25 جولائی کو ملک میں پہلی 'قومی ایمرجنسی ہیلپ لائن 911' کے افتتاح کا امکان

اپ ڈیٹ 12 جون 2021
ہنگامی سروسز کے تمام نمبرز کو ایک جگہ کرکے 911 میں تبدیل کردیا جائے گا— فائل فوٹو: ڈان/مدیحہ اختر
ہنگامی سروسز کے تمام نمبرز کو ایک جگہ کرکے 911 میں تبدیل کردیا جائے گا— فائل فوٹو: ڈان/مدیحہ اختر

لاہور: وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 25 جولائی کو ملک کی پہلی قومی ایمرجنسی ہیلپ لائن 911 کا افتتاح کیے جانے کا امکان ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ایمرجنسی ہیلپ لائن (پی ای ایچ ایل) کے نام سے کئی ارب مالیت کی اسکیم کے افتتاح کی عارضی تاریخ مقرر کی گئی۔

مزید پڑھیں: پولیس کی ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر شہری غیر ضروری کالز کرنے لگے

اس اسکیم کے تحت ہنگامی سروسز کے تمام نمبرز کو ایک جگہ کرکے 911 میں تبدیل کردیا جائے گا۔

وزیر اعظم سکریٹریٹ نے مجوزہ اسکیم ’پی ای ایچ ایل‘ کو قومی شناخت دینے کے لیے یہ تصور امریکا کی ہیلپ لائن 911 سے اخذ کیا گیا ہے۔

قومی ہیلپ لائن کے قیام کا کام لاہور سیالکوٹ موٹروے ریپ کیس کے بعد شروع ہوا جس میں ایک خاتون کو کسی بھی ہیلپ لائن سے مدد نہیں مل سکی تھی۔

گزشتہ برس ستمبر میں خاتون کو ان کے بچوں کے سامنے اجتماعی ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں پہلا ٹول فری ہیلپ لائن نمبر شروع کرنے کا عندیہ دیا تھا تاکہ آئندہ کسی بھی واقعے سے بچنے اور فوری امداد کے لیے تمام صوبوں کے لوگوں کو رسائی حاصل ہو۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا نیشنل ایمرجنسی ہیلپ لائن کے قیام کا فیصلہ

ہیلپ لائن کے قومی فوکل پرسن عادل صافی نے بتایا کہ صوبوں کے ساتھ پہلی قومی ایمرجنسی ہیلپ لائن 911 کے قیام کے لیے تمام طریقوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں صوبوں کے ساتھ آخری اور اہم ملاقات اگلے ہفتے ہوگی۔

ملک کی پہلی ہیلپ لائن شروع کرنے سے پہلے ماہرین نے برطانیہ، امریکا اور دیگر ممالک کی ہیلپ لائنز کے ماڈلز کا مطالعہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں ماہرین نے ’786‘ کو پاکستان کا قومی ہیلپ لائن نمبر پیش کیا لیکن بعد میں اس کی جگہ 911 کردیا گیا۔

قومی ہیلپ لائن نمبر وزارت داخلہ کے تحت قائم کیا گیا ہے جس کا صدر دفتر اسلام آباد میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) میں ہے۔

ہیلپ لائن بہت سے آپریٹرز چلائیں گے جو این سی او سی کے دفتر میں سینٹرل کنٹرول روم سے کام کریں گے۔

مزیدپڑھیں: موٹروے پر مدد کی متلاشی خاتون کا 'ڈاکوؤں' نے 'گینگ ریپ' کردیا

اس ضمن میں صوبوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ تربیت یافتہ اور اہل آپریٹرز و دیگر عملے کے تقرر کرکے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں کنٹرول روم قائم کریں۔

عادل صافی نے کہا کہ تمام موجودہ ہنگامی نمبروں کو مجوزہ اسکیم کے تحت قومی ہیلپ لائن سے جوڑا جائے گا اور عملے کو تمام ہنگامی کالیں، سینٹرل کنٹرول روم میں ملیں گی جہاں سے وہ انہیں فوری کارروائی کے لیے متعلقہ محکموں میں منتقل کردیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ’ابتدائی طور پر قومی ہیلپ لائن پر 4 طرح کی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جائے گا جو پولیس، فائر بریگیڈ، ایمبولینس سروس اور نیشنل ہائی ویز اور موٹر وے پولیس سے متعلق ہوں گی۔

عادل صافی نے بتایا کہ اس ہیلپ لائن نمبر کو ملک کے کسی بھی حصے سے موبائل فون کے ذریعے ڈائل کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے نظام میں ایک خصوصیت شامل ہے کہ شکایت کا ازالہ ہونے تک فون پر ’لال بتی‘ آن رہے گی جب تک شکایت کنندہ کا تسلی بخش جواب موصول نہیں ہوجاتا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی اے اور دیگر محکموں کو بورڈ میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ سروسز کے آسانی سے عمل کو یقینی بنانے کے لیے موبائل فون کمپنیوں سے بھی مدد طلب کی ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں