میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر بات کرنی چاہیے، اسد عمر

اپ ڈیٹ 15 ستمبر 2021
وفاقی وزیر اسد عمر
وفاقی وزیر اسد عمر

وفاقی وزیر ترقی و اصلاحات اسد عمر کا کہنا ہے کہ میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کو بات کرنی چاہیے۔

اسلام آباد میں عالمی یوم جمہوریت کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے اسد عمر کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں شدت پسندی، عدم برداشت بڑھ رہی ہے اور ووٹر ہی شدت پسندی کی حمایت کر رہے ہیں اور ہماری سوچ سے بالاتر تھا کہ امریکا میں کانگریس پر بھی حملہ کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جمہوریت کی مضبوطی کے لیے احتساب کا ایک ایسا نظام ہونا چاہیے کہ اگر کوئی غلطی کرے تو اسے کٹہرے میں کھڑا کر کے سزا دی جا سکے، آزاد عدلیہ کے بغیر جمہوریت مکمل نہیں ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 2007 میں عدلیہ کے حوالے سے مہم چلی تو اس وقت ہم بھی سڑکوں پر نکل آئے تھے، آزاد عدلیہ کے بغیر جمہوریت کا تصور ہی نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: میڈیا انڈسٹری کی نمائندہ تنظیموں نے پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو مسترد کردیا

اسد عمر کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دور میں ملک کے اندر جمہوریت مضبوط ہوئی ہے تاہم اس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پارلیمان کو اپنے ذاتی مفاد کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرنا جمہوریت نہیں، عوام نے کسی کو بھی ذاتی مفادات کے لیے منتخب نہیں کیا، پارلیمان میں ذاتی مفاد نظر نہیں آنا چاہیے'۔

انہوں نے کہا کہ 'قائمہ کمیٹی پارلیمانی نظام کی روح ہے، وہاں ریسرچ اور حکومت پر نگرانی کی سہولت ہونی چاہیے'۔

پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'جب تک صحافت اور صحافی آزاد نہ ہوں، جمہوری معاشرہ اور جمہوری نظام نہیں بنا سکتے'۔

انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری سمیت کسی بھی وزیر کے پاس ایسا اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کسی صحافی کو سچ بولنے سے روک سکیں، اگر ان کے پاس ایسے اختیارات ہوں گے تو جمہوریت کمزور ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'تاہم اگر 22 کروڑ پاکستانیوں کو جھوٹی خبر سے محفوظ کرنا بھی جمہوریت کا حصہ ہے اور اگر فواد چوہدری یہ نہ کریں تو بھی وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے'۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 'آج جھوٹی خبر روزانہ کی بنیاد پر پھیل رہی ہے اور کوئی اس حقیقت سے آنکھیں نہیں چرا سکتا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اگر میں پارلیمان میں بل لے آؤں کہ آج سے سارے ریگولیٹر ختم کیے جائیں تو شام کو میڈیا پر کیا تذکرہ ہوگا، کیا وہ اسے اچھا نظام کہے گا'۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین سینیٹ کمیٹی، اراکین کی میڈیا اتھارٹی سے متعلق بل کو مسترد کرنے کی دھمکی

انہوں نے کہا کہ 'مجوزہ میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر بات کرنی چاہیے، جمہوریت اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب عوام خود کو اس نظام کا حصہ دار سمجھیں'۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے بنیادی پیغامات میں سے ایک یہی پیغام ہے کہ سب سے کمزور طبقے اور پسماندہ علاقوں میں ترجیحی بنیادوں پر وسائل مہیا کیے جائیں، احساس پروگرام کے تحت ان طبقات کو سہولیات فراہم کی گئیں اور بلوچستان، اندرون سندھ، گلگت بلتستان کے پسماندہ علاقوں میں پیکیجز دیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے لیے 2 کھرب روپے کے چار پیکیجز دیئے گئے، ہم نے بلوچستان کے لیے تاریخ میں سب سے بڑا ترقیاتی پیکیج دیا جو وہاں کی اپوزیشن جماعتیں خود کہتی ہیں کہ آج سے پہلے اتنا بڑا ترقیاتی پیکیج بلوچستان کو کسی نے نہیں دیا۔

تبصرے (0) بند ہیں