چین: قرنطینہ کے ایام میں کمی کی کوشش کے بعد 25 ہزار کورونا کیسز رپورٹ

اپ ڈیٹ 13 اپريل 2022
چینی میڈیا کے مطابق چین، غیر ملکیوں کے لیے قرنطینہ کا دورانیہ کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے — فوٹو: رائٹرز
چینی میڈیا کے مطابق چین، غیر ملکیوں کے لیے قرنطینہ کا دورانیہ کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے — فوٹو: رائٹرز
گزشتہ روز شہر کے ببیشتر علاقوں میں پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی — فوٹو: رائٹرز
گزشتہ روز شہر کے ببیشتر علاقوں میں پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی — فوٹو: رائٹرز

چین کی جانب سے قرنطینہ کے ایام میں کمی کی کوشش کے بعد کورونا وائرس کے کیسز میں مزید اضافہ ہوگیا، قرنطینہ کا دورانیہ 14 روز سے کم کرنے کے لیے ملک کے مختلف شہروں میں تجربہ کیا گیا تھا جس کے بعد شنگھائی میں ایک روز میں 25 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق 25 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد کورونا لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

چین کے معاشی حب شنگھائی میں سب کو خبردار کردیا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا، شہریوں کو اپنے شہر کی دفاع کے لیے گھر بھیجا جارہا ہے۔

شہر کے محکمہ پولیس نے ڈھائی کروڑ شہریوں کو درپیش پابندیوں کی وضاحت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ’یکجاں ہوکر وبا کا مقابلہ کریں اور جلد فتح کے لیے مل کر کام کریں‘۔

مزید پڑھیں: چین میں کورونا وائرس کو شکست کے بعد لوگوں کی 'انتقامی سیاحت'

محکمہ پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وہ افراد جو قواعد کی دفعات کی خلاف ورزی کریں گے ان سے قانون کے مطابق سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا، اگر انہوں نے یہ جرم کیا تو ان کے خلاف قانون کے مطابق تحقیقات کی جائیں گی‘۔

چینی میڈیا کے مطابق چین، غیر ملکیوں کے لیے قرنطینہ کا دورانیہ کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شنگھائی اور گوانگژو ان شہروں میں سے ہیں جنہیں کونسل نے قرنطینہ کا وقت کم کرکے 10 روز تک کرنے کے لیے چنا تھا، فی الحال شہروں میں 14 روز قرنطینہ اور پہلے کی طرح ہر 7 روز بعد طبی معائنہ کروانا لازمی ہے۔

’رائٹرز‘ کے مطابق کونسل کی جانب سے معاملے پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کیسز میں اضافے کے سبب چین کے شہر چینگ چُن میں لاک ڈاؤن

خیال رہے مضبوط معیشت رکھنے والے ممالک نے کورونا وائرس پر کنٹرول کرتے ہوئے اس سے متعلق قواعد میں نرمی شروع کردی ہے لیکن چین میں اب تک سخت اقدامات پر عمل درآمد کیا جارہا ہے، جہاں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دیگر ممالک سے ٹرانسپورٹ کے ذریعے روابط میں تیزی سے کمی کی جارہی ہے۔

شنگھائی چین کا وہ شہر ہے جہاں 2019 میں ووہان شہر میں کورونا وائرس کے ارتقا کے بعد تیزی سے کیسز رپورٹ ہوئے تھے، یہاں آج (بدھ) کو رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 25 ہزار ہے جبکہ ڈھائی کروڑ آبادی والے شہر میں لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا جارہا ہے۔

گزشتہ روز شہر کے بیشتر علاقوں میں پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی۔

رائٹرز کے مطابق کورونا وائرس کے کیسز کو روکنے کے لیے شنگھائی کی جانب سے بین الاقوامی پروازوں میں مسافروں کی تعداد کو 75 فیصد سے کم کر کے 40 فیصد کردیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: چین: ایک سال سے زائد عرصے بعد کورونا وائرس سے پہلی موت رپورٹ

قرنطینہ کے دورانیہ کم کرنے کے حوالے سے جن شہروں کو تجربے میں شامل کیا گیا ان میں چینگدو، ڈالیان، سوژوو، نِنگبو، شیامین اور چنگڈاؤ شامل ہے، تجربہ 11 اپریل کو شروع کیا گیا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اسے جلد ختم کردیا جائے گا۔

شیامین شہر کے جنوبی ساحل پر واقع قرنطینہ ہوٹل کے عملے کے ایک رکن نے بتایا کہ 10 روز قرنطینہ کے تجربے کے لیے ان کے ہوٹل کا انتخاب کیا گیا تھا، لیکن شہر کے متعدد ہوٹل اور شنگھائی کے ایک ہوٹل کے عملے کا کہنا ہے کہ انہیں کسی تبدیلی کے حوالے سے آگاہی نہیں دی گئی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں