پہلی مرتبہ ایک تجرباتی کووڈ ویکسین کا موازنہ ایسٹرازینیکا ویکسین سے کرنے کا ٹرائل

اپ ڈیٹ 31 اگست 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

برطانوی کمپنی گلیکسو اسمتھ کلائن (جی ایس کے) اور کورین کمپنی ایس کے بائیو سائنسز کی جانب سے تجرباتی کووڈ ویکسین کی آزمائش ایسٹرازینیکا ویکسین سے کی جائے گی۔

اس تجرباتی کووڈ ویکسین کے آخری مرحلے کے ٹرائل میں اس کی افادیت کا موازنہ ایسٹرازینیکا ویکسین سے کیا جائے گا۔

یہ دنیا میں کسی کووڈ شاٹ کا پہلا تیسرے مرحلے کا ٹرائل ہوگا جس میں 2 مختلف کووڈ ویکسینز کا موازنہ کیا جائے گا۔

جے ایس کے اور ایس کے بائیو سائنسز کی تیار کردہ ویکسین کے ابتدائی ٹرائلز میں اسے محفوظ اور بہت زیادہ مؤثر دریافت کیا گیا تھا۔

اس تجرباتی ویکسین کو تیار کرنے کا مقصد کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے کم قیمت ویکسین تیار کرنا ہے جسے کوویکس پروگرام کے تحت تقسیم کیا جائے گا۔

کمپنیوں کو توقع ہے کہ تیسرے مرحلے کے ٹرائل کے مکمل ہونے پر اگلے سال کی پہلی ششماہی کے دوران وہ ریگولیٹرز سے ویکسین کی منظوری حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔

کمپنیوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے ٹرائل کے آخری مرحلے میں اپنی ویکسین کی افادیت کا موازنہ ایسٹرازینیکا ویکسین سے کرنے کا فیصلہ کیوں کیا۔

ٹیلیگراف کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ کسی اور ویکسین سے موازنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اب ایسا ممکن ہے، کیونکہ اب کئی منظور شدہ ویکسینز موجود ہیں تو پلیسبو کی جگہ کسی ویکسین کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔

ایسٹرازینیکا ویکسین کے انتخاب کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایم آر این اے ویکسینز کے مقابلے میں اسے اسٹور کرنا آسان ہے اور وہ فائزر یا موڈرنا کے مقابلے میں کم قیمت بھی ہے۔

اگر جی ایس کے اور ایس کے بائیوسائنسز کی ویکسین ٹرائل میں ایسٹرازینیکا ویکسین سے زیادہ مؤثر ہونے کے ساتھ کم مضر اثرات والی ثابت ہوئی تو یہ متعدد کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے ایک اچھا آپشن ہوگی۔

ٹرائل میں ایک اور ویکسین سے اپنی ویکسین کے موازنے کے لیے ایسٹرازینیکا سے اجازت بھی حاصل کی جائے گی۔

گلیکسکو اسمتھ کلائن اور ایس کے بائیو سائنسز کی ویکسین کی تیاری کے لیے بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن اور کولیشن فار ایپیڈیمک پریپرڈنیس انیشیٹیو کی جانب سے بھی تعاون کیا جارہا ہے۔

جی ایس کے چیف گلوبل ہیلتھ آفیسر تھامس بریور نے بتایا کہ اگرچہ متعدد ممالک نے ویکسینیشن کے حوالے سے اچھی پیشرفت کی ہے مگر اب بھی کم قیمت اور قابل رسائی ویکسینز کی ضرورت ہے تاکہ دنیا بھر کے لوگوں تک ویکسینز کی مساوی رسائی کو یقینی بنایا جاسکے۔

تبصرے (0) بند ہیں