پیمرا نے قتل سے پہلے نور مقدم کے فرار کی کوشش کی فوٹیج نشر کرنے پر پابندی لگادی

اپ ڈیٹ 14 نومبر 2021
نورمقدم کو  20 جولائی کو قتل کردیا گیا تھا—فائل فوٹو: چینج ڈاٹ او آر جی
نورمقدم کو 20 جولائی کو قتل کردیا گیا تھا—فائل فوٹو: چینج ڈاٹ او آر جی

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے تمام سیٹیلائٹ ٹی وی چینلز کو نور مقدم کی ظاہر جعفر سے بچنے کی کوشش کی لیک ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج نشر کرنے پر پابندی لگادی۔

یاد رہے کہ نور مقدم کو 20 جولائی کو اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف-7/4 کے ایک گھر میں بے رحمی سے قتل کردیا گیا تھا جس کا مقدمہ ظاہر جعفر کے خلاف درج کیا گیا تھا۔

نور کے والد شوکت علی مقدم کی شکایت پر ساتھ ہی ملزم کو جائے وقوع سے گرفتار بھی کرلیا گیا تھا۔

پیمرا کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیمرا آرڈینسس 2002 کی دفعہ 27 کے تحت نور اور ظاہر کی سی سی ٹی وی فوٹیج نشر کرنے پر پابندی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نور مقدم قتل کیس: وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی ٹرانسکرپٹ عدالت میں جمع

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ’تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز (خبروں، حالات حاضرہ/علاقائی زبان) کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ مذکورہ سی سی ٹی وی فوٹیج کو فوری طور پر نشر کرنا بند کر دیں‘۔

—پیمرا کے نوٹیفکیشن کا عکس
—پیمرا کے نوٹیفکیشن کا عکس

ریگولیٹر نے خبردار کیا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 29، 30 اور 33 کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ 9 نومبر کو نور مقدم قتل کیس میں استغاثہ نے جائے وقوع کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا ٹرانسکرپٹ اسلام آباد سیشن کورٹ میں جمع کرایا تھا جسے عدالت نے فوٹیج وکیل دفاع کو مہیا کرنے کی ہدایت کی تھی۔

دوسری جانب نور کے حق میں بنائے گئے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ نے عدالتی احکامات کے باوجود ٹی وی چینلز کی جانب سے سی سی ٹی فوٹیج نشر کرنے کی مذمت کی۔

مزید پڑھیں:نور مقدم کیس: مقدمہ نمٹانے میں تاخیر سے اضطراب بڑھتا ہے، سپریم کورٹ

ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ’انتہائی حیرت اور صدمہ، وکیل دفاع کو سی سی ٹی وی فوٹیج ملے صرف ایک دن ہوا تھا اور جج نے انہیں کہا تھا کہ یہ لیک نہیں ہونی چاہیے لیکن اب وہ لیک ہوچکی ہے، اس کی کوئی پرواہ نہیں کی گئی کہ نور کے چاہنے والوں کے لیے یہ کیسا ہوگا، کیا ان کے لیے اتنا صدمہ کافی نہیں؟

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی مریم اورنگزیب نے کہا کہ وہ سی سی ٹی وی فوٹیج نشر ہوتے دیکھ کر ’مایوس‘ ہوئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا تصور کرنا بھی ناممکن ہے کہ نور کے اہلِ خانہ اور پیاروں کے لیے یہ کتنا مشکل ہوگا جنہیں اس ظلم کی یاد تازہ کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

رہنما مسلم لیگ کا مزید کہنا تھا کہ نور کے آخری لمحات کی ویڈیو نشر کرنا اور شیئر کرنا سماجی تانے بانے کو مزید نقصان پہنچاتا ہے اور اس کے خاندان کے لیے پریشانی کا باعث ہے، تمام افراد سے گزارش ہے کہ ویڈیو کو شیئر نہ کریں۔

کیس کا پس منظر

خیال رہے کہ رواں سال 20 جولائی کو اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف۔7/4 کے رہائشی سابق پاکستانی سفیر شوکت مقدم کی بیٹی 27 سالہ نور کو قتل کر دیا گیا تھا۔

ظاہر ذاکر جعفر کے خلاف مقتولہ کے والد کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی جس کے تحت ملزم کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

بعدازاں عدالت میں پیش کردہ پولیس چالان میں کہا گیا کہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے ساتھیوں کی ملی بھگت کے باعث نور مقدم نے جان بچانے کی 6 کوششیں کی جو ناکام رہیں۔

وقوعہ کے روز 20 جولائی کو ظاہر جعفر نے کراچی میں موجود اپنے والد سے 4 مرتبہ فون پر رابطہ کیا اور اس کے والد بھی اس گھر کی صورتحال اور غیر قانونی قید سے واقف تھے۔

یہ بھی پڑھیں: نور مقدم قتل کیس: ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا معاملہ 7 اکتوبر تک مؤخر

چالان میں کہا گیا کہ نور کی جانب سے ظاہر سے شادی کرنے سے انکار پر 20 جولائی کو دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا جس کے بعد مبینہ قاتل نے انہیں ایک کمرے میں بند کردیا، چالان میں ملزم کے بیان کا حوالہ دیا گیا جس میں اس نے قتل کا اعتراف کیا۔

ملزم نے بتایا کہ نور مقدم نے اس کی شادی کی پیشکش مسترد کردی تھی جس پر اس نے انہیں ایک کمرے میں بند کردیا، جبری قید پر وہ انتہائی غصے میں آگئیں اور ظاہر کو نتائج سے خبردار کیا۔

مقتولہ نے ظاہر کو دھمکی دی کہ پولیس میں جا کر اس کے خلاف شکایت درج کروائیں گی، بیان کے مطابق ملزم نے اپنے والدین کو واقعے سے آگاہ کیا اور ملازمین کو ہدایت کی کہ کسی کو اندر نہ آنے دیں نہ نور کو گھر سے باہر جانے دیں۔

چالان میں کہا گیا کہ نور کمرے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئی تھیں اور گھر کے مرکزی دروازے کی طرف بھاگیں لیکن سیکیورٹی گارڈ افتخار نے انہیں باہر نہیں جانے دیا، یہ وہ موقع تھا جب ان کی جان بچائی جاسکتی تھی۔

مزید پڑھیں: نور مقدم قتل کیس: ملزم ظاہر کے والدین کی درخواست ضمانت مسترد

کال ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے چالان میں کہا گیا کہ نور کو قتل کرنے سے قبل ظاہر نے دوپہر 2 بج کر 21 منٹ، 3 بجے، 6 بج کر 35 منٹ اور شام 7 بج کر 29 منٹ پر اپنے والدین سے رابطہ کیا۔

دوسری جانب شوکت مقدم کی درج کروائی گئی ایف آئی آر کے مطابق ان کے پوچھنے پر ظاہر جعفر نے کال کر کے بتایا کہ نور اس کے ساتھ موجود نہیں۔

تاہم 20 جولائی کو رات 10 بجے انہیں کوہسار پولیس اسٹیشن سے ایک کال موصول ہوئی جس میں انہیں بتایا گیا کہ ان کی بیٹی قتل ہوگئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب میں اس گھر پہنچا تو اپنی بیٹی کی گلا کٹی لاش دیکھی جس کے بعد پولیس میں شکایت درج کروائی‘ ۔

25 جولائی کو پولیس نے نور مقدم کے قتل کے مشتبہ ملزم ظاہر جعفر کے والدین اور گھریلو ملازمین کو شواہد چھپانے اور جرم میں اعانت کے الزامات پر گرفتار کیا تھا جنہیں بعد میں عدالت نے جیل بھیج دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نور مقدم قتل کیس: ملزم ظاہر جعفر کے والدین کا فرد جرم سے بچنے کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع

اس کے علاوہ اس کیس میں تھراپی ورکس کے مالک اور ملازمین بھی گرفتار ہوئے جنہیں عدالت نے 23 اگست کو رہا کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

مقامی عدالت سے ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت مسترد ہونے کے بعد انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا لیکن 29 ستمبر کو ہائی کورٹ نے بھی ملزم کے والدین کی درخواستِ ضمانت مسترد کردی تھی۔

جس پر انہوں نے 6 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

بعدازاں 18 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر کی والدہ عصمت بی بی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا تھا۔

دوسری جانب 9 نومبر کو نور مقدم قتل کیس میں استغاثہ نے جائے وقوع کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا ٹرانسکرپٹ اسلام آباد سیشن کورٹ میں جمع کرایا تھا جسے عدالت نے فوٹیج وکیل دفاع کو مہیا کرنے کی ہدایت کی تھی

تبصرے (0) بند ہیں