نوعمر افراد میں ویکسین لگوانے کا رجحان سست روی کا شکار

اپ ڈیٹ 20 ستمبر 2021
—فائل فوٹو: رائٹرز
—فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد: 15 سے 17 سال کی عمر کے افراد میں کووڈ 19 کی ویکسینیشن کرانے کا رحجان مایوس کن ہے تاہم وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) نے خیال ظاہر کیا ہے کہ پیر (آج) سے شروع ہونے والے ہفتے کے دوران حقیقی اعداد و شمار سے صورتحال مزید واضح ہوجائے گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز نے ایکٹیمرا انجیکشن زیادہ نرخوں پر فروخت کرنے والے گروپ کے ایک رکن کو گرفتار کرلیا۔

مزید پڑھیں: موڈرنا ویکسین فائزر اور جانسن اینڈ جانسن کے مقابلے میں زیادہ مؤثر قرار

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے اعلان کیا تھا کہ 15 سے 17 سال کی عمر کے افراد کی ویکسینیشن 3 ستمبر سے شروع ہوگی، انہیں صرف فائزر لگائی جائے گی اور یہ سہولت بالکل مفت ہوگی۔

این سی او سی نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے 'ب' فارم کے ساتھ ویکسینیشن سینٹرز کا دورہ کریں۔

جب وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) کے ایک سینئر عہدیدار سے ویکسینیشن سے متعلق نوعمروں کے ردعمل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ بہت لاپرواہی کا مظاہرہ کررہے ہیں لیکن اُمید ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ تیزی سے ویکسینیشن سینٹر کا رخ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ فائزر ویکسین گزشتہ ہفتے آئی تھی اس لیے حقیقی ردعمل کا اندازہ پیر (آج) سے لگایا جائے گا۔

عہدیدار نے بتایا کہ 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو فائزر لگائی جاری ہے لیکن چونکہ یہ ویکسین ہر شہر کے صرف منتخب مراکز میں دستیاب تھی اس لیے ردعمل حوصلہ افزا نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس دماغ پر کس طرح کے اثرات مرتب کرتا ہے؟ وہ سب جو اب تک معلوم ہوچکا ہے

علاوہ ازیں ڈریپ اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے ایک ایسے گروہ کا انکشاف کیا کہ جو دوگنے دام پر ایکٹیمرا کی فروخت میں ملوث ہے۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ڈریپ اور ڈرگ کنٹرول ڈی ایچ او کی مشترکہ ٹیم نے مریضوں کو غیر رجسٹرڈ/اسمگل شدہ ایکٹیمرا انجکشن ایک لاکھ 10 ہزار روپے میں فروخت کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم ایکٹیمرا 59 ہزار روپے کے بجائے ایک لاکھ روپے سے زائد کی قیمت پر فروخت کررہا تھا، یہ انجکشن انتہائی متاثرہ مریض کو دیا جاتا ہے۔

این ایچ ایس وزارت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہ انجکشن ترکی سے اسمگل کیا گیا تھا اور اسے زائد نرخوں پر فروخت کیا جا رہا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ دوا غیر رجسٹرڈ تھی اس لیے ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ اصلی ہے یا نہیں، انجکشن فروخت کرنے میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔

خیال رہے کہ ایکٹیمرا مونوکلونل اینٹی باڈیز ہے اور مدافعتی نظام کو بند کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، مونوکلونل اینٹی باڈیز لیبارٹری سے بنی پروٹین ہیں جو مدافعتی نظام کو نقصان دہ اینٹی جینز سے لڑنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔

تاہم جب پوری دنیا میں ایکٹیمرا کی قلت ہوئی تو ڈریپ نے ستمبر کے پہلے ہفتے میں متبادل ادویات کی منظوری دی اور طبی مراکز کو کورونا کے انتہائی متاثرہ مریضوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی۔

مزید پڑھیں: چینی کمپنی کی کووڈ ویکسین 3 سال تک کے بچوں کیلئے محفوظ قرار

این ایچ ایس کے سرکاری بیان کے مطابق ایسے مریض جن کے سانس کا نظام تیزی سے خراب ہو رہا ہو اور مصنوعی آکسیجن کی صورت ہو تو ٹوکلیزوماب کو ڈیکسامیتھاسون کے ساتھ دینے سے شرح اموات میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

اس میں کہا گیا کہ اب اس جان بچانے والی دوا کی نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں کمی ہے، مختلف ممالک میں ریگولیٹری اداروں نے طبی مراکز کو دوبارہ متبادل ادویات کے استعمال کی اجازت دی ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے برطانیہ کے سابق وزیراعظم گورڈن براؤن کو گلوبل ہیلتھ فنانسنگ کے لیے اپنا سفیر مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایک بیان کے مطابق گورڈن براؤن کو 2009 کے لندن جی 20 سربراہی اجلاس کی صدارت کے ذریعے سیکنڈ گریٹ ڈپریشن کو روکنے کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (1) بند ہیں

Bilal Iqbal Sep 20, 2021 12:48pm
I think it will get faster after CAIE examination