آئندہ 2 سال تک پاکستان میں غربت میں اضافے کا امکان ہے، عالمی بینک

اپ ڈیٹ 08 اکتوبر 2020

ای میل

عالمی بینک نے آئندہ دو سالوں میں پاکستان میں غربت میں اضافے کا عندیہ دیا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
عالمی بینک نے آئندہ دو سالوں میں پاکستان میں غربت میں اضافے کا عندیہ دیا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: عالمی بینک نے جنوبی ایشیا میں بدترین کساد بازاری کی پیش گوئی کرتے ہوئے کووڈ 19 کے منفی اثرات کی وجہ سے سست اور غیر یقینی معاشی بحالی کے ساتھ ساتھ آئندہ دو سالوں میں پاکستان میں غربت میں اضافے کا امکان بھی ظاہر کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بینک کی جنوبی ایشیا اکنامک فوکس رپورٹ، جو سال میں دو مرتبہ شائع ہوتی ہے، کے تازہ شمارے میں کہا گیا کہ پاکستان میں اقتصادی شرح نمو مالی سال 2021 میں کم ہونے کی توقع ہے اور 0.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ اس سے قبل مالی سال 2019 تک تین سال کے دوران سالانہ اوسط 4 فیصد رہی۔

مزید پڑھیں: عالمی معیشت کو وبائی مرض کے بعد طویل اور کٹھن راستہ طے کرنا ہے، آئی ایم ایف

رپورٹ کے مطابق اقتصادی نمو توقع سے کم یعنی مالی سال 2021 اور 2022 میں اوسطاً 1.3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

اس میں کہا گیا کہ یہ اندازہ انتہائی غیریقینی ہے اور اس کی پیش گوئی انفیکشن میں اضافہ نہ ہونے یا وائرس کی مزید لہروں کے نہ آنے کے حساب سے کی گئی ہے کیوں کہ دوسری صورت میں مزید وسیع پیمانے پر لاک ڈاؤن کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اس رپورٹ کے اجرا سے قبل ایشیا کے خطے کے لیے عالمی بینک کے نائب صدر ہارٹویگ شیفر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'کووڈ-19 کے دوران جنوبی ایشیائی معیشتیں توقع سے زیادہ تباہی سے دوچار ہوئیں بالخصوصہ چھوٹے کاروبار اور غیر رسمی کام کرنے والوں کے لیے یہ صورتحال بدترین ثابت ہوئی جو اچانک اپنی ملازمت اور اجرت سے محروم ہو گئے'۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بینک نے تکنیکی وجوہات کی بنا پر پاکستان کی غربت کے اعداد و شمار شائع نہیں کیے لیکن خطے کے دوسرے ممالک کی طرح غربت میں اضافے کی شرح بلند ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف نے خطے میں معاشی سست روی سے خبردار کردیا

رپورٹ میں کہا گیا کہ وبائی مرض پر قابو پانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے پاکستان کی معیشت شدید متاثر ہوئی، اقتصادی سرگرمیاں سکڑ گئیں اور غربت میں مالی سال 2020 میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ رواں برس کے آغاز میں مالیاتی اور مالی پالیسیوں میں سختی کی گئی اور اس کے بعد لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا۔

توقع کی جارہی ہے کہ نمو بتدریج ہونے کے امکانات ہیں لیکن غیر یقینی صورتحال اور طلب کے دباؤ کے لیے کیے گئے اقدامات کی بحالی کی وجہ سے یہ کم رہنے کا امکان ہے، اس منظر نامے میں انفیکشن کے ممکنہ طور پر دوبارہ پھیلاؤ، ٹڈی دل کی وجہ سے فصلوں کو وسیع پیمانے پر پہنچنے والے نقصان اور مون سون بارشوں نے مزید خطرات کا اضافہ کردیا۔

مجموعی طور پر رپورٹ میں کہا گیا کہ جنوبی ایشیا اپنی بدترین کساد بازاری کا شکار ہے کیونکہ اس خطے کی معیشتوں پر کووڈ 19 کے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں، غیر رسمی کارکنوں میں غیر متناسب اضافے کا سامنا کرنا پڑا ہے اور لاکھوں جنوبی ایشیائی باشندے شدید غربت کا شکار ہوئے۔

رپورٹ میں خطے میں توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے معاشی تنزلی کی پیش گوئی کی گئی کیونکہ گزشتہ پانچ سالوں میں خطے میں سالانہ 6 فیصد شرح نمو کے بعد 2020 میں اس کے 7.7 فیصد تک سکڑنے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: درآمدات کے باوجود ٹماٹر، پیاز کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

شیفر نے کہا کہ فوری امداد کی فراہمی سے وبائی امراض کے اثرات کم ہوگئے ہیں لیکن حکومتوں کو اسمارٹ پالیسیوں کے ذریعے اپنے غیر رسمی شعبوں میں پائے جانے والے گہرے خطرات کو دور کرنے اور وسائل کو دانشمندی سے مختص کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ جی ڈی پی کی حقیقی نمو مالی سال 19 کی 1.9 فیصد سے کم ہو کر 2020 میں 1.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جو کئی دہائیوں کے بعد بدترین کمی ہے جو کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور وائرس سے قبل سخت مانیٹری اور مالیاتی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔

اس میں کہا گیا کہ مقامی معاشی سرگرمیوں کی بحالی کی توقع کی جا رہی ہے کیونکہ کورونا کے فعال کیسز میں کمی کے بعد لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی لیکن پاکستان کی جلد معاشی بہتری کے امکانات دب کر رہ گئے ہیں، وبائی مرض کے دوبارہ پھیلاؤ اور ویکسین کی دستیابی پر چھائی غیر یقینی صورتحال، غیر عدم توازن کو روکنے کے لیے مانگ میں کمی کے ساتھ ساتھ غیرموزوں بیرونی حالات صورتحال کی منظر کشی کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق توقع ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مالی سال 21 اور مالی سال 22 میں جی ڈی پی کا اوسطاً 1.5 فیصد ہوجائے گا، مقامی سطح پر طلب اور عالمی حالات میں بہتری آنے کے ساتھ درآمدات اور برآمدات میں نتدریج بہتری آنا شروع ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ستمبر میں ملکی برآمدات 6 فیصد بڑھ گئیں

اس کے علاوہ مالی سال 22 میں مالی استحکام کی بحالی اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور سنجیدہ ساختی اصلاحات کی مدد سے مضبوط آمدنی کو دوبارہ شروع کرنے کے ساتھ ملک کا مالی خسارہ 7.4 فیصد تک محدود رہنے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق معقول سود کی ادائیگی، بڑھتی ہوئی تنخواہ اور پنشن بل اور توانائی کے شعبے میں حکومت کے ذریعے سرکاری کاروباری اداروں کے ’گارنٹی والے قرض‘ کی وجہ سے اخراجات کافی حد تک برقرار رہیں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مستقبل قریب میں شرح نمو میں کمی کے پیش نظر غربت کی صورتحال مزید خراب ہونے کی توقع ہے، رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمزور طبقے میں خدمات کے شعبے میں ملازمتوں پر بہت زیادہ انحصار کیا جاتا ہے اور سروسز کی کمزور شرح نمو ممکنہ طور پر وبا کی وجہ سے بے انتہا غربت میں کمی کے سلسلے میں غیرموثر ثابت ہو گی۔

اس میں کہا گیا کہ معاشی منظر نامے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ممکنہ طور پر وائرس کی دوسری لہر کی وجہ سے انفیکشن کا پھیلاؤ ہے جس کی وجہ سے مقامی سطح پر نیا لاک ڈاؤن نافذ کیا جا سکتا ہے اور ڈھانچے میں اصلاحات پر عملدرآمد التوا کا شکار ہو جائے گا۔

ٹڈی دل کے حملے اور مون سون کی بے انتہا بارشیں فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا سکتی ہیں، خوراک کے عدم تحفظ اور افراط زر کے دباؤ کے ساتھ ساتھ بنیادی طور پر زراعت پر انحصار کرنے والے گھرانوں کے معاش پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: ستمبر میں بھی مہنگائی بڑھ کر 9فیصد تک پہنچ گئی

آخر کار غیر روایتی عطیہ دہندگان اور بین الاقوامی مالی اعانت کے سخت حالات سے زیادہ، دوطرفہ قرضوں میں اضافے میں مشکلات کی وجہ سے بیرونی مالی اعانت کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

بینک نے نشاندہی کی کہ کمزور سرگرمی کے باوجود پاکستان میں خوراک کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے، توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور کمزور روپے کی وجہ سے صارفین کے لیے مہنگائی کی شرح مالی سال 19 میں اوسطاً 6.8 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 20 میں اوسطاً 10.7 فیصد ہو گئی۔

افراط زر کے دباؤ کے ساتھ پالیسی کی شرح جولائی 2019 سے فروری 2020 تک 13.25 پر رکھی گئی تھی لیکن اس کے بعد کم ہونے والی سرگرمیوں کی معاونت کے لیے مالی سال 20 کے بقیہ حصے کے لیے کم کر کے 7 فیصد کردی گئی تھی۔