عدالت نے کیون اسپیسی کے خلاف 'شناخت خفیہ رکھنے والے شخص' کا مقدمہ ختم کردیا

اپ ڈیٹ 21 جون 2021
اداکار کے خلاف پہلے بھی تین کیسز ختم ہو چکےہیں—فائل فوٹو: رائٹرز
اداکار کے خلاف پہلے بھی تین کیسز ختم ہو چکےہیں—فائل فوٹو: رائٹرز

امریکی عدالت نے اپنی شناخت کو خفیہ رکھنے پر بضد رہنے والے ایک نامعلوم شخص کی جانب سے ہولی وڈ اداکار 62 سالہ کیون اسپیسی کے خلاف دائر ’ریپ‘ کا مقدمہ ختم کردیا۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی ریاست نیویارک کے دارالحکومت کے علاقے منہٹن کی فیڈرل کورٹ نے اداکار کے خلاف مقدمہ دائر کرنے والے شخص کا کیس ختم کیا۔

مذکورہ نامعلوم شخص نے، جس نے خود کو قانونی دستاویزات میں ’سی ڈی‘ کا نام دیا تھا، اداکار کے خلاف ستمبر 2020 میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔

’سی ڈی‘ نامی نامعلوم شخص نے کیون اسپیسی پر اینتھونی رپ کے ساتھ مقدمہ دائر کیا تھا۔

کیون اسپیسی کے خلاف دائر کیے گئے دونوں مرد حضرات کے مقدمے کے مطابق اداکار نے دونوں کو 40 سال قبل 1980 کی دہائی میں اس وقت ’ریپ‘ کا نشانہ بنایا تھا جب ان کی عمریں 14 برس تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیون اسپیسی پر 2 مرد حضرات نے’ریپ‘ کا مقدمہ دائر کردیا

مقدمات دائر کرتے وقت اینتھونی رپ نے تو اپنی شناخت ظاہر کی تھی مگر دوسرے شخص نے عدالتی ہدایات کے باوجود اپنی شناخت کو ظاہر نہیں کیا تھا۔

اپنی اصل شناخت کو ظاہر نہ کرنے پر ہی جج لیوس کپلان نے کیون اسپیسی کے خلاف دائر کیا گیا ان کا مقدمہ ختم کردیا۔

عدالت نے مذکورہ نامعلوم شخص کا مقدمہ ختم کرنے سے قبل پچھلی سماعت میں کہا تھا کہ کیون اسپیسی مشہور شخصیت ہیں، اس لیے ان پر الزام لگانے والے شخص کو بھی اپنی شناخت ظاہر کرنی ہوگی اور انصاف کا بھی یہی تقاضا ہے کہ الزام لگانے والے شخص کی مکمل معلومات فراہم کی جائیں۔

تاہم سی ڈی نامی شخص نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی، جس کی وجہ سے عدالت نے ان کا مقدمہ ختم کردیا۔

کیون اسپیسی پہلے ہی ان کی جانب سے لگائے گئے ’ریپ‘ الزامات کو مسترد کر چکے تھے۔

مزید پڑھیں: الزام لگانے والا مر گیا، کیون اسپیسی کے خلاف جنسی ہراسانی کا مقدمہ خارج

مذکورہ شخص کا مقدمہ ختم ہونے سے قبل بھی کیون اسپیسی کے خلاف کم از کم تین مرد حضرات کے مقدمات بھی ختم ہوچکے ہیں، جنہوں نے ان پر ریپ کا الزام لگایا تھا۔

کیون اسپیسی کے خلاف امریکا کی مختلف عدالتوں میں ’ریپ‘ کے الزامات کے تحت ہتک عزت سمیت دیگر نوعیت کے کیس بھی دائر کیے گئے تھے لیکن 2020 تک ان پر کیس کرنے والے دو افراد کی موت اور ایک شخص کی جانب سے مقدمہ واپس لیے جانے کے بعد ان کے خلاف 3 کیس ختم ہوگئے تھے۔

ان پر 2017 سے 2020 کے اختتام تک کم از کم 30 مرد و خواتین نے ’ریپ، جنسی استحصال اور جنسی ہراسانی‘ کے الزامات لگائے تھے۔

خیال رہے کہ کیون اسپیسی نے شاندار اداکاری کے باعث 2 آسکر ایوارڈز جیت رکھے ہیں اور ’ریپ‘ الزامات کے بعد 2017 میں انہیں معروف ٹی وی سیریز ’ہاؤس آف کارڈز‘ سے الگ کردیا گیا تھا۔

کیون اسپیسی نے 2017 کے آغاز میں اس وقت سب کو حیران کردیا تھا جب انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ ہم جنس پرستی کی جانب راغب ہیں اور ان کے ایسے اعتراف کے بعد ہی ان پر مرد حضرات نے ریپ کے الزامات لگانا شروع کیے تھے۔

تبصرے (0) بند ہیں