فیس بک کی لت سے نجات کے لیے تھپڑ مارنے والی خاتون کی خدمات حاصل کرنے والا شخص

اپ ڈیٹ 12 نومبر 2021
منیش سیٹحی — اسکرین شاٹ
منیش سیٹحی — اسکرین شاٹ

فیس بک کا استعمال تو دنیا بھر میں اربوں افراد کرتے ہیں مگر کیا آپ نے کبھی کسی ایسے انسان کو دیکھا جو اس سے پیچھا چھڑانے کے لیے دوسروں کو خود کو تھپڑ مارنے کا کہے؟

یقین کرنا مشکل ہوگا مگر امریکی شہر سان فرانسسکو سے تعلق رکھنے والے ایک کمپیوٹر پروگرامر نے ایسا ہی کیا ہے۔

جی ہاں منیش سیٹھی نامی کمپیوٹر پروگرامر اور بلاگر نے ایک اشتہار دیا جس میں لکھا تھا ضرورت ہے ایک ایسے محنتی ورکر کی جو ہر اس وقت مجھے تھپڑ مارنے کے لیے تیار ہو جب میں فیس بک استعمال کروں۔

وہ بنیادی طور پر اپنی تعمیری صلاحیتوں کو بہتر بنانا چاہتے تھے اور ان کو لگتا تھا کہ وہ فیس بک اور ریڈیٹ پر روزانہ بہت زیادہ وقت گزار رہے ہیں، یہ کوئی 6 گھنٹے روزانہ۔

تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ کسی ایسے فرد کی خدمات حاصل کی جائے جو اس وقت تھپڑ مارے جب وہ فیس بک کا استعمال کریں۔

جنوری میں دیئے گئے اس اشتہار پر 20 افراد نے ان سے رابطہ کیا تھا اور انہوں نے کارا نامی خاتون کی خدمات 2021 کے شروع میں حاصل کی۔

کارا کو ا کام کے لیے ہر گھنٹے 8 ڈالرز معاوضہ دیا گیا اور کرنا یہ تھا کہ جب بھی دفتری اوقات میں منیش فیس بک کا رخ کرے تو ایک تھپڑ چہرے پر مار دے۔

اب منیش کا ماننا ہے کہ یہ طریقہ کار کام کررہا ہے اور پروڈکٹویٹی میں 98 فیصد اضافہ ہوا۔

حال ہی میں اس تجربے کو ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا تو دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے اس پر فائر ایموجیز کے ذریعے اپنا ردعمل ظاہر کیا۔

تھپڑ کے اس تجربے نے منیش کو ایک ویئر ایبل کمپنی تشکیل دینے میں مدد کی جس کا مقصد ایسی ڈیوائس تیار کرنا ہے جو روزمرہ کی عادات بدلنے میں مدد فراہم کرسکیں۔

منیش نے بتایا کہ 'میں نے اس تجربے کی بنیاد پر ایک ویئر ایبل ڈیوائس کمپنی بنائی تاکہ عادات بدلنا ممکن ہوسکے، کمپنی نے ایسی ڈیوائس تیار کی جو اچھی اور بری عادات کو مدنظر رکھتے ہوئے برقی جھٹکا اور مثبت سنسناہٹ جیسے تجربات فراہم کرتی ہے'۔

اکتوبر میں ایک انٹرویو کے دوران منیش سیٹھی نے بتایا تھا کہ وہ سوشل میڈیا پر وقت کے ضیاع پر ناخوش تھے اور یہ بہت ڈپریس کردینے والا تجربہ تھا۔

مگر جب س کارا نے منیش کے برابر بیٹھنا شروع کیا تو ان کی تعمیری صلاحیت میں 98 فیصد اضافہ ہوگیا۔

تبصرے (0) بند ہیں