او آئی سی وفد کا صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے لائن آف کنٹرول کا دورہ

اپ ڈیٹ 08 اگست 2021
وفد کے اراکین نے اراکین نے جنگ بندی کی خلاف وزری سے متاثرین سے ملاقات کی—تصویر: ڈان
وفد کے اراکین نے اراکین نے جنگ بندی کی خلاف وزری سے متاثرین سے ملاقات کی—تصویر: ڈان

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے مستقل آزاد کمیشن برائے انسانی حقوق (آئی پی ایچ آر سی) کے 12 اراکین کے وفد نے متنازع ہمالیائی خطے کشمیر کی تقسیمی لائن پر صورتحال کی معلومات حاصل کرنے کے لیے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کا دورہ کیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ وفد آزاد جموں کشمیر کے پونچھ ڈویژن چڑی کوٹ سیکٹر گیا، جہاں سینئر فوجی کمانڈر نے وفد کے اراکین کو ایل او سی سے متصل علاقے میں سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ وفد کو کمیونٹی بنکرز کی تعمیر کے ذریعے دشمن کی فائرنگ سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کیے گئے انتظامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

740 کلومیٹر طویل ایل او سی کو رواں برس فروری میں بھارت اور پاکستان کے مابین سال 2003 کے جنگ بندی کے معاہدے کی تجدید تک بلا اشتعال گولہ باری اور فائرنگ کا سامنا رہا، جس کے بعد متاثرہ آبادی کی زندگیوں میں سکون آیا۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے 2 برس، ملک بھر میں یومِ استحصال منایا جارہا ہے

دورے کے دوران او آئی سی-آئی پی ایچ آر سی کے اراکین نے جنگ بندی کی خلاف وزری سے متاثرین، گاؤں کی دفاعی کمیٹیوں کے اراکین اور سول انتظامی عہدیداروں سے بھی ملاقات کی۔

اس موقع پر وفد کے اراکین کا کہنا تھا کہ کشمیر کی صورتحال سنگین تھی اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے فوری توجہ اور در عمل کی ضرورت تھی۔

ملائیشیا کے احمد اعظم کا کہنا تھا کہ متاثرین کو سننے کے بعد بھارتی حکومت کی جانب سے خلاف ورزی کا مسئلہ حقیقی ہے اور بین الاقوامی ایجنسیز انہیں سزا نہیں دے رہی ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ کشمیریوں کی مشکلات کو دستاویزی طور پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کے تناظر میں اس دورے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے ڈاکٹر سعید محمد عبداللہ نے کہا کہ بھارت کا فیصلہ آزاد جموں اور کشمیر میں مقیم ہمارے بھائی بہنوں کے لیے خطرناک اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی تھا۔

انہوں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے اس عمل کے ذریعے مقبوضہ علاقے میں آبادیاتی تناسب کو بھی تبدیل کرنے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں:5 اگست 2019 سے 5 فروری 2020 تک مقبوضہ کشمیر کی آپ بیتی

مراکش کے حافظ الہاشمی نے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیریوں کی آواز دنیا بھر تک لے کر جائیں گے کیونکہ وہ تقسیم شدہ حصے کے متاثرین کی تکلیف کو سمجھ گئے ہیں۔

ترکی کے ڈاکٹر حاجی علی اجگل نے بھی مقبوضہ کشمیر کی جہنمی صورتحال کے بارے میں بات کی اور کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں رائے شماری کی صورت میں مسئلہ کشمیر کا مکمل حل فراہم کرتی ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت، کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم نہیں کر رہا اور 7 دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود رائے شماری کے لیے مذاکرات سے گریز کررہا ہے۔

آزربائیجان کے ڈاکٹر عیدین صفیخانلی نے کہا کہ دورے کا مقصد صورتحال کا جائزہ لینا تھا، یہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے جس کی سزا ملنی چاہیے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائے کہ وہ اس سلسلے میں متعلقہ بین الاقوامی اداروں بات کریں گے۔

مذکورہ وفد اتوار کو پارلیمنٹ ہاؤس میں پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے تحت منعقد ہونے والی اِن کیمرا بریفنگ میں شرکت کرے گا۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق چیئرمین پارلیمانی کمیٹی شہریار خان آفریدی وفد کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی پر بریفنگ دیں گے جس میں خاص کر بھارتی آئین کی دفعہ 35-اے اور 370 کے خاتمے اور آبادیاتی تبدیلیاں کر کے کشمیریوں کو ان کے آبائی وطن میں اقلیت میں تبدیل کرنے کا حوالہ دیا جائے گا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں