چین نامہ: چین میں گزرے رمضان (چوتھی قسط)

27 اپريل 2021

اس سلسلے کی گزشتہ اقساط: پہلی قسط، دوسری قسط، تیسری قسط


ہمارا ماننا ہے کہ رمضان المبارک کی جو رونقیں اور برکتیں مسلم ممالک میں اترتی ہیں وہ غیر مسلم ممالک میں نہیں ہوتیں۔ حالانکہ مہینہ بھی وہی ہے، اس کے بارے میں احکامات بھی وہی ہیں، ان ممالک میں سہولیات بھی مسلم ممالک کی نسبت زیادہ ہیں، لیکن بس ویسا ماحول نہیں ہے جیسا مسلم ممالک میں رمضان کے مہینے میں دیکھنے کو ملتا ہے۔

شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ مسلم ممالک میں رمضان ایک اجتماعی سرگرمی کے طور پر منایا جاتا ہے جبکہ غیر مسلم ممالک میں یہ ایک انفرادی عمل سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔

مسلم ممالک میں مؤذن کی آواز پر روزہ رکھا اور کھولا جاتا ہے جبکہ یہاں ہمیں اپنے فون میں ڈاؤن لوڈ کسی اسلامی ایپ کے مطابق نماز اور روزے کا حساب رکھنا پڑتا ہے۔ ایسا نہیں کہ یہاں مساجد نہیں ہیں، بالکل ہیں، مؤذن دن میں 5 وقت اذان بھی دیتے ہیں لیکن اس اذان کی آواز مسجد کے اندرونی حصے سے باہر نہیں نکلتی۔ ایپ پر وقت دیکھ کر سحری و افطاری کرتے ہوئے گھر والوں سے زیادہ گھر کی قریبی مسجد کے مؤذن صاحب کی آواز یاد آتی ہے۔

چین آنے کے ہفتے بعد ہی ہمیں کسی چیز کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔ ہم جتنا سوچتے اتنا دماغ الجھ جاتا۔ کچھ تھا جو یہاں نہیں تھا، مگر وہ کیا تھا، یہی سمجھ نہیں آ رہا تھا۔

ایک دن کیفیٹیریا سے واپس آتے ہوئے یہ گتھی بھی سلجھ ہی گئی۔ ہوا کچھ یوں کہ کیفیٹیریا سے نکلتے ہی ایک سوڈانی مسلمان طالب علم مل گیا۔ عصر کا وقت قریب تھا۔ سلام دعا کے دوران ہی اس کے فون سے اذان کی آواز آنے لگی اور اس کے ساتھ ہی ہماری ہفتے بھر کی پریشانی دُور ہوگئی۔ ہم اتنے دن سے جس چیز کی کمی محسوس کر رہے تھے وہ اذان تھی۔ پاکستان چھوڑتے ہوئے ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ہم چین میں سب سے پہلے جس چیز کو مِس کریں گے وہ اذان ہوگی۔ چین میں بھی پاکستان کی طرح ہر گلی میں مسجد ہوتی اور ان مساجد کے لاؤڈ اسپیکر اتنے ہی لاؤڈ ہوتے تو شاید ہم اذان کے بارے میں اپنے احساسات سے کبھی آگاہ نہ ہو پاتے۔

چین میں مسلمان کُل آبادی کا محض 1.7 فیصد حصہ ہیں جن کی اکثریت سنّی ہے۔ ایسے علاقے جہاں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے وہاں کہیں نہ کہیں اسلام کی مٹتی ہوئی پرچھائی نظر آجاتی ہے۔ تاہم، تمام لوگ اپنے مذہب کی اپنی حد تک پیروی کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ آپ چاہیں تو بیجنگ کی سڑکوں پر برقع پہن کر گھومیں کوئی آپ کو نہیں روکے گا لیکن جس دن آپ نے یہ برقع کسی اور کو پہنانے کی کوشش کی اس دن چینی حکام آپ کی گردن پکڑ لیں گے۔

نوجوان نسل مذہب سے کوئی خاص شغف نہیں رکھتی۔ کبھی مسجد بھی جانا ہو تو وہاں زیادہ تر بڑی عمر کے افراد ہی نظر آتے ہیں۔ ہمارے کچھ چینی مسلمان دوست ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پڑھائی اور کام کی مصروفیات کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ پاتے۔ کچھ دوستوں کے گھر ان کے دادا یا دادی ہی روزہ رکھتے تھے۔ ان کی سحری افطاری بھی کچھ خاص نہیں ہوتی۔ وہی روزانہ کا کھانا یعنی نوڈلز یا ابلے ہوئے چاولوں کے ساتھ گوشت اور سبزی۔

بیجینگ کی چینگ ینگ مسجد
بیجینگ کی چینگ ینگ مسجد

مسجد کا اندرونی منظر
مسجد کا اندرونی منظر

چینگ ینگ مسجد
چینگ ینگ مسجد

مسجد کے باہر مسلمان طلبہ کے ساتھ
مسجد کے باہر مسلمان طلبہ کے ساتھ

ہم نے اب تک چین میں ہر سال 30 روزے ہوتے ہی دیکھے ہیں۔ کچھ علاقوں میں اختلاف ضرور پایا جاتا ہے لیکن وہ ہمارے یہاں کی طرح بڑا معاملہ نہیں ہوتا۔ حکومت کی طرف سے ہر سال 30 روزوں کے رمضان کا ہی اعلان ہوتا ہے۔ اس سال چین میں رمضان کا آغاز 13 اپریل کو ہوا ہے، یعنی عید الفطر انشاءاللہ 12 مئی کو منائی جائے گی۔

جیسا کہ اس سلسلے کی دوسری قسط میں بیان ہوچکا ہے کہ چین کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں حلال ریسٹورینٹ موجود ہیں لیکن رمضان میں نہ ان کے اوقات تبدیل ہوتے ہیں اور نہ ہی وہاں سحری یا افطاری کا خاص انتظام کیا جاتا ہے۔

بیجنگ اور شنگھائی جیسے بڑے شہروں میں موجود پاکستانی ریسٹورینٹ افطاری کے وقت بوفے یا ڈیلز پیش کرتے ہیں لیکن طلبہ کے لیے روز روز وہاں جانا ممکن نہیں ہوتا۔ انہیں اپنی مدد آپ کے تحت اپنی سحری و افطاری کا انتظام خود کرنا پڑتا ہے۔ جو طلبہ یونیورسٹی کے کیفیٹیریا سے کھانا چاہتے ہیں وہ وہاں سے دوپہر کے کھانے یا رات کے کھانے کے وقت اپنی سحری اور افطاری کے لیے کھانا پیک کروا لاتے ہیں اور جو خود اپنا کھانا پکانا چاہیں وہ بازار سے یا آن لائن اسٹورز سے اپنی مرضی کی اشیا خرید کر جو چاہے پکا سکتے ہیں۔

بہت سے پاکستانی اور چینی باشندے آن لائن اسٹورز پر پاکستان اور بھارت سے درآمد شدہ چاول، دال، مصالحہ جات، اچار، مشروبات اور دیگر اشیا فروخت کرتے ہیں۔ چین میں آن لائن خریداری کی سب سے مشہور ویب سائٹ تاؤ باؤ ہے۔ اس ویب سائٹ پر سوئی سے لے کر گاڑی تک خریدی جاسکتی ہے۔

بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے کے اندر بھی ایک چینی کریانے کی دکان چلاتا ہے۔ کچھ لوگ وہاں سے بھی راشن خریدتے ہیں۔ ہم بھی پہلے سال وہیں سے چیزیں خرید کر لاتے تھے پھر سفارت خانے والوں کا رویہ دیکھتے ہوئے تاؤ باؤ سے ہی خریداری کرنے لگے۔ یہ قدرے آسان بھی ہے۔ نہ سفارت خانے جانا پڑتا ہے نہ بھاری بیگ اٹھا کر ہاسٹل لانا پڑتا ہے۔ اب چیزیں خود بخود ہمارے دیے گئے پتے پر پہنچ جاتی ہیں۔

کیفیٹیریا میں ملنے والا حلال کھانا
کیفیٹیریا میں ملنے والا حلال کھانا

طلبہ کیفیٹیریا سے دن یا رات کے کھانے کے وقت سحری اور افطار کے لیے کھانا پیک کروالیتے ہیں
طلبہ کیفیٹیریا سے دن یا رات کے کھانے کے وقت سحری اور افطار کے لیے کھانا پیک کروالیتے ہیں

ہم یہاں دستیاب اشیا کی مدد سے یہی کچھ بنا سکے
ہم یہاں دستیاب اشیا کی مدد سے یہی کچھ بنا سکے

افطار کی تیاری
افطار کی تیاری

ہمارے ہاسٹل کا کچن رات ساڑھے دس بجے بند کردیا جاتا ہے۔ پہلے سال تو ہم کافی پریشان ہوئے۔ ہم نے ہاسٹل انتظامیہ سے درخواست کی کہ وہ رمضان کے دوران رات میں کچن کھول دیا کریں تاکہ ہمارے سمیت باقی مسلمان طلبہ آرام سے اپنی سحری کا انتظام کرسکیں۔ اگرچہ ہاسٹل والوں نے اس سال تو ہماری درخواست نہیں مانی لیکن اگلے سال سے وہ خودبخود رمضان میں سحری کے لیے کچن کھولنے لگے۔

اگر ہم سے پہلے آنے والے مسلمان طلبہ نے اپنے لیے حکام سے بات کی ہوتی تو شاید ہمیں اور ہمارے ساتھیوں کو اپنا پہلا رمضان بغیر سحری یا ٹھنڈی سحری کرکے نہ گزارنا پڑتا۔ بہرحال، دیر آید درست آید۔ ہمارے اس قدم کا فائدہ ہمارے علاوہ ہمارے بعد آنے والے مسلمان طلبہ کو بھی ہوگا۔ ہر کوئی اپنے حصے کا کام مکمل کر جائے تو آنے والوں کی راہ آسان ہوجاتی ہے۔

اپنی رائے دیجئے

1
تبصرے
1000 حروف
یمین الاسلام زبیری Apr 28, 2021 10:48pm
آپ نے لکھا ہے کہ پاکستانی سفارتخانے کے رویے کی وجہ سے آپ نے وہاں کی دکان سے خریداری ختم کر دی۔ لیکن یہ نہیں لکھا کہ وہ رویہ اچھا تھا یا برا تھا یا کیسا تھا، ہم کیوں قیاس کریں اگر آپ بتا دیں۔ شکریہ۔ مضمون آپ کا سارا بہت اچھا ہے۔