بُک ریویو: ونس اپون اے ٹائم ان مری

اپ ڈیٹ 03 دسمبر 2021
سیسل ہوٹل جسے 1916ء میں اٹلی کے جان فلیٹی نے خریدا۔ یہ ہوٹل 1940ء کی دہائی میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی سرکاری رہائش گاہ بھی رہا— تصویر: زیر تبصرہ کتاب
سیسل ہوٹل جسے 1916ء میں اٹلی کے جان فلیٹی نے خریدا۔ یہ ہوٹل 1940ء کی دہائی میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی سرکاری رہائش گاہ بھی رہا— تصویر: زیر تبصرہ کتاب

’دی پرنسپل ارآئیوز بائے بوٹ‘ (The Principal Arrives by Boat)، ’الکوہل ان دی ٹی پاٹس‘ (Alcohol in the Teapots)، ’ڈانسنگ اسٹوریا‘ (Dancing at Astoria)، ’دی بُچر آف دہلی ایٹ رچبیل روڈ‘ (The Butcher of Delhi at Richbell Road) اور ’پلینگ ان دی چیپل‘ (Playing in the Chapel)، یہ دراصل ڈاکٹر عمر مختار خان کی کتاب ’ونس اپان اے ٹائم ان مری‘ (Once Upon a Time in Murree) کے دلچسپ ابواب کا نام ہیں۔ ہمیں ان ابواب میں گزشتہ صدی کے مری کی جھلک نظر آتی ہے۔

کچھ ابواب تو ماضی میں مزید دُور تک جاتے ہیں۔ کتاب کے صفحات پر موجود تاریخی کہانیوں اور یادداشتوں کے علاوہ یہ مصنف کی جانب سے اس موضوع پر غیر رسمی لیکن حقائق کی جانچ پرکھ کے ساتھ کیا جانے والا کام ہی ہے جس نے اسے ایک بہترین کتاب بنایا ہے۔

خوبصورتی کے ساتھ اس کتاب میں اصل ہل اسٹیشن کی تصاویر اور کہانیاں شامل ہیں۔ تاہم بعض جگہ مصنف کو صیغے کی غلطی کرتے پایا گیا لیکن یہ قابلِ معافی ہے کیونکہ یادداشتوں کو مرتب کرتے ہوئے زبان کے اعتبار سے شک کا فائدہ دیا جانا چاہیے۔

ماؤنٹین ویو روڈ پر واقع لاک وڈ ہوٹل
ماؤنٹین ویو روڈ پر واقع لاک وڈ ہوٹل

مصنف اس کتاب میں ذاتی اور سیاسی یادداشتوں کو منظرِ عام پر لے کر آئے ہیں۔ انہوں نے چرچ کے مینار اور کھڑکیوں کا ذکر چھیڑا ہے اور سینٹ ڈینیل اور کونوینٹ آف جیزس اینڈ میری جیسے اشرافیہ کے تعلیمی اداروں کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو دوسرا جنم عطا کردیا ہے۔

انہوں نے مال پر چہل قدمی کرتی انگریز اشرافیہ اور پنج ستارہ ہوٹلوں میں منعقد کی جانے والی کاکٹیل پارٹیوں کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے بہت حساسیت کے ساتھ آقا اور رعایا کے درمیان موجود سماجی تقسیم اور انگریز افسران کے اپنے سے نچلے درجے کے اہلکاروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک کو بیان کیا ہے۔ ونس اپان اے ٹائم ان مری دراصل مری کی ایک ایسی تصویری اور تحریری تاریخ پیش کرتی ہے جس کا ایک عرصے سے انتظار کیا جارہا تھا۔

مثال کے طور پر کسے معلوم ہوگا کہ ماضی میں ’مرہی‘ کہلانے والے اس علاقے کو 1850ء میں مقامی افراد سے بہت ہی ارزاں قیمت پر حاصل کیا گیا اور اس کے بعد ماہانہ 50 روپے ادا کیے گئے۔

مری بیوری کے کھنڈرات جسے 1948ء میں جلا دیا گیا تھا
مری بیوری کے کھنڈرات جسے 1948ء میں جلا دیا گیا تھا

کتاب کا ہر باب پڑھنے والے کو شہر کے ماضی میں مزید گہرائیوں تک لے جاتا ہے۔ اس کتاب میں نوآبادیاتی دور اور اس کے بعد کے ان متنازعہ افراد کا ذکر ہے جنہوں نے اس مقام کو اپنا مسکن بنایا۔

اس کتاب میں انگریزوں کی بیویوں اور بچوں کا ذکر ہے جو اپنے گھروں سے دُور یہاں بے نام و نشان قبروں میں دفن ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو برِصغیر کی متعدد بیماریوں کا شکار ہوئے۔ اس کتاب میں اقلیتی شہریوں کے بڑھتے ہوئے کاروبار اور اس کے قابلِ رحم زوال کی بھی بات ہوئی۔ ساتھ ہی اس کتاب میں اس ورثے کا بھی ذکر ہوا جو ’غیرت مندوں‘ کے عتاب کا شکار ہوگیا۔ یہ کتاب صدیوں پر محیط تغیر اور ماضی میں گم ہوجانے والی سماجی اور جغرافیائی سیاسی زندگی کا مجموعہ ہے۔

مصنف نے اس کتاب میں بتایا کہ آخر کیوں گزشتہ صدی کے دوران راج ہل اسٹیشن مری سے شملہ منتقل ہوگیا۔ اس کتاب میں یہ احساس بھی موجود ہے کہ آج مری میں ہنی مون مناتے جوڑے، شام کی چائے کے دوران مال پر موجود ماضی کے مشہور لنٹٹ اینڈ سامز ریسٹورنٹ کے دور کے کزن چھوٹے چائے خانوں سے آتی برتنوں کی آوازیں اور ٹینس کے مقابلے دراصل ہمارے ماضی کا ورثہ ہیں جن سے نوجوان نسل بہت کچھ سیکھ سکتی ہے۔

مال پر واقع ہولی ٹرینٹی چرچ
مال پر واقع ہولی ٹرینٹی چرچ

یہ کتاب تاریخ کا ایک سبق بھی ہے اور یہ ہمیں ہماری غلطیوں کا احساس بھی کرواتی ہے کیونکہ یہ ایک ایسا منظرنامہ بیان کرتی ہے جس میں قوم پرستوں کو ماضی کی یادگاریں توڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

آپ اس کتاب کی یادداشتوں کو شاندار ماضی کہہ سکتے ہیں۔ جہاں مری میں برِصغیر کے بہترین بورڈنگ اسکول موجود ہیں اور جہاں اٹلی تک سے لوگ آکر سیسل جیسا ہوٹل قائم کرتے ہیں۔

یا پھر آپ انہیں شرمناک یادیں بھی کہہ سکتے ہیں، یعنی وہ مری جو جلیانوالہ باغ میں قتلِ عام کرنے والے جنرل ریجنالڈ ڈائیر کی جائے پیدائش ہے، یا اس مکان کا ذکر جس میں آخری مغل بادشاہ کو رنگون لے جانے والے سنگدل میجر ہڈسن پیدا ہوا، وہ مکان اب ٹوٹ چکا ہے۔

اس کتاب میں فرانسس ایڈورڈ ینگ ہسبینڈ کا بھی ذکر ہے جو رچبیل روڈ کے قریب ایک ولا کے گرد کھڑے دیودار اور صنوبر کے درختوں کے درمیان گھوما کرتا تھا۔ یہ وہ فرانسس ہے جس نے آگے چل کر ’گریٹ گیم‘ میں بہت اہم کردار ادا کیا۔

ہمیں ماضی کے اس مری کو محفوظ رکھنا ہوگا جو آج ریئل اسٹیٹ مافیا اور کچرا پھیلانے والے سیاحوں کے چنگل میں ہے۔ مصنف نے بالکل یہی کام کیا ہے اور ایسے انداز میں کیا ہے کہ جس سے پڑھنے والے کو لگے کہ وہ واقعی مری میں ہے۔ جیسے جیسے قاری کتاب کی ورق گردانی کرتا ہے ویسے ویسے ان صفحات پر لکھی تحریر مٹتی جاتی ہے اور ماضی کی ایسی تصاویر نکل کر سامنے آتی ہیں جن میں بچوں اور بوڑھوں سب کی ہی دلچسپی کا سامان موجود ہے۔ مصنف کے مطابق اسی وجہ سے انہوں نے ’مری کے پہاڑوں میں 5 سال گزارے اور بھاگ دوڑ کی تاکہ ہر قاری اس کتاب میں خود کو پاسکے‘۔


نام کتاب: Once upon a time in Murree

مصنف: ڈاکٹر عمر مختار خان

ناشر: سنگِ میل، لاہور

آئی ایس بی این: 9697120350-978

تعداد صفحات: 224


یہ تبصرہ 21 نومبر 2021ء کو ڈان بکس اینڈ آتھرز میں شائع ہوا۔

اپنی رائے دیجئے

0
تبصرے
1000 حروف