عالمی بینک نے پنجاب میں پانی کی فراہمی اور نکاسی کیلئے 44 کروڑ ڈالر کی منظوری دیدی

اپ ڈیٹ 21 جون 2021
اس منصوبے سے پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کے انفرااسٹرکچر اور سروسز کو اپ گریڈ کرنے میں مدد حاصل ہوگی — فائل فوٹو / اے ایف پی
اس منصوبے سے پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کے انفرااسٹرکچر اور سروسز کو اپ گریڈ کرنے میں مدد حاصل ہوگی — فائل فوٹو / اے ایف پی

اسلام آباد: عالمی بینک نے پنجاب میں انتہائی کمزور دیہی علاقوں کے لیے پانی اور صفائی ستھرائی کی خدمات تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے 44 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی منظوری دے دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ’پنجاب رورل سسٹین ایبل واٹر سپلائی اینڈ سینی ٹیشن پروجیکٹ‘ سے پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کے انفرا اسٹرکچر اور سروسز کو اپ گریڈ کرنے میں مدد فراہم ہوگی۔

ورلڈ بینک نے ایک بیان میں کہا کہ اس منصوبے میں دیہی آبادیوں کو ترجیح دی گئی ہے جہاں پانی کی آلودگی اور صفائی کے ناقص انتظامات زیادہ پائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے بیماریوں اور بچوں میں نشوونما کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

اس منصوبے میں 16 اضلاع کا احاطہ کیا جائے گا جس میں 50 فیصد اضلاع جنوبی پنجاب سے اور 25 فیصد وسطی اور شمالی پنجاب سے شامل ہوں گے، جس سے 2 ہزار دیہات اور دیہی علاقوں کے 60 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوں گے۔

مزید پڑھیں: ورلڈ بینک اور پاکستان کے مابین ایک ارب 36 کروڑ ڈالر کی امداد کا معاہدہ

اس میں گاؤں کی کونسلرز اور برادری کے نگراں افراد کو تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔

بورڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کی جانب سے اس پروجیکٹ کی منظوری پر ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان ناجے بنہاسین نے کہا کہ بینک، حکومت کے ساتھ پائیدار آبی وسائل کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

اس منصوبے کے ڈیزائن کو 2018 کی ایک فلیگ شپ رپورٹ 'جب پانی خطرہ بن جاتا ہے: پاکستان میں پانی کی فراہمی، صفائی ستھرائی اور غربت کی تشخیص اور بچوں میں اسٹنٹنگ کے اثرات' میں پیش کیا گیا تھا جس میں پانی اور صفائی ستھرائی کی خدمات کے درمیان روابط کی جانچ کی گئی تھی۔

اس مطالعے نے ماحولیاتی استحکام اور صحت کے خطرات کو کم کرنے کے لیے غریب دیہی برادریوں میں معلومات فراہم کرنے اور طرز عمل میں تبدیلی کی حمایت کرنے کی ضرورت کی بھی حمایت کی۔

اس منصوبے کی شریک ٹاسک ٹیم لیڈر غزالہ منصوری نے کہا کہ ’بچوں میں اسٹنٹنگ مقامی سطح پر ہے اور یہ پاکستان کی صلاحیتوں میں بہت بڑی رکاوٹ ہے، اس سے بچوں کی علمی نشوونما اور مدافعتی نظام متاثر ہوتا ہے، تعلیمی حصول کم ہوتا ہے، بیماری کا امکان زیادہ ہوجاتا ہے اور کم پیداواری آمدنی ہوتی ہے۔

پنجاب بھر میں غربت میں نمایاں تفریق دیکھی گئی ہے، مجموعی طور پر بچوں کی صحت کے مسائل جنوبی پنجاب میں اس سے بھی بدتر ہیں جبکہ اوسطاً بچوں میں اسٹنٹنگ کی شرح 42 فیصد ہے جبکہ شمال میں 25 فیصد اور وسطی اضلاع میں 33 فیصد ہے۔

اسی طرح وسطی اور شمالی اضلاع میں 12 فیصد کی نسبت جنوبی اضلاع میں دو ہفتوں کے عرصے میں پانچ سال تک کی عمر کے 18 فیصد بچوں کو ڈائریا جیسی بیماری کا سامنا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئندہ 2 سال تک پاکستان میں غربت میں اضافے کا امکان ہے، عالمی بینک

پنجاب میں پینے کے صاف پانی کے بہتر ذرائع تک رسائی بہت زیادہ ہے اور 98.3 فیصد گھروں کو ایک میکانزم یا کسی دوسرے کے ذریعے اس تک رسائی حاصل ہے۔

دیہی علاقوں میں گھروں کی اکثریت نجی ملکیت کے ہینڈ پمپ یا موٹر پمپوں کے ذریعے اس رسائی کو محفوظ بناتے ہیں جبکہ چند کو سرکاری محکموں یا غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے تعمیر شدہ اسکیموں یا کمیونٹی ڈرنکنگ پوائنٹس کے ذریعے خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔

عوامی اسکیموں کی پائیداری بہت کم ہے اور صوبائی پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے مطابق اسکیموں کا ایک تہائی غیر فعال ہے۔

جہاں رسائی بہت زیادہ ہے وہیں پانی کا معیار بھی ایک اہم مسئلہ ہے جو پنجاب میں گھروں کی صحت کو متاثر کرتا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں