انسان کب تک مریخ پر پہلا قدم رکھ سکیں گے؟

18 مارچ 2022
— فوٹو بشکریہ ناسا
— فوٹو بشکریہ ناسا

یسلا اوراسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک طویل عرصے سے انسانوں کو مریخ پر پہنچانے کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔

اب انہوں نے بتایا کہ انسان کب تک زمین کے پڑوسی سرخ سیارے پر قدم رکھ سکتے ہیں۔

ویسے تو وہ پہلے 2024 تک انسانوں کو مریخ تک پہنچانا چاہتے تھے مگر اب انہوں نے اس کو مزید بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا اس دہائی کے آخر تک ہوسکے گا۔

2016 میں اسپیس ایکس کے بانی نے مریخ میں ایک شہر بسانے کے منصوبے کے بارے میں بتایا تھا اور اس توقع ظاہر کی تھی کہ انسان بردار مشن 2024 تک سرخ سیارے پر پہنچ جائے گا۔

اس کے بعد سے کمپنی نے مریخ راکٹ کی تیاری میں کافی پیشرفت کی ہے مگر وہ اتنی نہیں جو 2024 کے ہدف کو حاصل کرسکے۔

ایک ٹوئٹ میں ایلون مسک نے بتایا کہ ان کے خیال میں 2029 وہ قریب ترین سال ہے جب ممکنہ طور پر انسان مریخ پر پہلا قدم رکھ سکیں گے۔

یعنی اس سال جب انسانوں کو چاند پر پہلی بار قدم رکھے 60 برس مکمل ہوجائیں گے۔

اس سے قبل دسمبر 2020 میں ایلون مسک نے 2026 تک مریخ میں انسانوں کو بھیجنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

اسپیس ایکس کی جانب سے ناسا کے خلابازوں کو چاند اور پھر مریخ پر لے جانے کے لیے اسٹار شپ کو ڈیزائن کیا گیا ہے جس نے ابھی کچھ آزمائشی پروازیں مکمل کی ہیں مگر ابھی تک خلا میں نہیں بھیجا گیا۔

ایلون مسک کی جانب سے یہ بھی شکایت کی جاتی رہی ہے کہ فیڈرل لانچ ریگولیشنز نے مرٰک تک پہنچنے کے عمل کو سست رفتار کردیا ہے۔

ویسے یہ جان لیں کہ مریخ پر جانے کے لیے کافی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ زمین کے ساتھ ساتھ ہمارا پڑوسی سیارہ سورج کے گرد چکر لگاتا ہے، جس کے دوران وہ کبھی ایک دوسرے کے قریب ترین آجاتے ہیں تو کبھی دور۔

اسی کو مدنظر رکھ کر مخصوص ایام میں مشن بھیجنے کی منسوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسی لیے پہلے ایلون مسک نے 2024، ہھر 2026 اور اس کے بعد اب 2029 کی تاریخ دی ہے۔

2018 میں ایلون مسک نے کہا تھا کہ اگر آپ مریخ پر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ سوچ کر جائیں کہ وہاں مرنے کا امکان زمین کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ 'مریخ پر موت کا امکان زمین کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے'۔

ایلون مسک نے کہا کہ جب آپ خلا میں سفر کریں گے تو موت کا امکان بھی بڑھتا چلا جائے گا، یہاں تک کہ اگر مریخ تک محفوظ سفر کرکے پہنچنے پر بھی وہاں لوگوں کو رہائشی بیس کی تعمیر کے لیے نان اسٹاپ کام کرنا ہوگا۔

اور مریخ کے سخت موسمی حالات بھی جلد موت کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

تاہم ایلون مسک کا کہنا تھا ' یہاں ایسے متعدد لوگ ہیں جو چوٹیاں سر کرتے ہیں، لوگ ہر وقت ماﺅنٹ ایورسٹ پر مرتے ہیں، مگر انہیں چیلنج پسند ہوتے ہیں'۔

اپنے بارے میں اسپیس ایکس کے بانی کا ماننا تھا کہ ایسے 70 فیصد امکانات ہیں کہ وہ خود بھی زمین چھوڑ کر مریخ منتقل ہوجائیں گے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں