کووڈ سے تحفظ کے لیے ویکسینیشن کی افادیت کا نیا ڈیٹا سامنے آگیا

اپ ڈیٹ 09 نومبر 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

ویکسینیشن نہ کرانے والے افراد میں کووڈ 19 سے متاثر ہونے پر آئی سی یو میں داخلے یا موت کا خطرہ ویکسین شدہ مریضوں کے مقابلے میں 16 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

یہ بات آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز (این ایس ڈبلیو) کی جانب سے ایک رپورٹ میں بتائی گئی۔

آسٹریلین ریاست کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری ڈیٹا کے مطابق وہاں ڈیلٹا کی وبا کے دوران 4 ماہ میں ہلاک ہونے والے 412 کووڈ مریضوں میں سے صرف 11 فیصد کی ویکسینیشن مکمل ہوچکی تھی۔

ویکسینیشن کے بعد کووڈ سے ہلاک ہونے والے افراد معمر تھے اور ان کی اوسط عمر 82 سال تھی۔

16 جون سے 7 اکتوبر کے دوران اس ریاست میں 61 ہزار 800 کیسز سامنے آئے جن میں سے 63 فیصد کی ویکسینیشن نہیں ہوئی تھی۔

ویکسینیشن کے بعد بیماری کا سامنا کرنے والے محض 3 فیصد مریضوں کو آئی سی یو میں داخل کرایا گیا۔

ریاستی حکام نے کہا کہ ویکسینیشن کرانے والے جوان افرد میں بیماری کی شرح کی بہت کم تھی اور لگ بھگ کسی کو بھی سنگین بیماری کا سامنا نہیں ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے مقابلے میں اس گروپ کے ویکسینیشن نہ کرانے والے گروپ میں کووڈ سے متاثر ہونے اور ہسپتال میں داخلے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

یہ نتائج امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کی جانب سے ستمبر میں جاری ڈیٹا سے مطابقت رکھتا ہے۔

اس ڈیٹا میں بتایا گیا تھا کہ ویکسینیشن نہ کرانے والے افراد میں کووڈ 19 سے موت کا خطرہ ویکسینیشن کرانے والوں کے مقابلے میں 11 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

اسی طرح مختلف تحقیقی رپورٹس میں بھی بتایا گیا ہے کہ کورونا کی زیادہ متعدد قسم ڈیلٹا کے پھیلاؤ کے باوجود ویکسینز کی افادیت برقرار رہتی ہے۔

ستمبر میں جاری ہونے والی 3 تحقیقی رپورٹس کے مطابق کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن کرانے کے بعد بیمار ہونے کا امکان تو کسی حد تک ہوتا ہے مگر کووڈ کی سنگین شدت اور موت کے خطرے کے ٹھوس تحفظ ملتا ہے۔

پہلی تحقیق میں اپریل سے جولائی 2021 کے دوران امریکا میں 6 لاکھ سے زیادہ کووڈ کیسز اور ویکسینیشن اسٹیٹس کا تجزیہ کیا گیا تھا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ویکسینیشن نہ کرانے والوں میں کووڈ سے متاثر ہونے کا امکان ویکسینیشن کرانے والوں کے مقابلے میں 4.5 گنا زیادہ ہوتا ہے، ہسپتال میں داخلے کا خطرہ 10 جبکہ موت کا خطرہ 11 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے نتائج میں بتایا گیا کہ ڈیلٹا قسم کے پھییلاؤ سے ویکسینز کی افادیت میں کچھ کمی آئی ہے بالخصوص 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کے لیے، مگر بیماری کی سنگین شدت اور موت سے تحفظ کے لیے ٹھوس تحفظ برقرار رہتا ہے۔

تحقیق میں تخمینہ لگایا گیا کہ ڈیلٹا کے پھیلاؤ کے بعد ویکسینز کی بیماری سے بچاؤ کی افادیت 90 فیصد سے گھٹ کر 80 سے نیچے چلی گئی۔

سی ڈی سی نے بتایا کہ ڈیٹا سے ثابت ہوتا ہے کہ سنگین بیماری اور موت کے خلاف ویکسینز کی افادیت میں معمولی کمی آئی اور ٹھوس تحفظ برقرار رہا۔

دوسری تحقیق میں ثابت ہوا کہ موڈرنا ویکسین ہسپتال میں داخلے کا خطرہ کم کرنے کے حوالے سے فائزر/بائیو این ٹیک اور جانسن اینڈ جانسن ویکسینز کے مقابلے میں کچھ زیادہ مؤثر ہے۔

تیسری تحقیق میں 5 ہسپتالوں میں زیرعلاج کووڈ کے مریضوں میں 2 ایم آر این اے ویکسینز (موڈرنا اور فائزر/بائیو این ٹیک) کی افادیت کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔

یکم فروری سے 6 اگست کے ڈیٹا میں دریافت ہوا کہ ایم آر این اے ویکسینز ہسپتال میں داخلے سے تحفظ کے لیے 87 فیصد تک مؤثر ہیں اور ڈیلٹا کے پھیلاؤ کے باوجود ٹھوس تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق اس عرصے میں ہسپتال میں داخلے سے بچاؤ کے لیے ویکسینز کی افادیت 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں گھٹ کر 80 فیصد تک پہنچ گئی مگر 18 سے 64 سال کی عمر میں یہ شرح 95 فیصد تھی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں