جوڈیشل کمیشن کی جسٹس جمال مندوخیل کی عدالت عظمیٰ میں ترقی کی سفارش

اپ ڈیٹ 14 جولائ 2021
7 برس کے بعد بلوچستان سے تعلق رکھنے والے جج کو سپریم کورٹ میں ترقی دی جارہی ہے — فوٹو: بی ایچ سی
7 برس کے بعد بلوچستان سے تعلق رکھنے والے جج کو سپریم کورٹ میں ترقی دی جارہی ہے — فوٹو: بی ایچ سی

اسلام آباد: جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) نے بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل کی سپریم کورٹ میں جج کے خالی عہدے کو پُر کرنے کی سفارش کی لیکن سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کے کیس کو مؤخر کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 7 برس کے بعد بلوچستان سے تعلق رکھنے والے جج کو سپریم کورٹ میں ترقی دی جارہی ہے، جہاں سے آخری جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ تھے۔

مزید پڑھیں: ہائی کورٹ میں ججز کی تعیناتی کیلئے پارلیمانی کمیٹی انٹرویو کرے گی

سندھ ہائی کورٹ (ایس ایچ سی) کے جج کا معاملہ مختلف بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز کے خدشات کے باعث مؤخر کردیا گیا، کیونکہ وہ سنیارٹی فہرست میں پانچویں نمبر پر ہیں۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین خوشدل خان کے علاوہ ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین محمد فہیم ولی نے سنھ ہائی کورٹ کے جج کے حوالے سے کہا کہ یہ کام وکلا برادری کی خواہشات کے مطابق کیا گیا ہے۔

انہوں نے اس فیصلے کو سراہا اور انصاف کے اصولوں پر قائم رہنے پر پوری جے سی پی کو خراج تحسین پیش کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ بار کونسل کی جانب سے قانون کی حکمرانی کے نفاذ، آئین اور عدالتی اصولوں پر سختی سے عمل کرنے کے لیے قرارداد جاری کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: عدلیہ نے ججز کی تعیناتی میں پارلیمان کا اختیار ختم کیا، بلاول بھٹو

پی بی سی نے دیگر چار سینئر ججز کو نظر انداز کرکے جے سی پی کی جانب سے جسٹس مظہر کی نامزدگی کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے منگل سے ملک گیر ہڑتال کی اپیل کی تھی۔

گزشتہ برس 4 نومبر کو عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں اجلاس ہوا تھا تاکہ گزشتہ برس 4 نومبر کو جسٹس فیصل عرب اور رواں برس 30 اپریل کو جسٹس منظور احمد ملک کے ریٹائر ہونے کے باعث ان کی جگہ کو پُر کیا جاسکے۔

چیف جسٹس احمد علی شیخ، جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس حسن اظہر مرزا کو نظر انداز کرنے کے بعد جسٹس محمد علی مظہر، سندھ ہائی کورٹ کے پانچویں سینئر جج ہیں اور انہیں سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے ترقی دینے کی سفارش کی گئی۔

9 جولائی کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری احمد شہزاد فاروق رانا نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا تھا کہ ہائی کورٹ کے دیگر چار سینئر ججز کو نظر انداز کر کے ایک جونیئر جج کی سپریم کورٹ میں شمولیت سے قانونی اور عدالتی صلاحیتوں پر بھی سنگین سوالات پیدا ہوں گے۔

تبصرے (0) بند ہیں