دوران حمل ماں کا ورزش کرنا بچوں کے پھیپھڑوں کی صحت کیلئے مفید

06 ستمبر 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

دوران حمل ورزش کرنا نہ صرف ماں بلکہ اس کے ہونے والے بچے کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔

یہ بات ناروے میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

اوسلو یونیورسٹی کی تحقیق میں 814 بچوں کو شامل کیا گیا اور جسمانی طور پر متحرک ماؤں کا موازنہ سست طرز زندگی کی عادی خواتین سے کیا گیا۔

تحقیق میں حمل کے دوران ماؤں کی جسمانی سرگرمیوں اور بچوں کے پھیپھڑوں کے افعال میں تعلق کو دریافت کیا گیا۔

محققین نے بتایا کہ سابقہ تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا تھا کہ بچپن میں پھیپھڑوں کے افعال میں کمی سے بلوغت میں دمہ اور پھیپھڑوں کے دیگر امراض کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ بچوں کے پھیپھڑوں کے افعال سے جڑے عناصر کے بارے میں جاننا اہمیت رکھتا ہے، اگر حمل کے دوران ماں کی جسمانی سرگرمیاں بچوں کے پھیپھڑوں کے افعال میں خرابی کا خطرہ کم کرسکتی ہیں تو یہ ایک کم قیمت ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جسمانی طور پر غیر متحرک ماوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں میں پھیپھڑوں کے افعال کی شرح کم ہونے کا امکان جسمانی طور پر سرگرم ماؤں کے بچوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جوان خواتین اورحاملہ خواتین میں جسمانی سرگرمیوں کی اہمیت کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے مگر بچوں کے پھیپھڑوں کے افعال اور ماؤں کی جسمانی سرگرمیوں کے درمیان تعلق کے بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

تحقیق میں شامل خواتین سے حمل کے 18 اور 34 ویں ہفتے میں سوالنامے بھروا کر صحت، طرز زندگی، سماجی و معاشی عناصر اور غذائیت کے بارے میں تفصیلات حاصل کی گئیں۔

ان سے یہ بھی معلوم کیا گیا کہ وہ کتنی ورزش کرنے کی عادی تھیں جبکہ بچوں کے پھیپھڑوں کی جانچ پڑتال اس وقت کی گئی جب وہ 3 ماہ کے ہوگئے تھے۔

اس مصد کے لیے سانس لینے کو معیار بنایا گیا تھا اور فیس ماسک کی مدد لی گئی۔

محققین نے ماں کی عمر، تعللیم حمل سے قبل جسمانی وزن، پہلے سے بچے کی پیدائش، الرجی سے متعلق بیماریوں کو بھی مدنظر رکھا گیا۔

اب محققین نے ان بچوں کے بڑے ہونے تک ان کی مانیٹرنگ کی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ دیکھا جاسکے کہ پھیپھڑوں کے افعال کس حد بہتر یا بدتر ہوتے ہیں اور کس طرح نظام تنفس کے امراض کو اس سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہمیں توقع ہے کہ ماؤں کی جسمانی سرگرمی اور دمہ، الرجیز اور دیگر غیرمتعدی امراض کے درمیان تعلق کے بارے میں جاننا ممکن ہوسکے گا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں