افغانستان تک رسائی برقرار رکھنے کیلئے پاکستان، دیگر ممالک سے بات کررہے ہیں، امریکا

26 مئ 2021
پینٹاگون کی نیوز بریفنگ میں بھی یہی معاملہ دوبارہ اٹھایا گیا۔  —فوٹو: بشکریہ امریکی
 اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ
پینٹاگون کی نیوز بریفنگ میں بھی یہی معاملہ دوبارہ اٹھایا گیا۔ —فوٹو: بشکریہ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ

امریکا کے محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ وہ پاکستان اور خطے میں موجود دیگر ممالک سے ان کی سرزمین پر فوجی اڈے بنانے کے امکانات سمیت مختلف آپشنز پر بات چیت کررہے ہیں لیکن وہ مذاکرات بے نتیجہ رہے۔

کانگریس میں ہونے والی حالیہ سماعت میں امریکی سیکریٹری ہند ۔ بحر الکاہل امور کے لیے اسسٹنٹ سیکریٹری برائے دفاع ڈیوڈ ایف ہیلوے نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا تھا کہ 'پاکستان نے افغانستان میں ہماری فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت اور زمینی رسائی دی'۔

جس کے بعد ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے اسلام آباد میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ پاکستان نے امریکی فوج یا فضائیہ کو کوئی اڈہ نہیں دیا اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا کو پاکستان کی فضائی، زمینی حدود کے استعمال کی اجازت برقرار رہے گی، پینٹاگون

انہوں نے کہا تھا کہ اس حوالے سے جاری قیاس آرائیاں بے بنیاد اور غیر ذمے دارانہ ہیں اور ان سے گریز کیا جانا چاہیے۔

جمعہ (21 مئی) کو ہونے والی سینیٹ کی سماعت جس میں ڈیوڈ ایف ہیلوی نے افغانستان کے لیے فضائی حدود تک رسائی کا دعویٰ کیا تھا کہ اس کے بعد ہفتے کے پہلے کاروباری روز یعنی پیر (24 مئی) کو پینٹاگون کی نیوز بریفنگ میں بھی یہی معاملہ دوبارہ اٹھایا گیا۔

نیوز بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے پوچھا کہ 'افغانستان سے مکمل انخلا کے بعد جو کچھ ہوگا اس حوالے سے کیا امریکا، پاکستان سے اس وقت کچھ چاہ رہا ہے؟ انخلا کے بعد خطے میں دہشت گردی کے خلاف آپریشنز جاری رکھنے کے لیے ممکنہ بیسنگ معاہدوں کے حوالے سے کوئی اپ ڈیٹ ہے؟'

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جان کربی نے کہا کہ 'ہمارے انخلا کے بعد بیرون ملک اڈوں کے امکان کے حوالے سے میرے پاس کوئی خاص اپ ڈیٹ نہیں ہے'۔

انہوں نے کہا کہ ' یہ سفارتی بات چیت ہے جو جاری ہے اور واضح طور پر مکمل نہیں ہوئی'۔

پریس سیکریٹری کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کی صلاحیت کے لیے ہم قابل اعتبار اور قابل عمل آپشنز اور مواقع تلاش کررہے ہیں اور ایسے بہت سے طریقے ہیں جن سے ایسا ہوسکتا ہے، اوورسیز بیسنگ ان میں سے صرف ایک آپشن ہے، لہذا اس حوالے سے ابھی کوئی رپورٹ موجود نہیں ہے۔

پریس سیکریٹری جان کربی نے عندیہ دیا کہ افغانستان تک رسائی کے لیے امریکا، خطے کے دیگر ممالک سے بھی مشاورت کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں کسی بھی ملک کے حوالے سے زیادہ تفصیل سے بات نہیں کروں گا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے افغان استحکام کیلئے ہمسایہ ممالک ‘بالخصوص پاکستان' سے مدد مانگ لی

اس سے قبل ابتدائی بیان میں جان کربی نے کہا تھا کہ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے 24 مئی کو چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مشترکہ علاقائی مفادات اور مقاصد پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے فون پر بات چیت کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ گفتگو کے دوران امریکی سیکریٹری دفاع نے افغان امن مذاکرات میں حمایت پر پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور پاک-امریکا دو طرفہ تعلقات برقرار رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بات چیت بہت مفید رہی ہے اور اس میں دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے دو طرفہ مواقع پر بات چیت کی گئی تھی۔

تبصرے (0) بند ہیں