ایس او پیز پر سب سے کم عملدرآمد سندھ اور خصوصاً کراچی میں ہوا ہے، فواد چوہدری

اپ ڈیٹ 04 مئ 2021
—فائل فوٹو: ڈان نیوز
—فائل فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق ایس او پیز پر سب سے کم عملدرآمد سندھ اور خصوصاً کراچی میں ہوا ہے۔

اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کرنے میں سب سے آگے اسلام آباد ہے۔

مزید پڑھیں: فواد چوہدری کو دوبارہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا قلمدان سونپ دیا گیا

انہوں نے کہا کہ حکومتِ سندھ صوبے میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 24 گھنٹوں کے دوران زیادہ تر اموات پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ریکارڈ کی گئیں۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ گزشتہ روز 161 افراد کورونا سے جاں بحق ہوئے جبکہ 3 ہزار 377 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ عید کی چھٹیوں میں لاک ڈاؤن کا مقصد کیسز میں اضافے کو روکنا ہے اور اُمید کا اظہار کیا کہ حکومتِ سندھ اس پر خصوصی توجہ دے گی۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کا انتخابی اصلاحات متعارف کروانے کا فیصلہ

علاوہ ازیں کراچی میں ضمنی انتخاب سے متعلق دوبارہ گنتی کے معاملے پر فواد چوہدری نے کہا کہ 'ہمارا مطالبہ ہے کہ دوبارہ الیکشن ہونے چاہیے'۔

فواد چوہدری نے کہا کہ این اے 249 میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ انتہائی کم تھا اس لیے یہ ضمنی انتخاب کسی تماشے سے کم نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ٹرن آؤٹ کورونا کی وجہ سے بھی کم رہا جبکہ بھارت میں کیسز میں اضافے کی ایک بڑی وجہ وہاں کا الیکشن کمیشن ہے۔

فواد چوہدری نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور نائب صدر مسلم لیگ (ن) مریم نواز سے متعلق کہا کہ ہمارے اوپر نابالغ لیڈر شپ مسلط ہے جسے پارلیمان کے کردار کا علم نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی سیاست خاتمے کے قریب ہے۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ آج کابینہ نے دو آرڈیننس کی منظوری دی ہے جس کے تحت الیکشن کمیشن ای وی ایم مشین استعمال کرسکے گا۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم کا انتخابی اصلاحات کمیٹی کی تشکیل کیلئے اسپیکر قومی اسمبلی کو خط

ان کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات کے چار پہلو ہیں جبکہ ووٹنگ کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق ملے گا۔

انہوں نے بتایا کہ این ای ڈی یونیورسٹی کے 100 سال مکمل ہونے پر ایک یادگاری سکہ اجرا کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ عید کے موقع پر قیدیوں کی سزا میں 90 دن کی رعایت دی گئی ہے جبکہ سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کے لیے یہ رعایت نہیں ہوگی۔

تبصرے (0) بند ہیں