کورونا کیسز میں کمی، فضائی سفر پر پابندی میں یکم جولائی سے نرمی کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 28 جون 2021
ملک میں مسلسل دوسرے روز بھی ایک ہزار سے کم کیسز ریکارڈ ہوئے — فائل فوٹو: اے ایف پی
ملک میں مسلسل دوسرے روز بھی ایک ہزار سے کم کیسز ریکارڈ ہوئے — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: جہاں پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں کووڈ-19 کی صورتحال بہتر ہوتی جارہی ہے وہیں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے باضابطہ بین الاقوامی فضائی سفر کو معمول پر لانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد برطانیہ، یورپ، کینیڈا، چین اور ملائشیا سے براہ راست پروازیں 40 فیصد تک بڑھ جائیں گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق این سی او سی کی ایک دستاویز کے مطابق یکم جولائی سے برطانیہ، یورپ، کینیڈا، چین اور ملائشیا سے براہ راست پروازیں، جو معمول کی 20 فیصد پر تھیں، کو بڑھا کر 40 فیصد کردیا جائے گا۔

اس میں کہا گیا کہ بورڈنگ سے قبل اور پہنچنے کے بعد ممالک کی تمام کیٹیگریز کے لیے موجودہ ٹیسٹنگ پروٹوکول ایک جیسے ہی رہیں گے لیکن منفی ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ (آر اے ٹی) کے کیسز کے لیے گھر میں قرنطینہ کی ضرورت ختم کردی گئی ہے جبکہ مثبت جانچ پڑتال کرنے والوں کو طریقہ کار کے مطابق قرنطینہ سے گزرنا پڑے گا۔

وزارت قومی صحت سروسز (این ایچ ایس) کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان نے کووڈ 19 سے نمٹنے کے لیے گزشتہ سال اکتوبر میں تین کیٹیگریز اے، بی اور سی متعارف کروائی تھیں۔

مزید پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں بھارت کے شہریوں کی آمد پر پابندی برقرار ہے، حکام

ان کا کہنا تھا کہ 'اے کیٹیگری میں شامل ممالک کو کورونا وائرس کے ٹیسٹ سے استثنیٰ ہے، کیٹیگری بی میں شامل ممالک کو سفر سے 72 گھنٹے پہلے کیے گئے پی سی آر ٹیسٹ کے منفی نتائج کی ضرورت ہے جبکہ کیٹیگری سی کے ممالک سے آنے والے افراد کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انہیں این سی او سی کی گائیڈلائنز کے تحت ہی اجازت دی جاتی ہے'۔

عہدیدار نے مزید بتایا کہ اس وقت بھارت، انڈونیشیا، ایران، عراق، سری لنکا، جنوبی افریقہ اور برازیل سمیت 38 ممالک 'سی' کیٹیگری میں موجود ہیں جبکہ دیگر کو 'بی' کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔

اس فیصلے کے بعد این سی او سی نے وزارت خارجہ کو تجویز دی ہے کہ وہ اپنے تمام ہائی کمیشنز اور سفارت خانوں تک یہ معلومات پہنچائے اور پاکستانی رہائشیوں کو مطلع کرنے پر زور دے۔

وزارت قومی صحت کے عہدیدار نے کہا کہ برطانیہ، بھارت اور جنوبی افریقہ سے مختلف اقسام کے وائرس کے سامنے آنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ لوگوں کو قرنطینہ سہولتوں میں رہنا پڑے گا۔

بعد میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ وہ اپنے گھروں میں ہی قرنطینہ میں رہیں چاہے ان کے ٹیسٹ منفی ہی آجائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'تاہم منفی ٹیسٹ کرنے والوں کے لیے اب یہ شرط ختم کردی گئی ہے، مثبت نتیجے پر سرکاری سہولیات کی بجائے اپنے گھروں میں ہی قرنطینہ کرنا پڑے گا، یہ فیصلہ دنیا کے بیشتر حصوں میں کووڈ 19 کیسز میں کمی کے بعد کیا گیا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: ایسٹرازینیکا کی کورونا کی نئی اقسام کے خلاف نئی کووڈ ویکسینز کا ٹرائل شروع

انہوں نے مزید کہا کہ 'بھارت میں روزانہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد انفیکشن میں مبتلا ہو رہے تھے تاہم اب وہاں بھی صورتحال میں کافی حد تک بہتری آئی ہے'۔

ایک سوال کے جواب میں عہدیدار نے اُمید ظاہر کی کہ چیزیں معمول پر آتی رہیں گی البتہ وائرس کی چوتھی لہر آگئی تو اس می تبدیلی آئے گی۔

این سی او سی کے فیصلے کے بعد پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے تمام متعلقہ اداروں کو نوٹم (ایئر مین نوٹس) جاری کردیا ہے۔

نوٹس میں کہا گیا کہ 'دنیا کے مختلف حصوں میں کووڈ 19 کی صورتحال میں حالیہ بہتری کے پیش نظر پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر لینڈنگ فلائٹ آپریشن میں کمی کے حوالے سے نظرثانی کی گئی ہے'۔

اس میں کہا گیا کہ یورپ، برطانیہ، چین، ملائشیا اور کینیڈا سے پاکستان کے ایئرپورٹس پر براہ راست پروازوں میں منظور شدہ 2021 کے شیڈول میں 20 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔

دریں اثنا این سی او سی کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 23 افراد وائرس سے جاں بحق ہوگئے اور 901 مزید افراد انفیکشن میں مبتلا ہوئے۔

واضح رہے کہ 14 جون کے بعد سے ہلاکتوں کی تعداد 50 سے کم رہی ہے۔

اعداد و شمار میں فعال کیسز کی تعداد 32 ہزار 241 بتائی گئی ہے جبکہ ہسپتالوں میں 2 ہزار 197 مریض زیر علاج ہیں، جن میں سے 253 وینٹی لیٹرز پر ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں