سرکاری افسران کو ذاتی معلومات ظاہر کرنے سے متعلق عدالتی حکم سے استثنیٰ مل گیا

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2022
مالیاتی ضمنی بل 2021 کے ذریعے انکم ٹیکس قانون میں ایک نیا سیکشن (ٹی) متعارف کرایا گیا ہے — فائل فوٹو: اے پی پی
مالیاتی ضمنی بل 2021 کے ذریعے انکم ٹیکس قانون میں ایک نیا سیکشن (ٹی) متعارف کرایا گیا ہے — فائل فوٹو: اے پی پی

حکومت نے اپنے اعلیٰ عہدیداروں کے لیے عدالت کی جانب سے اعلیٰ سطح کے سرکاری اہلکاروں، سرکاری ملازمین، ان کی شریک حیات، بچوں یا بے نامی داروں کی ذاتی معلومات ظاہر کیے جانے کے احکامات کے خلاف استثنیٰ بحال کروا لیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 216 میں نیا اضافہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اعلیٰ منتخب ذمہ داران اور عہدیداروں کو سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے فیصلے کے تحت ممکنہ حکم سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔

نئی شق حکومتی عہدیداروں اور اہلکاروں کو یہ اختیار بھی دیتی ہے کہ وہ مستقبل میں کسی بھی ’اعلیٰ سطح کے سرکاری عہدیداروں‘ کے خلاف ایسے فیصلے کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی تفصیلات عام کرنے کی ہدایت

جمعرات کو قومی اسمبلی سے منظور کیے گئے مالیاتی ضمنی بل 2021 کے ذریعے انکم ٹیکس قانون میں ایک نیا سیکشن (ٹی) متعارف کرایا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ’شق (ایس) میں مجوزہ ترمیم کے بعد درج ذیل نئی شق کو شامل کیا جائے گا اور ہمیشہ اس طرح شامل سمجھا جائے گا‘۔

نئی شق (ٹی) کے مطابق ’گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے کسی بھی اعلیٰ سطح کے سرکاری عہدیداروں اور سرکاری ملازمین، ان کی شریک حیات، بچے یا بے نامی دار، یا کوئی بھی شخص جس کے تعلق سے مذکورہ افراد بینیفشری ہوں انہیں استثنیٰ حاصل ہوگا، تاہم شق (ٹی) ان لوگوں پر لاگو نہیں ہوگی جو قومی احتساب بیورو آرڈیننس 1999 کی دفعہ 5 کی ذیلی دفعہ (ایم) کی شق (4) کے تحت واضح طور پر مستثنیٰ ہیں۔

نئی شق کی مزید وضاحت میں کہا گیا ہے ’اعلیٰ سطح کے سرکاری عہدیداروں سے مراد قاعدے، ضابطے، ایگزیکٹو آرڈر یا کسی بھی طے شدہ قانون کے مطابق سیاسی امور میں ملوث افراد شامل ہیں‘۔

عہدیدار کے مطابق حکومت کا خیال تھا کہ اعلیٰ عہدوں پر براجمان منتخب نمائندے، حکومت کے غیر منتخب ارکان اور ایف بی آر کے اعلیٰ حکام پر سپریم کورٹ کا حکم نامہ اثرا نداز ہو سکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ سال اپریل میں ایک مختصر حکم کے ذریعے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس سمیت درخواستوں کو خارج کر دیا تھا، اس حوالے سے کسی بھی وقت جلد ہی تفصیلی فیصلہ متوقع ہے۔

مزید پڑھیں: اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا سرکاری ملازمین کے اثاثے ظاہر کرنے سے انکار

عدالت عظمیٰ نے 19 جون 2020 سے پہلے جاری کیے گئے حکم نامے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واپس لے لیا تھا اور ساتھ ہی ایف بی آر کی رپورٹس، احکامات اور معلومات کو بھی غیر قانونی قرار دیا جس کی بنیاد پر سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔

حکام کا کہنا تھا کہ موجودہ انکم ٹیکس قانون کے تحت ایف بی آر کے پاس ٹیکس دہندگان کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کو سوائے مجوزہ فورمز کے، ان کے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کرنے کا اختیار نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اس وقت یہ مخصوص معلومات، رپورٹس اور ڈیٹا وزیراعظم آفس کے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو فراہم کیا تھا جس کی بنیاد پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر یہ معلومات لیک ہونے سے اعلیٰ سطح پر بیٹھے منتخب اور غیر منتخب عہدیداروں اور سرکاری ملازمین کے لیے سنگین نتائج پیدا ہو سکتے تھے، اس لیے منی بل کے ذریعے این آر او (ڈیل) حاصل کیا گیا ہے‘۔

یہ قانون مستقبل میں اسی طرح کی معلومات ظاہر کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے۔

اس پر تبصرے کے لیے ایف بی آر کے چیئرمین ڈاکٹر اشفاق احمد اور ترجمان اسد طاہر جپہ نے کالز اور ٹیکسٹ میسجز کا جواب نہیں دیا۔

مزید پڑھیں: حکومت کا سرکاری ملازمین کو یکم ستمبر تک اثاثے ظاہر کرنے کا حکم

جسٹس فائز عیسیٰ نے گزشتہ سال کے اوائل میں ایک کیس جیت لیا تھا جس کے فیصلے میں ایف بی آر کو ان کی برطانیہ میں موجود تین جائیدادوں کی انکوائری کرنے کے سابقہ عدالتی حکم کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

چھ چار کی اکثریت سے سپریم کورٹ نے اپنے 19 جون 2020 کے اکثریتی حکم کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس میں جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کے نام پر تین غیر ملکی جائیدادوں پر ٹیکس حکام کے ذریعے تصدیق اور تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا جو کہ منسوخ شدہ ریفرنس کے مطابق ظاہر نہیں کی گئی تھیں۔

اس کے بعد ایف بی آر کی طرف سے کی جانے والی تمام کارروائی کو کالعدم قرار دے دیا گیا کیونکہ فیصلے پر نظرثانی کی درخواستوں کے تحت تازہ حکم نامے میں 19 جون کے فیصلے کو معطل کردیا گیا تھا، جس میں ایف بی آر کو جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی برطانیہ میں تین جائیدادوں کی جانچ کرنے اور ٹیکس عائد کرنے کا اختیار دیاگیا تھا۔

مختصر حکم نامے میں 19 جون 2020 کے حکم نامے میں درج ہدایات اور تفصیلی دلائل کے تحت ہونے والی تمام پیش رفت، کارروائیاں، احکامات، معلومات اور رپورٹس کو غیر قانونی اور غیر مؤثر قرار دے دیا گیا تھا۔

اس کے نتیجے میں سپریم جوڈیشل فورم سمیت کسی بھی فورم یا اتھارٹی کی طرف سے ایسی کسی بھی کارروائی، پیش رفت، احکامات یا رپورٹس پر غور یا عملدرآمد نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے مزید آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں