اسرائیل کے غزہ پر پھر فضائی حملے، فائرنگ سے فلسطینی خاتون جاں بحق

اپ ڈیٹ 16 جون 2021
اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصان سے متعلق تفصیلات تاحال موصول نہیں ہوئی ہیں۔ —فوٹو: اے ایف پی
اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصان سے متعلق تفصیلات تاحال موصول نہیں ہوئی ہیں۔ —فوٹو: اے ایف پی
اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصان سے متعلق تفصیلات تاحال موصول نہیں ہوئی ہیں۔ —فوٹو: اے ایف پی
اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصان سے متعلق تفصیلات تاحال موصول نہیں ہوئی ہیں۔ —فوٹو: اے ایف پی

اسرائیلی فورسز کی مقبوضہ مغربی کنارے میں فائرنگ سے موٹرسائیکل سوار فلسطینی خاتون جاں بحق ہوگئی جبکہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ پر دوبارہ بمباری کردی گئی۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی فوج نے کہا کہ فلسطینی خاتون نے ان پر حملے کی کوشش کی، جس پر فائرنگ کی گئی جبکہ اسرائیلی فوج کے کسی نقصان کی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔

مزید پڑھیں: 'جھڑپوں' کو روکنے کیلئے اسرائیل اور حماس جنگ بندی پر متفق

فلسطین کی وزارت صحت نے کہا کہ خاتون زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوئیں۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے فائرنگ کرکے قتل کرنے کا واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب یہودی قوم پرستوں کی بیت المقدس (یروشلم) کی طرف مارچ کے اعلان اور غزہ میں فضائی کاروائیوں کے باعث کشیدگی کا خطرہ موجود تھا۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ بیت المقدس کے شمال مشرقی قصبے ہزمہ میں فلسطینی خاتون پر فائرنگ کی گئی جس نے اسرائیلی ڈیفنس فورسز پر حملہ کیا تھا۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے مغربی کنارے میں کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے جہاں گزشتہ ہفتے اسلامک جہاد کے ارکان سمیت دو فلسطینیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

ایک اور واقعے میں مزید دو فلسطینیوں کو مارا گیا تھا۔

قبل ازیں اسرائیل نے فلسطین کے ساتھ گزشتہ ماہ 21 مئی کو ہونے والی جنگ بندی کی خلاف وزری کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر جنگی طیاروں سے غزہ میں متعدد حملے کیے تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق گزشتہ ماہ ہونے والی جنگ بندی کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر فلسطین پر جنگی طیاروں سے حملے شروع کردیے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ 10 سے 21 مئی تک اسرائیلی فضائی حملوں میں 66 بچوں سمیت 248 افراد جاں بحق اور ایک ہزار 948 زخمی ہو گئے تھے۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ فضائی حملے حماس کے ٹھکانے پر کیے گئے جہاں وہ تل ابیب پر حملے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔

اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصان سے متعلق تفصیلات تاحال موصول نہیں ہوئی ہیں۔

منگل کے روز انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی نوجوانوں کی بڑی تعداد نے مشرقی بیت المقدس یروشلم میں طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے مارچ کیا اور عرب مخالف نعرے لگائے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی کے بعد فلسطین میں عالمی امداد پہنچنے کا سلسلہ شروع

اس واقعے سے متعلق کہا جارہا ہے کہ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر علاقے میں تشدد کو ہوا ملی ہے۔

غزہ میں فلسطینیوں نے جنوبی اسرائیل میں آگ لگانے والے غبارے چھوڑے جس سے کم سے کم 10 مقامات پر معمولی آگ لگی۔

فلسطینیوں نے مذکورہ مارچ کو اشتعال انگیزی قرار دیا اور حماس نے فلسطینیوں سے پریڈ کی 'مزاحمت' کرنے کا مطالبہ کیا۔

ایک موقع پر کئی درجن اسرائیلی نوجوانوں نے ہوا میں ہاتھ لہراتے ہوئے نعرہ لگائے کہ 'عربوں کی موت ہو' ایک اور عرب مخالف نعرے میں انہوں نے چیخ کر کہا کہ 'ان کے گاؤں کو نذر آتش کریں'۔

دوسری جانب اسرائیل کے وزیر خارجہ نے مارچ کی مذمت کی اور کہا کہ وہ اسرائیلی مظاہرین جو نسل پرستی پر مبنی نعرے لگارہے ہیں دراصل وہ اسرائیلی لوگوں کے لیے ندامت کا باعث بن رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ان انتہاپسندوں کی وجہ سے اسرائیلی کا پرچم نفرت اور نسل پرستی کی علامت بن چکا ہے جو ناقابل فہم ہے۔

اسرائیل میں برسر اقتدار آنے والی اتحادی حکومت میں شامل رام پارٹی کے منصور عباس نے کہا کہ مارچ 'علاقے کو آگ میں دھکیلنے کی کوشش ہے' اور اس کی نیت نئی حکومت کو نقصان پہنچانے کی ہے۔

مزید پڑھیں: بائیڈن کو غزہ میں اسرائیلی اشتعال انگیزی میں کمی کی امید

منصور عباس نے کہا کہ پولیس اور پبلک سیکیورٹی کے وزیر کو یہ پروگرام منسوخ کرنا چاہیے تھا۔

مغربی کنارے میں بین الاقوامی سطح پر حمایت یافتہ فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم محمد اشتیہ نے مارچ کو 'فلسطینیوں کے خلاف جارحیت' قرار دیا۔

ہمسایہ ملک اردن کے وزارت خارجہ نے ایک میں بیان مارچ کو 'ناقابل قبول' قرار دیتے ہوئے کہا کہ مارچ نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین پائے جانے والے تنازعات کو کم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔

بدترین انسانی بحران

اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ 10 مئی سے 21 مئی تک حماس نے اسرائیل پر 3 ہزار 700 راکٹ داغے ہیں جس کے نتیجے میں ایک بھارتی اور دو تھائی شہریوں سمیت 12 افراد ہلاک اور 333 زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ راتوں رات مسلح گروہوں نے جنوبی اسرائیل کی جانب 50 راکٹ فائر کیے جن میں سے 10 دم توڑ گئے اور غزہ کے اندر ہی گر گئے۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے رات میں جنوبی غزہ میں زیر زمین حماس کے 40 اہداف کو نشانہ بنایا۔

مزید پڑھیں: [شدید سفارتی رد عمل بھی فلسطینیوں کو اسرائیلی حملوں سے بچانے میں ناکام][5]

اسرائیل کی بمباری کے بعد غزہ کی 20 لاکھ آبادی، عالمی امداد کی منتظر تھی کیونکہ ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے تھے۔

اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ تقریبا 72 ہزار شہری اپنے گھروں سے نکل کر اقوام متحدہ کے زیر انتظام اسکولوں اور دیگر سرکاری عمارتوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔

جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا جب مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند یہودیوں نے رمضان کے مہینے کے آخری عشرے میں مسلمانوں پر حملہ کر کے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

اس کے بعد یروشلم کے ضلع شیخ جراح میں فلسطینی خاندانوں کو گھروں سے جبری طور پر بے دخل کرنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔

فلسطین کے مرکز اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہیبرون کے قریب ایک فلسطینی خاتون کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا جس کے بعد 10 مئی سے اب تک مغربی کنارے پر ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 25 ہو گئی۔

تبصرے (0) بند ہیں