وہ غذائیں جو عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کو صحت مند رکھنے میں مددگار

28 نومبر 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

عمر میں اضافہ زندگی کا ایک قدرتی حصہ ہے جس سے بچنا ممکن نہیں۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ جو غذا آپ کھاتے ہیں وہ عمر میں اضافے کے اثرات کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتی ہے؟

جی ہاں واقعی ہماری غذائی عادات عمر بڑھنے سے جسم پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

بدقسمتی سے ہر لمحہ بڑھتے وقت کو واپس کرنا تو ممکن نہیں مگر غذا کے ذریعے جسمانی افعال میں بہتری لاکر مختلف امراض سے بچنا ممکن ہوسکتا ہے۔

فائبر

فائبر سے بھرپور غذائیں جیسے پھل، سبزیاں، دلیہ، گریاں اور دالیں قبض کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

قبض وہ عارضہ ہے جس کا سامنا عمر بڑھنے کے ساتھ زیادہ ہونے لگتا ہے، جبکہ فائبر کولیسٹرول لیول کو کم کرنے، بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے اور صحت مند وزن برقرار رکھنے کے لیے بھی اہم ہے۔

مردوں کے لیے روزانہ 30 گرام جبکہ خواتین کے لیے 21 گرام فائبر روزانہ جزوبدن بنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

گریاں

بادام، اخروٹ، پستے، کاجو اور دیگر جسم کے لیے بہت مفید گریاں ہیں۔

ان میں ایسے خصوصی غذائی اجزا ہوتے ہیں جو عمر بڑھنے کے ساتھ امراض قلب، فالج، ذیابیطس ٹائپ ٹو، اعصابی مریض اور چند اقسام کے کینسر کی روک تھام میں بھی مدد فراہم کرسکتے ہیں۔

گریاں دماغ کو عمر بڑھنے سے مرتب ہونے والے منفی اثرات کی روک تھام بھی کرتی ہیں۔

پانی

عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں نہ صرف پانی کی کمی ہوتی ہے بلکہ پیاس کا احساس بھی ماند پڑنے لگتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جسم کو پانی کی کمی کا احساس تاخیر سے ہوتا ہے۔

پانی متعدد ذرائع سے صحت کے لیے اہم غذا کی حیثیت رکھتا ہے، یہ جوڑوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے، جسمانی درجہ حرارت کنٹرول کرتا ہے، مزاج خوشگوار بناتا ہے اور توجہ مرکوز رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

مچھلی

چربی والی مچھلی کو ہفتے میں 2 بار کھانا عادت بنانا چاہیے کیونکہ ان میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو عمر بڑھنے سے الزائمر امراض کا خطرہ کم کرتا ہے۔

یہ فیٹی ایسڈ یادداشت اور کچھ نیا سیکھنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے بھی اہم ہے۔ اگر مچھلی کھانا ممکن نہیں تو اخروٹ اور آلسی کے بیج بھی اس کے حصول کا اچھا ذریعہ ہیں۔

پروٹین

ہروٹین سے بھرپور غذائیں عمر بڑھنے سے مسلز کے حجم میں آنے والی کمی کی روک تھام کرتی ہیں۔

انڈے، چربی سے پاک گوشت، چکن اور دودھ یا اس سے بنی مصنوعات پروٹین کے حصول کا اچھا ذریعہ ہیں۔

دودھ کی مصنوعات

دودھ یا اس سے بنی مصنوعات میں موجود کیلشیئم ہدیوں کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہے، عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیوں کے بھربھرے پن اور ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھتا ہے۔

50 سال کی عمر کے بعد روزانہ 1200 ملی گرام کیلشیئم کو جزوبدن بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دودھ، دہی اور پنیر وغیرہ سے ایسا ممکن ہے۔

بلیو بیریز

یہ مزیدار پھل عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کو تحفظ فراہم کرتا ہے، بلیو بیریز میں پولی فینولز مرکبات ہوتے ہیں جو جسم میں ورم کو کم کرتے ہیں۔

اسی طرح ڈی این اے کو ہونے والے نقصان کو کم کرتے ہیں۔

سرخ اور نارنجی رنگ کی غذائیں

تربوز، ٹماٹر، سرخ شملہ مرچ، اسٹرابیری اور دیگر متعدد پھلوں اور سبزیوں میں ایک قدرتی مرکب لائیکو پین ہوتا ہے۔

تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ اس مرکب سے بھرپور غذائیں کینسر کی مخصوص اقسام کا خطرہ کم کرسکتی ہیں اور فالج سے بھی ممکنہ تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

گوبھی

عمر بڑھنے کے ساتھ مدافعتی نظام بھی کمزور ہونے لگتا ہے جو بیماریوں سے لڑنے والا اہم ترین نظام ہے۔

گوبھی، بروکولی یا اسی نسل کی دیگر سبزیاں مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں، اس کی وجہ ان میں ایک کیمیکل sulforaphane کی موجودگی ہے۔

یہ کیمیکل مدافعتی خلیات کو زیادہ بہتر طریقے سے امراض سے لڑنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

سبز پتوں والی سبزیاں

عمر بڑھنے کے ساتھ بینائی کو صحت مند رکھنے کے لیے پالک، ساگ یا سبز پتوں والی سبزیوں کا استعمال زیادہ کرنا مفید ہوتا ہے۔

ان سبزیوں میں ایسے اینٹی آکسائیڈنٹس ہوتے ہیں جو موتیے اور عمر کے ساتھ پٹھوں میں آنے والی کمزوری کا خطرہ کم کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ سبزیاں یادداشت، سوچنے اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں میں تنزلی کا خطرہ بھی کم کرتی ہیں۔

شکرقندی

شکرقندی میں بیٹا کیروٹین کی مقدار کافی زیادہ وہتی ہے جو جسم میں جاکر وٹامن اے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

یہ وٹامن صحت مند بینائی اور جلد کے لیے کنجی کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ مدافعتی نظام کو بھی مضبوط بناتا ہے۔

مسالے

غذا کو لذیذ بنانے کے ساتھ ساتھ مسالے اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں جو عمر بڑھنے کے ساتھ صحت مند رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر لہسن خون کی شریانوں کو کشادہ رکھتا ہے، دارچینی کولیسٹرول اور خون مین چکنائی کی سطح کم رکھنے، ہلدی سے ڈپریشن اور الزائمر امراض کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں