی شرح بھی رکھی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شوگر ملز یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ حکومت چینی کی قیمت مقرر نہیں کرسکتی کیونکہ ہمارے اقدام کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔

شہزاد اکبر نے بتایا کہ ایکس مل قیمت کے بعد شوگر ملز کو ایف آئی اے، ایف بی آر سمیت دیگر ادارے تنگ نہیں کریں گے کیونکہ قیمت مقرر ہوگی تو شفافیت برقرار رہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کے فراہم کردہ ڈیٹا پر چینی کی قیمت مقرر کی جاتی تو مزید 5 سے 6 روپے کم ہوتی۔

شہزاد اکبر نے بتایا کہ ہرگز ایسا نہیں ہے کہ کسی ایک گروہ، شوگر ملز یا شخص کو نشانہ بنایا جارہا ہے، احتساب کا عمل سب کے ساتھ جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شوگر کمیشن رپورٹ کے تناظر میں کابینہ نے تین ہدایات جاری کیں، کرمنل نوعیت کے معاملے کو نیب اور ایف آئی اے کو بھیجی گئیں جبکہ انتظامی نوعیت کے مسائل کے بارے میں صوبوں کو مطلع کیا گیا اور آخری کا تعلق ریفارمز ہیں جس میں ٹریک کا نظام متعارف کرایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں ردو بدل کے الزام میں مزید 8 شوگر گروپس پر مقدمہ درج

شہزاد اکبر نے جے ڈبلیو ڈی سے متعلق کہا کہ جہانگیر ترین کا منی لانڈرنگ کا معاملہ 7-8 ارب روپے کا تھا لیکن شریف گروپ کے خلاف 25 ارب روپے کا منی لانڈرنگ کا کیس رجسٹرڈ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام شوگر ملز کے اعلیٰ عہدیداروں کا انٹرویو کیا گیا تو سٹہ بازی والا معاملہ نکلا۔

انہوں نے بتایا کہ ان 10 ایف آئی آرز میں 13 ملز یا گروپ بھی زیر تفتیش ہیں۔

پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے ہمراہ جہانگیر ترین کی میڈیا سے گفتگو سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے زور دیا کہ ملزم اور مجرم میں فرق ہوتا ہے جبکہ پہلے مرحلے میں ہی واضح کردیا تھا کہ احتساب کا عمل سب کے ساتھ ہوگا جس میں دوست بھی شامل ہیں اور دوسرے بھی۔

انہوں نے کہا کہ جہانگیرترین ہم میں سے ہیں اگر ان کے تحفظات ہیں تو وہ دور ہونے چاہیے لیکن یہ کہنا کہ فرد واحد کو نشانہ بنایا جارہا ہے ایسا نہیں ہے۔

اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ’ناراض‘ رہنما جہانگیر ترین نے کہا تھا کہ شوگر کمیشن انکوائی کے بعد سے خاموش بیٹھا ہوں، ایک سال گزر چکا ہے لیکن ایک لفظ ادا نہیں کیا، میری وفاداری کا ثبوت اور کس کو چاہیے؟

لاہور میں بینکنگ جرائم کورٹ میں پیشی کے بعد عدالت کے باہر پی ٹی آئی کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری وفاداری کا امتحان لیا جارہا ہے اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ میری بات کا جواب دیا جائے۔