اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے مختلف امور کو جنوری 2023 تک مکمل طور پر ڈیجیٹلائز ہونا چاہیے تاکہ اہم معاملات میں حکومتی ردعمل کے علاوہ شفافیت اور معیار بہتر ہوسکے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں سائبر ایفیشینٹ پارلیمنٹ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ یہ بہت اہم ہے کہ پارلیمنٹ کی ڈیجیٹلائزیشن کا منصوبہ مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے۔

مزید پڑھیں: حکومت کا نئی ڈیجیٹلائزیشن پالیسی لانے کا اعلان

بعدازاں قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کے ہمراہ اجلاس میں شریک وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی مواصلات سید امین الحق نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹیوں، جن میں قانون سازی اور کاروباری کمیٹیاں شامل ہیں، کو ان کی کارروائیوں کے تمام اجلاس کے ایجنڈوں کو ڈیجیٹل بنایا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ یہاں تک کہ دونوں ایوانوں میں تحریک استحقاق کو الیکٹرانک یا کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے پیش کیا جائے گا۔

سید امین الحق نے بتایا کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت وزارت آئی ٹی آئندہ بجٹ میں گرنٹ کا تقاضہ کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے پر آنے والی لاگت کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کے ڈیجیٹل پاکستان یونٹ سے منسلک کمپنی نے تنازع کھڑا کردیا

علاوہ ازیں صدر مملکت نے منصوبے کی تکمیل پر فوری زور دیتے ہوئے وزارت آئی ٹی کو ہدایت کی کہ وہ پی سی ون تیار کرے۔

اس ضمن میں سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی اور قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے منصوبے کی تکمیل کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

انہوں نے بتایا کہ متعلقہ سیکریٹریز کو وزارت آئی ٹی کے افسران کے ساتھ بھرپور تعاون کی ہدایت کردی گئی ہیں۔

علاوہ ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سری لنکا کے بدھ مت بھکشوؤں کے ایک وفد سے ملاقات کی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ عوامی سطح پر رابطے اور مذہبی سیاحت پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو طرفہ تعاون کو وسعت دینے کے لیے شاندار پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان گندھارا بدھ مت ثقافتی ورثے کا گھر ہے اور بدھا کے بعض اہم آثار قدیمہ کا پرفخر نگہبان ہے۔

مزید پڑھیں: بینکوں کو غیرملکی زرمبادلہ سے متعلق دستی شکایات جمع نہ کرنے کی ہدایت

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان سری لنکا کو ایک خصوصی شراکت دار اور دوست سمجھتا ہے اور دونوں دوست ممالک کے باہمی مفاد میں دو طرفہ تعاون میں مزید اضافے کا خواہشمند ہے۔

انہوں نے وفد سے کہا کہ وہ بھکشوؤں اور سری لنکا کے لوگوں کی پاکستان میں بدھ مت مذہب کے مقدس مقامات کی زیارات کے حوالے سے حوصلہ افزائی کریں کیونکہ پاکستان میں دنیا کے کسی بھی ملک کی نسبت بدھ مت مذہب کی زیادہ یاد گاریں ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں