پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پیکج کی بحالی کیلئے معاہدہ

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2021
معاہدے کی منظوری آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ دے گا— فائل فوٹو: رائٹرز
معاہدے کی منظوری آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ دے گا— فائل فوٹو: رائٹرز

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے چھٹے جائزے کے لیے درکار پالیسیوں اور اصلاحات پر عملے کی سطح کا معاہدہ ہوگیا، جس کے بعد پاکستان کو ایک ارب 5 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ملنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

اس پیش رفت کا اعلان پیر کے روز آئی ایم ایف کی جانب سے ایک بیان میں کیا گیا، آئی ایم ایف پروگرام اپریل سے ’موقوف‘ تھا۔

آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ پیشگی اقدامات کی تکمیل بالخصوص مالی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے بعد مذکورہ معاہدے کی منظوری آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ دے گا۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف پیکج کی بحالی کیلئے اقدامات کا اعلان آج متوقع

معاہدے کی منظوری سے اسپیشل ڈرائنگ رائٹس (ایس ڈی آر) کی مد میں 75 کروڑ دستیاب ہوں گے، جو ایک ارب 5 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے مساوی ہیں۔

آئی ایم ایف کے بیان کے مطابق اس سے پروگرام کی اب تک دی گئی رقم 3 ارب 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ جائے گی اور باہمی اور کثیرالجہتی شراکت داروں سے فنڈنگ کھلنے میں مدد ملے گی۔

ایس ڈی آر مخلوط کرنسیوں کا ایک مجموعہ ہے جو آئی ایم ایف کے رکن ممالک کے لیے دستیاب ہے۔

پاکستانی عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ آئی ایم ایف نے ’مشکل ماحول کے باوجود‘ پروگرام پر عملدرآمد کے سلسلے میں ملک کی پیش رفت کو تسلیم کیا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات اب تک بے نتیجہ ثابت

آئی ایم ایف نے کہا کہ بجٹ کے بنیادی خسارے کے سوا جون کے آخر تک کے لیے تمام مقداری کارکردگی کے معیارات کو بڑے مارجن کے ساتھ پورا کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ فنڈ نے انسداد منی لانڈرنگ کو بہتر بنانے اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے نظام سے نمٹنے میں پاکستان کی پیش رفت کا بھی اعتراف کیا، تاہم اس کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اضافی وقت درکار ہے۔

مضبوط معاشی بحالی کی گرفت ہوئی ہے، آئی ایم ایف

آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ دستیاب اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کووڈ 19 عالمی وبائی مرض کے سلسلے میں حکام کے کثیر الجہتی پالیسی ردعمل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مضبوط معاشی بحالی نے زور پکڑا جس نے اس کے انسانی اور میکرو اکنامک اثرات پر قابو پانے میں مدد ملی۔

آئی ایم ایف نے ذکر کیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹیکس ریونیو کی وصولی بھی خاصی مضبوط رہی۔

بیان میں کہا گیا کہ ’اسی وقت بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور زرمبادلہ کی شرح پر گراوٹ کے دباؤ کی صورت میں بیرونی دباؤ پڑنا شروع ہوگیا تھا جو بنیادی طور پر مضبوط اقتصادی سرگرمی، ایک توسیعی میکرو اکنامک پالیسی مکس اور اعلی بین الاقوامی اجناس کی قیمتوں کے اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات کا انعقاد

آئی ایم ایف نے کہا کہ حکومت نے ردعمل میں کورونا وائرس سے متعلق محرک اقدامات کو بتدریج ختم کرنا شروع کر دیا ہے۔

فنڈ کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے موافق مانیٹری پالیسی کے مؤقف میں تبدیلی کا آغاز کر کے، صارفین کے قرضوں کی نمو پر قابو پانے کے لیے کچھ میکرو پرڈینشل اقدامات کو مضبوط بنا کر اور آگے کی رہنمائی فراہم کر کے ’درست اقدامات اٹھائے‘۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں سے قریبی مدت کے مثبت نقطہ نظر کو محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی، ساتھ ہی فنڈ نے پیش گوئی کی کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح رواں مالی سال میں 4 فیصد اور مالی سال 2023 میں 4.5 فیصد تک یا اس سے آگے جائے گی۔

بیان میں کہا گیا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح بلند رہے گی البتہ روپے کی قدر میں کمی ختم ہونے کے بعد اس میں کمی کا رجحان نظر آنا شروع ہو جائے گا اور سپلائی میں عارضی رکاوٹیں اور طلب کے دباؤ ختم ہو جائیں گے۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے بارے میں آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے دوران اس کے مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

مانیٹری پالیسی

آئی ایم ایف نے اس بات پر زور دیا کہ مانیٹری پالیسی کو افراط زر کو روکنے، شرح مبادلہ میں لچک کو برقرار رکھنے اور بین الاقوامی ذخائر کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کے آئی ایم ایف سے مذاکرات ناکام ہونے کی بات ’بالکل غلط‘ ہے، شوکت ترین

فنڈ کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے معاشی استحکام مضبوط ہورہا ہے اور ایس بی پی ترمیمی ایکٹ پارلیمنٹ سے منظور ہوا مرکزی بینک کو درمیانی مدت میں مہنگائی کو ہدف بنانے والے نظام کو باضابطہ طور پر اپنانے کے لیے تیاری کے کام کو ایک مستقبل کی تلاش اور شرح سود پر مرکوز آپریشنل فریم ورک کے ذریعے زیرِ اثر آہستہ آہستہ تیز کرنا چاہیے۔

فنڈ نے بجلی کے شعبے کو مالی طور پر قابل عمل بنانے اور بجٹ، مالیاتی شعبے اور حقیقی معیشت پر اس کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے اصلاحات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے مشیر خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم نے کہا کہ معاہدہ، جو آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان 45 دن کے مذاکرات کے بعد کیا گیا، بہت سی غیر یقینی صورتحال کو دور کرے گا۔

تبصرے (0) بند ہیں