کووڈ کی معمولی شدت سے دل کو دیرپا نقصان پہنچے کا امکان کم ہوتا ہے

09 مئ 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

کورونا وائرس کی معمولی شدت کا سامنا کرنے والے افراد کے دل کے افعال یا ساخت کو دیرپا نقصان پہنچنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی اکثریت میں اس بیماری کی شدت معمولی ہوتی ہے یا علامات نظر نہیں آتیں۔

لندن کالج یونیورسٹی کی تحقیق 149 طبی ورکرز کو شامل کیا گیا تھا اور یہ کووڈ 19 سے معمولی حد تک بیمار افراد ہونے والی اب تک کی سب سے تفصیلی تحقیق ہے۔

تحقیق میں دیکھا گیا کہ کووڈ سے معمولی حد تک بیمار ہونے سے دل کے افعال اور ساخت پر طویل المعیاد بنیادوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

کووڈ 19 کی سنگین شدت کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے میں بلڈ کلاٹس، دل کے ورم اور دل کو نقصان پہنچنے جیسے اثرات کو دریافت کیا گیا ہے اور خیال کیا جارہا ہے کہ معمولی حد تک بیمار افراد کو بھی اسی طرح کی پیچیدگیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تاہم اس تحقیق سے قبل اس حوالے سے زیادہ معلومات موجود نہیں تھی۔

تحقیق میں شامل افراد کے 16 ہفتوں تک خون، لعاب دہن کے نمونوں کے ساتھ پی سی آر ٹیسٹ ہر ہفتے لیے گئے۔

6 ماہ بعد ہارٹ ایم آر آئی اسکینز کے ذریعے 74 معمولی حد تک بیمار رہنے والے افراد دل کی ساخت اور افعال کا موازنہ 75 صحت مند افراد کے اسکینز سے کیا گیا جو کورونا سے متاثر نہیں ہوئے تھے۔

محققین نے دونوں گروپس کے دل کے مین چیمبر کے حجم یا مسلز کی مقدار میں کوئی فرق دریافت نہیں کیا جبکہ دل کے خون پمپ کرنے کی صلاحیت بھی متاثر نہیں ہوئی تھی۔

دل پر ورم اور خراشوں کے ساتھ لچک بھی دونوں گروپس میں یکساں ہی دریافت ہوئی۔

جب محققین نے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا تو انہوں نے دونوں گروپس کے دل کے پٹھوں کو نقصان پہنچنے کے اعشاریوں میں کوئی فرق دریافت نہیں کیا۔

تحقیقی ٹیم کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کی معمولی شدت کا سامنا کرنے والے مریضوں کے دلوں کی اسکریننگ کا کوئی خاص فائدہ نہیں اور ایسے افراد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جن کو اس بیماری کی سنگین شدت کا سامنا ہوا ہو۔

محققین نے کہا کہ کووڈ کے دل پر اثرات کے بارے میں تمام تر تفصیلات جاننا ایک چیلنج ہے مگر اب ہم وبا کے اس مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں جہاں ہمیں اس بیماری کے طویل المعیاد اثرات پر کام شروع کردینا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نتائج ان کروڑوں افرا کے لیے اچھی خبر ہیں جن میں اس بیماری کی شدت معمولی تھی یا علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ماہرین کی جانب سے کووڈ 19 کے دل اور گردشی نظام پر طویل المعیاد اور مختصر المعیاد اثرات پر تحقیق میں پیشرفت ہورہی ہے، مگر اب بھی بہت زیادہ کام ہونا باقی ہے، مگر ابھی اچھی خبر یہ ہے کہ بظاہر بیماری کی معمولی شدت سے دل کو دیرپا نقصان نہیں پہنچتا۔

ایم آر آئی اسکینز میں معمولی مسائل کو دیکھا گیا تھا مگر ان کی شرح کووڈ 19 سے معمولی بیمار ہونے والے افراد میں دیگر صحت مند سے زیادہ نہیں تھی۔

محققین کے خیال میں ان تبدیلیوں کی وجہ کورونا وائرس کی جگہ کچھ اور ہوسکتی ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں