سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا، پی پی پی کا احتجاج

اپ ڈیٹ 06 اکتوبر 2021
فائل/فوٹو: اے ایف پی
فائل/فوٹو: اے ایف پی

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا، جس پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔

پی پی پی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کے بیٹے قاسم گیلانی نے کہا کہ سابق وزیراعظم کے اسٹاف کو ائیرپورٹ کے امیگریشن کاؤنٹر پر بتایا گیا کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے سینیٹ کی نشست کے لیے یوسف رضا گیلانی کی نامزدگی کو چیلنج کردیا

سابق وزیراعظم کے بیٹے علی موسیٰ گیلانی نے ٹوئٹر پر کہا کہ حکومت نے پی پی پی رہنما کو اٹلی کی حکومت کی دعوت پر ماحولیاتی کانفرنس میں ملک کی نمائندگی کے لیے جانے سے روکا۔

انہوں نے کہا کہ 'جب تک جرم ثابت نہ ہو بے گناہی اور نام نہاد جمہوریت میں اپوزیشن لیڈر کو پاکستان کی نمائندگی اور بین الاقوامی کانفرنس میں پارلیمانی وفد کی قیادت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، ہم اس طرح کی جمہوریت میں رہتے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ ای سی ایل جیسے ہتھکنڈے آج پاکستان کو کمزور کر رہے ہیں جب عالمی سطح پر پاکستان کو قیادت کی اشد ضرورت ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ سابق وزیراعظم کو ملک سے باہر جانے سے روک دیا گیا ہے بلکہ فروری 2019 میں بھی انہیں لاہور ائیرپورٹ میں روک دیا گیا تھا جہاں معلوم ہوا تھا کہ ان کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا ہے۔

پی پی پی رہنما کو علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں روکا گیا تھا جب وہ کوریا جانے کے لیے وہاں پہچے تھے، وہ ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے جار رہے تھے۔

ایئرپورٹ کے امیگریشن کاؤنٹر میں انہیں آگاہ کیا گیا تھا کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ہے اور وہ ملک نہیں چھوڑ سکتے۔

بعد ازاں یوسف رضا گیلانی کو کمبوڈیا جانے کے لیے اجازت دی گئی تھی اور اس مرتبہ وزارت داخلہ نے ان کا نام ای سی ایل سے نکالا تھا، اس وقت کمبوڈیا کے وزیراعظم ہن سین نے ایشیا پیسفک 2019 کی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

مزید پڑھیں: یوسف رضا گیلانی نے چیئرمین سینیٹ انتخاب کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی

خیال رہے کہ یوسف رضا گیلانی کا نام ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی اسکینڈل کے حوالے سے ای سی ایل میں شامل کیا گیا ہے۔

ڈان کو ان کے خاندانی ذرائع نے بتایا کہ یوسف رضا گیلانی نے حکومت سے باہر جانے اجازت طلب کی تھی اور انہیں اجازت دی گئی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ 'انہیں 15 دن کے لیے باہر جانے کی اجازت دی گئی تھی اور یہ ایک دفعہ کی اجازت تھی'۔

پی پی کا ملک میں دو نظام رائج ہونے کا الزام

پی پی پی سینیٹر شیری رحمٰن نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی کو بیرون ملک جانے سے روکے جانے کے معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ 'یوسف رضا گیلانی انٹر پارلیمانی یونین کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی سربراہی کے لیے روم جارہے تھے'۔

انہوں نے کہا کہ 'یوسف رضا گیلانی انٹر پارلیمانی یونین میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے پانچ اراکین قومی اسمبلی اور پانچ سینیٹرز کے ہمراہ بیرون ملک جارہے تھے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یوسف رضا گیلانی کی علی الصبح فلائٹ تھی تاہم رات کو ای سی ایل میں نام ہونے کی تصدیق کے بعد وہ ائیرپورٹ نہیں گئے'۔

شیری رحمٰن نے کہا کہ جیل سے سزا یافتہ مجرموں کو ملک سے باہر جانے دیا جاتا ہے مگر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں پر قدغنیں ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ای سی ایل سے نام ہٹا کر پیشیاں بھگتنے والوں کو بھی ملک سے باہر جانے دیا گیا مگر جیالوں کے لیے الگ قانون ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'ملک میں ایک نہیں دو نظام رائج ہیں، اگر ایک سابق وزیراعظم ای سی ایل میں نام ہونے کے باوجود ملک سے باہر جاسکتے ہیں تو دوسرا کیوں نہیں؟

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں