پاکستان میں 15 ماہ بعد پولیو کا پہلا کیس رپورٹ

اپ ڈیٹ 23 اپريل 2022
پاکستان میں 15 ماہ بعد پولیو کیس سامنے آیا—فوٹو/اے ایف پی
پاکستان میں 15 ماہ بعد پولیو کیس سامنے آیا—فوٹو/اے ایف پی

پاکستان میں 15 ماہ بعد خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان سے وائلڈپولیووائرس کا پہلا کیس سامنے آگیا۔

نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) سے جاری بیان کے مطابق شمالی وزیرستان میں وائلڈ پولیو کیس رپورٹ ہوا جو رواں برس عالمی سطح پر رپورٹ ہونے والا تیسرا کیس ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں پہلی مرتبہ 12ماہ تک پولیو کیس رپورٹ نہ ہونے کا ریکارڈ

بیان میں کہا گیا کہ شمالی وزیرستان میں 22 اپریل کو وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ون (ڈبلیو پی وی ون) کیس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کی 9 اپریل کو معذوری کے ساتھ نیشنل انسٹی ٹیوٖٹ آف ہیلتھ اسلام آباد کی لیبارٹری میں تصدیق ہوئی۔

اس حوالے سے کہا گیا کہ ‘پولیو لیبارٹری نے خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں سے 15 اپریل کو ایک مثبت انوائرنمینٹل نمونہ حاصل ہونے کی تصدیق کی، دونوں وائرس ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں’۔

خیال رہے کہ رواں برس 27 جنوری کو ملک میں پولیو کیسز رپورٹ نہ ہونے کا ایک سال مکمل ہوا تھا، اس سے قبل 2021 میں واحد کیسز بلوچستان سے رپورٹ ہوا تھا تاہم دیگر صوبوں سے کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا۔

سیکریٹری نیشنل ہیلتھ سروسز عامر اشرف کا کہنا تھا کہ یہ بچوں اور خاندان کے لیے ایک سانحہ ہے اور یہ پاکستان اور دنیا بھر میں پولیو کے خاتمے کے لیے ہونے والی کوششوں کی بھی بڑی بدقسمتی کی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم افسردہ ہیں لیکن کوشش جاری رکھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیو کا کیسز خیبرپختونخوا کے جنوبی علاقے میں سامنے آیا ہے جہاں پولیو وائرس گزشتہ برس انوائرنمنٹ میں پایا گیا تھا اور وہاں پر ہنگامی منصوبے پر کام کیا جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: یونیسیف کو پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی اُمید

عامر اشرف نے بتایا کہ قومی اور صوبائی پولیو ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کی ٹیموں کو حالیہ کیس کی تفتیش کے لیے تعینات کردیا گیا ہے جبکہ پاکستان میں وائلڈ پولیو وائرس مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے ہنگامی بنیاد پر مہم شروع کردی گئی ہے۔

این ای او سی کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی خیبرپختونخوا کو پولیو کے حوالے سے خطرناک علاقہ قرار دیا گیا تھا جہاں 2021 کی آخری سہ ماہی میں انوائرنمنٹل نمونوں میں وائلڈ پولیو وائرس کی شناخت ہوئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ وائلڈ پولیو وائرس کا مثبت انوائرنمنٹل نمونہ ڈیرا اسمٰعیل خان اور بنوں ڈویژن میں سامنے آیا تھا۔

این ای او سی کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شہزاد بیگ کا کہنا تھا کہ اس سے پروگرام کی جانب سے جنوبی خیبرپختونخوا میں وائرس سے متعلق خدشات کی تصدیق ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی خیبرپختونخوا میں اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے حکومت اور عالمی پولیو شراکت داروں نے پہلے ہنگامی بنیاد پر منصوبہ شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ٹو اور تھری دنیا بھر میں ختم ہوچکی ہے جبکہ ڈبلیو پی وی ون اب تاریخی سطح پر کم ترین ہیں۔

ادارے کی جانب سے کہا گیا کہ رواں برس دو اور کیسز افغانستان اور ملاوی میں رپورٹ ہوئے تھے۔

حکومت پولیو کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے، وفاقی وزیر صحت

وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پولیو کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور بچوں کی بہترین صحت کے لیے تمام سہولیات بروئے کار لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ہمارا مذہبی اور اخلاقی فریضہ ہے، پولیو کے خاتمے کے لیے ہمیں اپنی کوششوں کو دوگنا کرنا ہو گا، پولیو کے خاتمے کے لیے میڈیا، سول سوسائٹی، علما اور والدین کو کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا، پولیو کے خاتمے کے لیے مؤثر اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔

مزید پڑھیں: پولیو ویکسین کی کہانی: اس میں ایسا کیا ہے جو ہر سال 30 لاکھ زندگیاں بچاتی ہے

وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کو پولیو پروگرام کے بارے میں کورآڈینیٹر پاکستان پولیو پروگرام ڈاکٹر شہزاد بیگ نے تفصیلی بریفنگ دی اور کہا کہ پولیو کیسز میں تاریخی کمی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد پولیو کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گی اور بتایا کہ حکومت کی بھرپور حمایت، شراکت داروں کے تعاون، صوبائی حکومتوں اور سیکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کیسز میں تاریخی کمی ہوئی ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گا۔

وزیر صحت نے پولیو کے فرنٹ لائن ورکرز کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ یہ ہمارے ہیرو ہیں اور وفاقی حکومت کی جانب سے بھرپور تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

ضرور پڑھیں

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی میں اگر امن وامان، دیانت داری، فرض شناسی اور ذمہ داری کا احساس کرنے والی قیادت منتخب ہو جائے تو عوام کو اچھی سڑکیں، اسپتال، اسکول اور پانی تو نصیب ہوگا۔

تبصرے (0) بند ہیں