نسلہ ٹاور کیس: عدالت نے ملزم کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا

اپ ڈیٹ 19 جنوری 2022
سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور گرانے کا حکم دیا تھا--فائل/فوٹو: آن لائن
سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور گرانے کا حکم دیا تھا--فائل/فوٹو: آن لائن

کراچی کی مقامی عدالت نے شاہراہ فیصل اور شارع قائدین کے سنگم میں نسلہ ٹاور کی سروس روڈ پر تجاوزات کیس میں سندھی مسلم کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی (ایس ایم سی ایچ ایس) کے سابق اعزازی سیکریٹری نوید بشیر کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

سپریم کورٹ نے 27 دسمبر کو سماعت میں پولیس اور اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ کو نسلہ ٹاور کے بلڈر اور مختلف اداروں کے عہدیداروں کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کرنے کی ہدایت کی تھی۔

مزید پڑھیں: عدالتی حکم پر نسلہ ٹاور کی تعمیر کے ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج

عدالتی احکامات کی روشنی میں فیروز آباد پولیس اسٹیشن میں اگلے روز عمارت کی زمین کے مالک عبدالقادت، منصوبے کا بلڈر، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے چیئرپرسن اور سیکریٹری، ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ کے ڈئرایکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر نوید بشیر سمیت ایس ایم سی ایچ ایس کے عہدیداروں، ان کے ماتحتوں اور دیگر کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی گئی تھی۔

انوسٹی گیشن افسر (آئی او) نے بشیر کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا اور تحقیقات کے لیے ان کا جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران تسلیم کیا ہے کہ وہ اس وقت ایس ایم سی ایچ ایس کی کابینہ کے اعزازی سیکریٹری تھے، جب کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی نے سروس روڈ کی غیرقانونی طور پر قبضے کی اجازت دی تھی جہاں بعد میں نسلہ ٹاور تعمیر کیا گیا۔

تفتیشی افسر نے کہا کہ 'کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی کے عملے نے متعلہ صوبائی اور شہری اداروں کے عہدیداروں کی ملی بھگت سے روڈ کے ایک حصے پر غیرقانونی قبضہ کیا'۔

انہوں نے کہا کہ زیرحراست ملزم سے مزید انکشافات متوقع ہیں اور ان انکشافات کی روشنی میں کیس کے حوالے سے اہم دستاویزات برآمد ہوسکتے ہیں۔

تفتیشی افسر نے انہی دلائل کی روشنی میں زیر حراست ملزم کی تفتیش کے لیے 14 روزہ ریمانڈ کی درخواست کی تاکہ تحقیقات اور دیگر قانونی معاملات مکمل کیے جاسکیں۔

جج نے اس کے برعکس 21 جنوری تک ریمانڈ کی اجازت دی اور تفتیشی افسر کو اگلی سماعت میں ملزم کو پیش کرنے کی ہدایت کی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی کی ساری مشینری لے کر ابھی جائیں اور نسلہ ٹاور گرائیں، چیف جسٹس کا حکم

جوڈیشل مجسٹریٹ نے تفتیشی افسر کو اگلی سماعت میں تفتیشی رپورٹ بھی پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

نسلہ ٹاور مسمار کرنے کا حکم

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 16 جون 2021 کو کراچی کے اہم ترین مقام شاہراہ فیصل پر قائم نسلہ ٹاور گرانے کا حکم دیا تھا۔

20 جون کو ہونے والی سماعت کے حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ ٹاور کے مالکان نے دعویٰ کیا ہے کہ اضافی رقبہ ایس ایم سی ایچ ایس نے 2010 میں ایک قرارداد کے ذریعے الاٹ کیا تھا اور اسی کو پلاٹ کے مجموعی رقبے میں شامل کیا گیا جبکہ مختارکار نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ایس ایم سی ایچ ایس نے پلاٹ کے سائز میں غیر قانونی طور پر اضافہ کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے 15 منزلہ نسلہ ٹاور کے بلڈرز کو رہائشی اور تجارتی یونٹس کے رجسٹرڈ خریداروں کو 3 ماہ کے اندر رقم واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔

25 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ نے کراچی کی شاہراہِ فیصل پر قائم رہائشی عمارت نسلہ ٹاور کو ایک ہفتے میں 'کنٹرولڈ دھماکا خیز مواد' سے منہدم کرنے کا حکم دیا۔

مزید پڑھیں: کراچی: نسلہ ٹاور کے باہر متاثرین، بلڈرز کا احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج

عدالت نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی تھی کہ دھماکے سے قریبی عمارتوں یا کسی انسان کو کوئی نقصان نہیں ہونا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ نسلہ ٹاور کا مالک متاثرین کو رقم واپس کرے اور کمشنر کراچی کو ہدایت کی کہ کمشنر کراچی متاثرین کو رقوم کی واپسی یقینی بنائیں۔

24 نومبر کو سپریم کورٹ نے کمشنر کراچی کو شاہراہِ فیصل پر قائم رہائشی عمارت نسلہ ٹاور گرانے کے لیے شہر بھر کی مشینری استعمال کرنے کا حکم دیا تھا۔

بعد ازاں گزشتہ برس دسمبر میں سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمارت کے مالک اور دیگر عہدیداروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

ایف آئی آر درج

نسلہ ٹاور کی تعمیر کے خلاف فیروز آباد تھانے کے ایس ایچ او کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمے میں ٹاور کی اجازت دینے والے افسران، سندھ مسلم کو آپریٹو سوسائٹی اور دیگر متعلقہ اداروں سمیت سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے افسران کو نامزد کیا گیا تھا۔

مقدمے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور سندھی مسلم کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی (ایس ایم سی ایچ ایس) سے نسلہ ٹاور کی تعمیرات میں ملوث تمام تر ذمہ داران کے نام طلب کیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا نسلہ ٹاور ایک ہفتے میں 'دھماکا خیز مواد' سے منہدم کرنے کا حکم

مقدمے کے متن میں کہا گیا تھا کہ نسلہ ٹاور تعمیر کرنے والے بلڈر عبدالقادر نے سندھی مسلم کو آپریٹو سوسائٹی، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور ایم پی ڈی کی ملی بھگت سے سروس روڈ کے لیے مختص اراضی پر غیر قانونی فلیٹس اور دکانوں کی تعمیر کی جس پر عدالت نے فوجداری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے افسران کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا۔

مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 161، 167، 218، 408، 409، 420، 447 شامل کی گئی تھیں۔

مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس کی تفتیشی ٹیم سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی پہنچ گئی تھیں۔

تبصرے (0) بند ہیں