برطانیہ: ہسپتال کے باہر دھماکے کے بعد پولیس نے 3 افراد کو گرفتار کرلیا

15 نومبر 2021
پولیس نے کہا کہ خطے میں انسداد دہشت گردی پولیس، لیورپول فورس کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے — فوٹو: اے پی
پولیس نے کہا کہ خطے میں انسداد دہشت گردی پولیس، لیورپول فورس کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے — فوٹو: اے پی

برطانوی پولیس نے اتوار کی صبح لیورپول کے خواتین ہسپتال کے سامنے دھماکے کے بعد 3 افراد کو گرفتار کرلیا۔

ہسپتال کے سامنے دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق گریٹر مانچسٹر پولیس نے ٹوئٹ میں کہا کہ افسران نے لیورپول کے کینسینگٹن ضلع میں انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت 21، 26 اور 29 سال کے تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ دھماکے میں ہلاک شخص کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی ہے جبکہ ڈرائیونگ کرنے والے شخص کی ہسپتال میں حالت مستحکم ہے۔

پولیس نے کہا کہ خطے میں انسداد دہشت گردی پولیس، لیورپول فورس کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی شہر لیسٹر میں پراسرار دھماکا، 4 افراد ہلاک

مرسی سائیڈ پولیس نے اپنے الگ بیان یں کہا کہ اگرچہ انسداد دہشت گردی پولیس تحقیقات کی قیادت کر رہی ہے لیکن دھماکے کو تاحال دہشت گردی کا واقعہ قرار نہیں دیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ وہ دھماکے کی وجہ جاننے کے لیے کھلے ذہن سے کام کر رہے ہیں۔

مرسی سائیڈ پولیس کا کہنا تھا کہ ’اب تک ہم یہ سمجھ پائے ہیں واقعے میں ملوث کار ٹیکسی تھی جو دھماکے سے کچھ دیر قبل ہی ہسپتال پہنچی تھی‘۔

’عوام پرسکون، لیکن چوکنا رہیں‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم عوام پر زور دیں گے کہ وہ پرسکون لیکن چوکنا رہیں‘۔

ٹوئٹر پر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے واقعے پر اب تک کام کے حوالے سے ایمرجنسی سروسز کی کارکردگی کو سراہا۔

مزید پڑھیں: مانچسٹر دھماکا: برطانوی میڈیا کے حملہ آور سے متعلق انکشافات

قبل ازیں وزیر داخلہ پریتی پٹیل نے ٹوئٹ کیا کہ پولیس انہیں وقتاً فوقتاً پیشرفت سے آگاہ کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہماری پولیس اور ایمرجنسی سروسز یہ جاننے کی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ آخر ہوا کیا تھا اور یہ ٹھیک ہے کہ ہے ایسا کرنے کے لیے وقت دیا گیا ہے‘۔

پولیس کے مطابق دھماکا مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے ہوا تھا۔

خبروں اور سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں تصاویر میں دھماکے کی جگہ سے گہرا دھواں اٹھتا دکھائی دیا، جبکہ پولیس نے جائے وقوع کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔

مرسی سائیڈ فائر سروس کے سربراہ فِل گیریگن نے کہا کہ جائے وقوع پر گاڑیاں پہنچنے تک آگ نے گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آگ کے شدید ہونے تک ایک شخص گاڑی سے باہر آنے میں کامیاب رہا جبکہ دوسرا ہلاک ہوگیا۔

لیورپول خواتین ہسپتال نے بیان میں کہا کہ جہاں ممکن ہوا مریضوں کو دوسرے مقامات پر منتقل کردیا گیا۔

ضرور پڑھیں

’اللہ ہمارے ساتھ تھا‘

’اللہ ہمارے ساتھ تھا‘

ورلڈ کپ 1992ء کے فائنل میں پاکستان کے ہاتھوں ہار سہنے کے بعد تو حوصلے ایسے ٹوٹے کہ دوبارہ فائنل تک پہنچنے میں 27 سال لگ گئے۔

تبصرے (0) بند ہیں