پی ٹی آئی کا اپنے سوشل میڈیا کارکنوں کی مبینہ ہراسانی کے خلاف ہائی کورٹ جانے کا فیصلہ

12 اپريل 2022
پی ٹی آئی کے وکلا فورم کے اراکین نے عمران خان سے ملاقات کی—فوٹو: پی ٹی آئی ٹوئٹر
پی ٹی آئی کے وکلا فورم کے اراکین نے عمران خان سے ملاقات کی—فوٹو: پی ٹی آئی ٹوئٹر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل اسد عمر نے کہا ہے کہ پارٹی نے اپنے سوشل میڈیا کارکنوں کی مبینہ ہراسانی کے خلاف درخواست تیار کرلی ہے اور کل ہائی کورٹس میں دائر کردی جائیں گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں اسد عمر نے کہا کہ ‘پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کارکنوں کی ہرسانی چینلج کرنے کے لیے درخواست کو حتمی شکل دے دی گئی ہے’۔

مزیدپڑھیں: پاک فوج کا ‘ادارے اور سوسائٹی ’میں تقسیم سے متعلق پروپیگنڈا مہم پر نوٹس

ان کا کہنا تھا کہ ‘کل صبح ہائی کورٹس میں دائر کردی جائیں گی’۔

پی ٹی آئی کی جانب سے یہ فیصلہ اس رپورٹس کے بعد کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں وزارت عظمیٰ سے بے دخل کیے جانے کے بعد پارٹی کے سوشل میڈیا ونگ کے کارکنوں کو مبینہ طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔

حکومت پنجاب میں ڈیجیٹل میڈیا کے سابق فوکل پرسن اظہر مشوانی نے دعویٰ کیا تھا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کی جانب سے پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے رضاکاروں کو ملک بھر میں ہراساں کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے پارٹی قیادت سے معاملہ عدالتوں میں لے جانے کا مطالبہ کیا۔

پی ٹی آئی سے منسلک وکلا فورم نے بھی پارٹی کے چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اور اس دوران پی تی آئی کے کارکنوں خصوصاً سوشل میڈیا کارکنوں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیاہے۔

لاہور میں عمران خان کے ڈیجیٹل میڈیا کے فوکل پرسن ڈاکٹر ارسلان خان کے گھر میں مبینہ طور پر 11 نامعلوم افراد کی جانب سے چھاپہ مارا گیا۔

پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا کہ چھاپہ متوقع تھا، اسی لیے ڈاکٹر ارسلام کو کہیں اور منتقل کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ: شہباز گِل، شہزاد اکبر کا نام اسٹاپ لسٹ میں ڈالنے کا حکم معطل

پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے کارکنوں کے خلاف چھاپوں کے حوالے سے رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے چلنے والی سوشل میڈیا مہم میں پاک فوج کو نشانہ بنایا گیا تھا، ٹوئٹر میں مسلح افواج اور اس کی قیادت کے خلاف ٹرینڈز چلائے گئے تھے اور سرگرمیاں دیکھی گئی تھیں۔

عمران خان کی وزارت عظمیٰ سے بے دخلی کے بعد اتوار کو ہوئے ملک گیر احتجاج میں پاک فوج کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے تھے۔

دوسری جانب جنرل ہیڈکوارٹرز میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرصدارت 79 ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس پاک فوج نے ادارے کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی حالیہ پروپیگنڈا مہم پر نوٹس لیتے ہوئے اس کو ادارے اور سوسائٹی کے درمیان تقسیم قرار دیا اور قیادت کی جانب سے ‘آئین اور قانون کی بالادستی قائم رکھنے کے عزم’ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ ‘پاکستان کی قومی سلامتی مقدم ہے، پاک فوج ہمیشہ ریاستی اداروں کی حفاظت کے لیے ان کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور کسی شرط کے بغیر ہمیشہ ساتھ رہے گی’۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں